وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی پشاور رنگ روڈ ناردرن سیکشن پیکج ون کی افتتاحی تقریب سے خطاب

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ آج خوشی کا موقع ہے کہ پشاور رنگ روڈ کے مسنگ لنک کا پیکج ون مکمل ہو چکا ہے۔ انشاءاللہ تعالیٰ باقی فیزز پر بھی کام جاری ہے، تاہم کچھ مقامات پر زمین کے مسائل درپیش ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام معاملات قانون اور انصاف کے مطابق حل کیے جائیں۔ہم ایک عوامی حکومت ہیں اور عوامی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ کسی کی زمین لے کر اسے معاوضہ نہ دینا ناانصافی ہوگی، اس لیے تمام لینڈ ایشوز شفاف طریقے سے حل کیے جائیں گے تاکہ ترقی کا یہ سفر بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی جب سے ہم نے پشاور ریوٹیلائزیشن پلان کے تحت 200 ارب روپے کا پیکج دیا ہے تو کچھ مخصوص عناصر کی جانب سے شور شرابہ شروع ہو گیا ہے۔ دراصل یہ وہی ذہنیت ہے جو ہمیشہ سے پختونوں اور خیبر پختونخوا کے خلاف رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا کہ ہم تو کھلی دعوت دیتے ہیں کہ ہر صحافی، ہر ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم اور ہر فرد کو مکمل آزادی ہے کہ وہ تنقید کرے، خاص طور پر وہ تنقید جو اصلاح کے لیے ہو، ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں۔جیسے حال ہی میں ٹینڈر کے معاملات میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو بھی تکنیکی طور پر نااہل ہوگا وہ خود بخود آؤٹ ہوگا، اور اگر کوئی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف انکوائری اور سزا دونوں ہوں گی۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایک روپیہ بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہم خود احتساب کے لیے تیار ہیں۔ یہ وہی طرزِ سیاست ہے جو عوامی طاقت سے آتا ہے اور عمران خان کے وژن کی پیروی کرتا ہے نہ کہ وہ جو ذاتی مفادات یا کرپشن کے ذریعے اقتدار میں آئے۔میں خاص طور پر ان صحافی برادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو خیبر پختونخوا سے محبت رکھتے ہیں اور صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ہم ڈرون حملوں کے خلاف بھی واضح مؤقف رکھتے ہیں، کیونکہ یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے صوبے اور اس کی عوام کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اس پر آواز اٹھاتے ہیں تو ہم سب کو مل کر ایک مضبوط آواز بننی چاہیے۔یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور اس کے وسائل بھی عوام کی امانت ہیں۔ جب اربوں کھربوں روپے کی بات ہوتی ہے تو یہ کسی فرد کی جیب نہیں بلکہ عوام کا حق ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہر سطح پر شفافیت ہو اور جو بھی عوام کے پیسوں میں خیانت کرے اس کا حساب لیا جائے۔ یہ جنگ ذاتی نہیں بلکہ حق اور عوامی مفاد کی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اس مؤقف کو آگے بڑھائیں۔

جواب دیں

Back to top button