وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ کا اہم اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے مختلف شعبوں کے نئے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں محکمہ ایکسائز، بلدیات، کلائمیٹ چینج، خوراک، ہاؤسنگ، داخلہ، زراعت، لائیو اسٹاک اور توانائی کے مجوزہ منصوبے زیر بحث آئے۔ وزیراعلیٰ کا واضح مؤقف: سال 2026-27 کا بجٹ نوجوانوں، غریب اور متوسط طبقے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جائے گا۔🔵 اگلے ترقیاتی پروگرام میں کوہاٹ، مردان، پشاور اور ضم اضلاع کو سیف سٹیز بنانے کی تجویز پیش۔🔵 پشاور سے غلہ گودام کی منتقلی کیلئے متبادل جدید گودام کے قیام کی ہدایت۔🔵 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس گوداموں کے قیام کی تجویز۔🔵 مختلف اضلاع میں 8 نئے ایکسائز تھانوں کیلئے زمین کی خریداری کی اسکیم زیر غور۔🔵 جیلوں کی سیکیورٹی، تھانوں کی مضبوطی، اسپیشل برانچ کو جدید آلات کی فراہمی اور سی ٹی ڈی کے ضلعی سیٹ اپ کے قیام کی تجویز۔🔵 ضم اضلاع میں منی سولر گرڈ، تیراہ میں مائیکرو ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کی بحالی اور نئے فیڈرز کی اسکیمیں۔🔵 22 میگاواٹ پاتراک شرینگل ہائیڈرو پاور اسٹیشن منصوبہ شامل کرنے پر غور۔🔵 ضم اضلاع میں تمام سرکاری دفاتر کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت۔🔵 نوجوانوں کیلئے جدید اسکلز، ٹریننگ اور ای کامرس کے فروغ کیلئے خصوصی اسکیموں کی تیاری کی ہدایت۔🔵 ضم اضلاع میں تین سمال انڈسٹریل اسٹیٹس، نوجوانوں کیلئے مالی معاونت اور آسان کاروباری یونٹس کے قیام کی تجویز۔🔵 کلائمٹ چینج اتھارٹی کے قیام، فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی بحالی اور خواتین کی نان ٹمبر فارسٹ پراڈکٹس میں شمولیت کیلئے اسکیمیں۔🔵 جنگلات کے رقبے میں اضافے کیلئے تین سالہ جامع پلان طلب، خصوصی اسکیم کی تیاری کی ہدایت۔🔵 ضم اضلاع میں فروٹ و سبزی منڈیاں، جدید ذبح خانے اور ماڈرن سینیٹیشن ویلیجز کے قیام کی تجویز۔🔵 لائیو اسٹاک سیکٹر میں جانوروں کی بیماریوں کی رئیل ٹائم نگرانی، بائیو گیس منصوبے اور باغبانی کیلئے بلاسود قرضے۔🔵 ٹراؤٹ فش، پولٹری فارمنگ، موبائل ویٹرنری کلینکس اور لائیو اسٹاک کے فروغ کیلئے خصوصی اسکیمیں۔🔵 اینیمل رائٹس پالیسی کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت۔🔵 ضم اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن منصوبے کو فاسٹ ٹریک پر ڈالنے کی ہدایت۔🔵 منی و مائیکرو ہائیڈرو پاور منصوبوں کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔

جواب دیں

Back to top button