بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز دیرینہ مسئلہ حل نہ ہوا توہڑتالوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کریں گے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور(بلدیات ٹائمز)خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین کے بچوں نے ہمیشہ کی طرح رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ بھوک پیاس اور فاکوں سے گزار دیا جب کہ عیدالفطر کا موقع بھی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بھوک و افلاس میں گزارا۔مزید برآں بلدیاتی اداروں سے وابستہ عیسائی کمیونٹی کے ملازمین کے بچے بھی فنڈز کی عدم دستیابی، تنخواہوں اور پنشن کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایسٹر کی خوشیوں سے محرومی میں گزار دیا۔ دوسری طرف اکاونٹ فور سے بلدیاتی اداروں کے پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کی سمری فنانس اور قانون کی وزارتوں کی طرف سے بے جا اعتراضات کے باعث محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام کی جانب منہ چڑاتی رہی۔تفصیلات کے مطابق کمزور مالی پوزیشن والی TMAs کے بلدیاتی اداروں کے مسلمان ملازمین اور پنشنرز کے بچوں نے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہی نہیں بلکہ عید الفطر کی خوشیاں بھی بھوک ، افلاس اور فاکوں میں گزار دئے جب کہ عیسائی کمیونٹی کے ملازمین کے بچوں نے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اپنی ایسٹر کی خوشیاں بھی قربان کر دیں۔فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے خصوصی گرانٹ کی عدم فراہمی اور اکاؤنٹ فور سے پنشن کی سمری پر بے جا اعتراضات کی وجہ سے ملازمین اور پنشنرز تاحال تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں اور کئی کئی مہینوں کی تنخواہوں اور پنشن سے محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ محکمہ بلدیات اور لوکل کونسل بورڈ کے افسران عیش عشرت سے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچے فاکوں کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کو غربت کے مارے ملازمین اور پنشنرز کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں مل رہا۔ لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران شوکت کیانی ، حاجی انور کمال خان مروت، محبوب اللہ ، سلیمان خان ہوتی اور شوکت علی انجم نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ، وزیر بلدیات میںا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ، سیکریٹری فنانس کپٹن ریٹائرڈ کامران علی خان، سیکریٹری قانون، سیکریٹری بلدیات و دہہی ترقی خیبرپختونخوا ظفرالاسلام خٹک اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ وحید الرحمان خان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غریب بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کے حال پر رحم کھا کر بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو اکاؤنٹ فور سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کی منظوری دے کر بلدیاتی ملازمین کے بچوں کو بھوک اور فاکوں سے نجات دلانے کے لئے بھر پور کردار ادا کریں۔بصورت دیگر بلدیاتی اداروں کے ملازمین ہڑتالوں کا لا متناہی سلسلہ شروع کریں گے جس کی تمام تر زمہ داری صوبائی حکومت کے محکمہ مالیات، محکمہ قانون اور محکمہ بلدیات و دہہی ترقی پر عائد ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button