گیارہ سالہ انتظار کے بعد ڈبلیو ایس ایس پی کے1800 ملازمین کے حقوق کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ پہنچ گیا،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا

ڈبلیو ایس ایس پی کے تقریباً 1800 ملازمین کی مستقلی، سروس سٹرکچر، سنیارٹی، ترقیوں اور دیگر قانونی و آئینی حقوق کے حصول کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام کو 11 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم ادارے کے سینکڑوں ملازمین آج بھی مستقلی، واضح سروس سٹرکچر، ترقیوں اور دیگر بنیادی ملازمتی حقوق سے محروم ہیں۔ ملازمین نے اس دوران ادارے کی ترقی، شہر کی صفائی اور عوامی خدمت کے لیے مسلسل خدمات سرانجام دیں، لیکن ان کے مستقبل اور ملازمتی تحفظ کے حوالے سے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔درخواست گزار کی جانب سے زیارت خان مومند ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان اور ارسلان آفریدی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ پشاور نے آئینی درخواست جمع کرائی، جس میں معزز عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی ملازمین کو آئین اور قانون کے مطابق ان کے جائز حقوق فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ناصر خان آفریدی نے کہا کہ یہ مقدمہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ڈبلیو ایس ایس پی کے تقریباً 1800 ملازمین اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ملازمین نے گزشتہ 11 برسوں کے دوران ہر مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ادارے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، لہٰذا انہیں ملازمتی تحفظ، مستقلی اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد تصادم نہیں بلکہ قانون اور انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے ملازمین کے جائز حقوق کا حصول ہے۔ امید ہے کہ معزز پشاور ہائی کورٹ اس اہم عوامی اور ملازمتی معاملے میں قانون کے مطابق فیصلہ صادر فرمائے گی۔انہوں نے تمام ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط اور باہمی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے اس قانونی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ اجتماعی حقوق کے حصول کی یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button