وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو!

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی فیملی سے ملاقات نہ کروا کر بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ جیل قوانین کے تحت قیدی کو اہلِ خانہ، وکلاء اور ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔عمران خان کی طبی معائنے اور علاج کے لیے فیملی کی موجودگی میں ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی اور ملکی ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ملاقاتوں پر پابندیوں نے عوام اور پارٹی کارکنوں میں سوالات اور تشویش پیدا کر دی ہے کہ عمران خان کو مسلسل تنہائی میں کیوں رکھا جا رہا ہے اور ان تک رسائی کیوں محدود ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام نے عمران خان کے وژن پر اعتماد کیا ہے، اس لیے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری میں ان کی رہنمائی اور مشاورت ضروری ہے۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اور وزیر خزانہ عمران خان سے بجٹ کے حوالے سے ملاقات کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے تاکہ بجٹ تجاویز ان کے سامنے پیش کی جا سکیں۔ اگر خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رکھا گیا اور ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو 10 جون کو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کیا جائے گا اور وفاقی بجٹ کی منظوری کے خلاف بھرپور سیاسی ردعمل دیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button