*ڈنمارک کی سفیر سے ملاقات، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی گرڈ سے سستی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا منصوبہ پیش کردیا*

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی گرڈ کے ذریعے سستی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا ایک جامع منصوبہ پیش کرتے ہوئے گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے یہ وژن وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈنمارک کی سفیر مایا دیروس مورٹنسن سے ملاقات کے دوران پیش کیا، جہاں دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع، قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی پائیداری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت کم لاگت بجلی پیدا کرنے اور اپنی ٹرانسمیشن کمپنی کے ذریعے اس کی مؤثر ترسیل کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد پیداوار کی کارکردگی بہتر بنا کر اور لائن لاسز کم کر کے گھریلو اور صنعتی صارفین دونوں کے لیے سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہے اور مزید کہا کہ کم قیمت بجلی سے عوام کو براہِ راست ریلیف اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ خصوصاً پسماندہ اور صنعتی علاقوں کو بلا تعطل اور کم لاگت بجلی فراہم کرنے کے لیے ترسیل میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے صوبے میں قابلِ تجدید توانائی کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے بڑے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ونڈ کوریڈور اور اس سے متعلق منصوبوں کی ترقی سندھ کو صاف توانائی کا علاقائی مرکز بنا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور ڈنمارک کی کمپنیوں کو ہوا سے بجلی اور دیگر گرین انرجی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔سفیر مورٹنسن نے سندھ کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے، خصوصاً ونڈ انرجی میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ماحولیاتی طور پر پائیدار منصوبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گرین انرجی میں تعاون دونوں فریقین کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

کیٹی بندر

اجلاس میں ساحلی ترقی پر بھی تبادلہ خیال ہوا جہاں وزیر اعلیٰ نے کیٹی بندر کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تاریخی بندرگاہ کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کراچی کی موجودہ بندرگاہوں پر دباؤ کم ہو اور نئی معاشی سرگرمیوں کے مواقع پیدا ہوں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کیٹی بندر ایک بڑے معاشی اور علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی ترقی میں دلچسپی رکھنے والے ڈینش سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ڈینش سفیر نے کیٹی بندر کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ترقی علاقائی تجارت اور روابط کو نمایاں طور پر فروغ دے سکتی ہے۔دونوں فریقین نے توانائی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا اور پاکستان-ڈنمارک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دی گئی۔وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت پائیدار ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی فروغ سے متعلق شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

جواب دیں

Back to top button