وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آذر کا آل پارٹیز کانفرنس سے اہم خطاب

وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں یومِ استحصال کشمیر کو عوامی و سرکاری سطح پر منا کر بین الاقوامی برادری کو بیدار کرنے اور متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آذر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور بے گناہ بہن بھائیوں کا مقدمہ عالمی ایوانوں میں لڑنا، ان کی سیاسی و سفارتی حمایت کرنا اور بھارتی مظالم کے خلاف متفقہ آواز بلند کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی سب سے پہلی، اہم اور بنیادی قومی ذمہ داری ہے۔ اس اہم اور تاریخی موقع پر سابق وزیر اعلیٰ و قائد حزب اختلاف حفیظ الرحمن سمیت خطے کی تمام نمائندہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے مشترکہ طور پر کشمیری عوام کے ساتھ کامل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ کانفرنس میں شریک تمام سیاسی رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ امجد حسین آذر کے اس اقدام اور کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعلیٰ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے عملی اور متفقہ جدوجہد کی بنیاد رکھی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی جبر، غصبانہ قبضے، شدید استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اس عزم کو دہرایا کہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا یہ سلسلہ صرف ایوان اور اسمبلی کے فلور تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کو عوامی سطح پر بھی ہر فورم تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اور عوامی سطح پر ’یومِ استحصال‘ منا کر بین الاقوامی برادری کو یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو یاد رکھے اور اپنی اخلاقی و قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے دوہرے معیار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی بنیادی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سرعام دھجیاں اڑائے جانے کے باوجود عالمی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ بھارت کے حکمران نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں، بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی تخریب کاری کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔ لیکن ان تمام تر مظالم اور بھارتی جارحیت کے باوجود کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس اور کشمیری عوام تمام تر مشکلات کے باوجود جس پامردی سے ڈٹے ہوئے ہیں، ان کا یہ جذبہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوگا اور یہ جدوجہد بالاخر آزادی کی منزل حاصل کر کے رہے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کانفرنس میں شرکت پر تمام سیاسی قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ گلگت بلتستان سے عالمی سطح پر یہ یک زبان پیغام پہنچایا جائے گا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button