*وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے انجمن امامیہ کے نمائندہ وفد کی ملاقات*

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے انجمن امامیہ کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر انجمن امامیہ کے نمائندہ وفد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ جس طرح بلامشافہ عام عوام سے مل کر ان کے مسائل حل کررہے ہیں وہ قابل تحسین اقدام ہے۔ پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے غریب عوام کی وزیر اعلیٰ تک رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ امید ہے کہ آپ کے دور اقتدار میں گلگت بلتستان کے اہم مسائل حل ہوں گے۔ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور امن و امان کیلئے حکومت کے ساتھ ہمارا مکمل تعاون رہے گا۔ 2012 ء کا معاہدہ گلگت بلتستان میں امن و امان کی فضاء کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے جس کے تحت مقدسات کی توہین کرنے والوں کے خلاف حکومت بلاتفریق کارروائی کرے اور اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے، ہماری جانب سے کسی مجرم کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہم گلگت بلتستان میں ہم آہنگی، بھائی چارگی اور ایک دوسرے کی عقائد کا احترام کرتے ہوئے علاقے کو امن و امان کے حوالے سے مثالی خطہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ ایک اچھے ماحول میں گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا جاسکے۔ اہلیت، میرٹ اور انصاف کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔ علاقے کے وسیع تر مفاد میں ہمیں ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اپنے حصے کاکردار ادا کرنا ہوگا۔ گلگت بلتستان کی ترقی اور معیشت کا انحصار یہاں کے امن و امان پر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بجٹ میں 8 ارب روپے غریبو ں، بیواؤں، نادرا اور مستحق افراد کی معاونت اور گلگت بلتستان کی یوتھ کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا کیلئے مختص کئے گئے ہیں تاکہ مستحق لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنائی جاسکے۔ گلگت بلتستان کے عوام کا مسئلہ روزگار، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معاشی استحکام ہے۔ سرکاری ملازمین کے علاوہ یہاں کے بے روزگار نوجوانوں، معذور، نادرا اور مستحق افراد کیلئے روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکردو میں علمائے کرام کی باہمی اتفاق، محبت اور ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے علاقے کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کی وجہ سے سکردو کی معیشت میں بہتری آرہی ہے اور سیاحت کو فروغ مل رہاہے۔

جواب دیں

Back to top button