شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر میرانشاہ میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور افسران کی غیر حاضری کے خلاف احتجاجی ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کے باعث شہر میں میونسپل سروسز معطل ہو گئی ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج اور کام چھوڑو تحریک جاری رہے گی۔
احتجاجی مظاہرے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملازمین کے نمائندوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار ماہ سے انہیں تنخواہیں نہیں ملیں، جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے اور وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایم اے کے اعلیٰ افسران شمالی وزیرستان میں موجود ہونے کے بجائے بنوں سے دفاتر چلا رہے ہیں، جس سے نہ صرف انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ عوامی مسائل بھی حل نہیں ہو پا رہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ افسران فوری طور پر میرانشاہ میں اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ انتظامی معاملات بہتر ہو سکیں اور عوامی خدمت مؤثر طریقے سے جاری رکھی جا سکے۔احتجاج کے دوران یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ٹی ایم اے کی گاڑیوں کے لیے ڈیزل تک دستیاب نہیں، جس کے باعث صفائی ستھرائی اور دیگر میونسپل کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ملازمین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، شہر کی صفائی اور دیگر میونسپل خدمات بحال نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپریل کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور افسران کی جائے تعیناتی پر مکمل حاضری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ہڑتال کے باعث میرانشاہ شہر میں صفائی کا نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس پر شہریوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔






