وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت کابینہ کی سب کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت کابینہ کی سب کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کراچی کے دیرینہ شہری مسائل کے حل کے لیے بڑے فیصلے کرتے ہوئے انفراسٹرکچر، سڑکوں کی بحالی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری دے دی گئی، اجلاس میں صوبائی وزراء ضیاء الحسن لنجار اور سعید غنی سمیت مختلف محکموں کے سیکریٹریز، مالیاتی و تکنیکی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں کراچی کے شہری ڈھانچے کی بہتری کو اولین ترجیح دیتے ہوئے 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 13 ارب روپے کی منظوری دی گئی جس کے تحت ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی تعمیر نو، پیچ ورک اور مرکزی شاہراہوں کی اپ گریڈیشن شامل ہوگی اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی، اسی طرح کورنگی صنعتی علاقے میں پرانے سیوریج پمپنگ اسٹیشن کی ہنگامی مرمت کے لیے 364 ملین روپے کی خصوصی گرانٹ کی منظوری دی گئی جہاں بارشوں کے دوران نکاسی آب کے شدید مسائل درپیش رہتے ہیں، اجلاس میں لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ 32 انچ قطر کی پائپ لائن بچھانے کے لیے 1258.859 ملین روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی گئی جسے شہر کے ڈرینیج سسٹم کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نکاسی آب کے نظام کی بہتری سے شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل میں واضح کمی آئے گی، مزید برآں تعلیمی اداروں، عدالتوں اور اسپتالوں کے انفراسٹرکچر کی مرمت، تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے جبکہ کراچی سمیت دیگر اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور مختلف محکموں کی مالی ضروریات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں جاری اسکیموں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لے کر متعلقہ حکام کو رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی گئی، اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت شہری مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور تمام محکموں کے سربراہان ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں، انہوں نے واضح کیا کہ فنڈز کے استعمال میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی، اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کیا جا سکے، ذرائع کے مطابق منظور کیے گئے منصوبوں پر جلد عملدرآمد شروع ہونے کا امکان ہے جس سے کراچی کے انفراسٹرکچر اور نکاسی آب کے مسائل میں نمایاں بہتری متوقع ہے جبکہ آئندہ اجلاس میں ان منصوبوں کی پیش رفت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا

جواب دیں

Back to top button