*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کا اجلاس*

پاکستان کے مقامی توانائی شعبے میں نمایاں پیش رفت کے تناظر میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ (ٹی سی ای بی) کا 30واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں کان کنی میں توسیع، ریل اور گرڈ کنیکٹیویٹی، ٹیرف میں بہتری اور نئی سرمایہ کاری اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا تاکہ تھر کول فیلڈ کو قومی توانائی اور صنعتی مرکز کے طور پر تیزی سے ترقی دی جا سکے۔انہوں نے مقامی توانائی کی تیز رفتار ترقی، کوئلے پر مبنی صنعتکاری کے فروغ اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی بورڈ اراکین، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ (ویڈیو لنک کے ذریعے)، جبکہ صوبائی بورڈ اراکین میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیر آبپاشی جام خان شورو اور دیگر شریک ہوئے۔بورڈ نے جاری تھر کول منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا، ٹیرف سے متعلق اہم معاملات کی منظوری دی اور کان کنی، بجلی پیداوار اور تھر کول فیلڈ میں ڈاؤن اسٹریم صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نئی سرمایہ کاری تجاویز پر غور کیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھر کول پاکستان کی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ایک تزویراتی ستون بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر صرف ایک کوئلہ منصوبہ نہیں بلکہ ایک قومی معاشی موقع ہے۔ ہمیں کانوں کی توسیع، انفرااسٹرکچر کنیکٹیویٹی مضبوط بنانے اور تھر کول کے ویلیو ایڈڈ صنعتی استعمال کی جانب بڑھنا ہوگا۔

*منصوبوں پر پیش رفت*

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ای سی ایم سی فیز3 منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور ستمبر 2026 میں کمرشل آپریشن حاصل کرنے کی توقع ہے۔تھر کول فیلڈ سے نیو چھور تک 105 کلومیٹر ریل لنک اور کوئلہ لاجسٹکس انفرااسٹرکچر کا تھر ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبہ اہم خریداری اہداف حاصل کرتے ہوئے پیش رفت کر رہا ہے۔بلاک2 میں ریلوے کول لوڈنگ اسٹیشن اپنے کثیر الجہتی توسیعی پروگرام کے تحت آگے بڑھ رہا ہے جو تھر کول منصوبے سے منسلک ہے۔ کمپوننٹ 2 میں تھر کول مائنز سے نیو چھور اسٹیشن تک 105 کلومیٹر نئی سنگل لائن ریلوے ٹریک کی تعمیر شامل ہے جبکہ کمپوننٹ 3 میں بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر نئی ڈبل لائن ٹریک شامل ہے۔ کمپوننٹ 4 میں پورٹ قاسم/ایل پی پی اسٹیشن پر کوئلہ ان لوڈنگ پٹ کی تعمیر شامل ہے۔رولنگ اسٹاک پلان کے مطابق روزانہ پانچ ٹرینیں چلیں گی، ہر ایک 40 ویگنوں پر مشتمل ہوگی، جس کے لیے روزانہ 200 ویگن درکار ہوں گی۔ دو روزہ ٹرن اراؤنڈ وقت کے ساتھ مجموعی طور پر 400 ویگنوں کی ضرورت ہوگی۔ مجموعی پیش رفت کے مطابق ٹریک سے متعلق کام، بشمول کٹنگ اور فلنگ، 58.82 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ارتھ کٹنگ 61.99 فیصد، ایمبینکمنٹ کے لیے ارتھ ورک 92.45 فیصد، 45 کلوگرام ریلز کی خریداری 67.80 فیصد مکمل ہے جبکہ ایلاسٹک ریل فاسٹننگز (ڈبلیو-14) اور پی ایس سی مونو بلاک سلیپرز کی خریداری 100 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔تاہم سول ورکس، جیسے اسٹیشن عمارات اور کلورٹس، 43.38 فیصد پر ہیں، جو منصوبے میں باقی کام کے دائرہ کار کو ظاہر کرتے ہیں۔تھر کول بلاک1 اور 2 کے لیے 132 کے وی ہیسکو گرڈ کنیکٹیویٹی پر کام جاری ہے، جس کی تکمیل 2028 تک متوقع ہے اور اس کے فعال ہونے پر مائننگ پاور لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ وفاقی وزیر کی این جی سی کمیٹی نے 132 کے وی حیسکو کنیکشن کو کم ترین سرمایہ کاری اور مختصر ترین مدت والا آپشن قرار دیتے ہوئے توثیق کی ہے، جبکہ درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں اور متعلقہ مطالعات جاری ہیں۔منصوبے سے بجلی لاگت تقریباً 60 فیصد کم ہو کر 33 امریکی سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ سے 13 سینٹ رہ جانے کا تخمینہ ہے، جس سے کوئلے کا ٹیرف 0.7 ڈالر فی ٹن کم ہوگا اور سالانہ تقریباً 9 ملین ڈالر بچت متوقع ہے۔گرڈ لنک الیکٹرک وہیکل فلیٹ کی منتقلی بھی ممکن بنائے گا، جس سے مزید زرمبادلہ بچت ہوگی۔ منصوبے کی مجموعی کیپیکس 5 ارب روپے ہے اور سرمایہ کاری واپسی کی مدت تقریباً دو سال ہے۔ اسلام کوٹ گرڈ اسٹیشن اور نوکوٹ اسلام کوٹ ٹرانسمیشن لائن مکمل ہو چکی ہے جبکہ اسلام کوٹ مائن ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے۔ ای پی سی بولی اور ایوارڈ 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں جبکہ تعمیر 2027-28 میں متوقع ہے، جس کے بعد گرڈ پاور کی کمرشل آپریشن تاریخ آئے گی۔کوئلہ خشک کرنے، مائننگ فلیٹس کی برقی کاری اور ڈاؤن اسٹریم صنعتی استعمال پر بھی پیش رفت جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ریل کنیکٹیویٹی اور گرڈ پاور انضمام کو ترجیحی صوبائی انفرااسٹرکچر منصوبے تصور کیا جائے کیونکہ بروقت تکمیل سے توانائی لاگت کم اور مسابقت بہتر ہوگی۔ انہوں نے نان آئی پی پی کوئلہ فروخت گائیڈ لائنز جلد حتمی بنانے پر بھی زور دیا تاکہ کھاد اور دیگر ڈاؤن اسٹریم شعبوں سمیت تھر کول کا وسیع صنعتی استعمال ممکن ہو سکے۔

*نئی سرمایہ کاری تجاویز*

بورڈ نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے بھیجی گئی دو بڑی سرمایہ کاری تجاویز پر غور کیا، جن میں تھرپاک انرجی اینڈ انڈسٹریلائزیشن انیشی ایٹو (امریکا) شامل ہے، جو مربوط کان کنی، بجلی اور کول ٹو لیکوئیڈ/گیس منصوبے تجویز کرتا ہے۔گیگا گروپ کے بلاک 8 منصوبے میں کوئلہ کان کنی، 660 میگاواٹ پاور پلانٹ اور ڈاؤن اسٹریم صنعتی استعمال شامل ہے۔مراد علی شاہ نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو “بینک ایبل، قابل عمل اور ویلیو ایڈڈ سرمایہ کاری” کے اصول کے تحت مزید جائزہ لینے کی ہدایت دی۔

*سستی مقامی توانائی پر توجہ*

وزیراعلیٰ نے کہا سندھ تھر کے مقامی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے سستی بجلی پیدا کرنے اور درآمدی انحصار کم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر سے پیدا ہونے والا ہر اضافی یونٹ پاکستان کی توانائی خودمختاری کو مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کوئلہ، ٹرانسمیشن، ریل اور صنعتی نظام کی ترقی کو ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کول ٹو فرٹیلائزر، صنعتی ایندھن کے استعمال اور برآمدی بنیادوں پر ڈاؤن اسٹریم صنعتوں کے لیے صوبائی اور وفاقی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔بورڈ نے تھر کول ٹیرف ڈیٹرمنیشن کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی، جو بلاک-1 (ایس ایس آر ایل) اور بلاک 2 (ایس ای سی ایم سی) کے ٹیرف معاملات، ملٹی ایئر ٹیرف اور سہ ماہی انڈیکسیشن ایڈجسٹمنٹس سے متعلق تھیں، جبکہ کمیٹی اراکین کی مدت میں توسیع کی بھی توثیق کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ای سی ایم سی کی 7.6 ایم ٹی پی اے مائن ٹیرف 34.77 ڈالر فی ٹن مقرر کی گئی، جو درخواست کردہ ٹیرف سے کم ہے، جبکہ ایس ایس آر ایل کی ٹیرف ڈیٹرمنیشن پائیداری اور مستقبل کی توسیع میں معاون ہوگی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایس ای سی ایم سی کا طویل المدتی ہدف 2030 تک مائن صلاحیت 20 ملین ٹن سالانہ تک بڑھانا ہے جبکہ مجوزہ کول ٹو یوریا فرٹیلائزر پلانٹ سمیت متعلقہ صنعتی اقدامات تھر کو مربوط توانائی و صنعتی مرکز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے تمام شراکت داروں کو عملدرآمد رکاوٹیں دور کرنے اور انفرااسٹرکچر، سرمایہ کاری سہولت کاری اور صنعتی تنوع سے متعلق فیصلوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تھر سندھ کے ترقیاتی وژن اور پاکستان کے توانائی مستقبل کا مرکز ہے، ہمیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button