*سندھ اور ازبک صوبے ناوائی کے درمیان وسیع تعاون پر اتفاق*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ازبکستان کے ناوائی ریجن کے گورنر تورسنوف نورمت تُلکونووچ نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں میں بین العلاقائی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا جس میں پاکستان ازبکستان مفاہمت کو عملی صوبائی سطح کی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔یہ مفاہمت وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس میں ازبک وفد نے شرکت کی۔ وفد میں سفیر علی شیر خاکیمووچ تُختائیف، ڈپٹی گورنر غفوروف البیک استامووچ، کونی میخ ضلع کے میئر روزیئیف رسلان نصیرووچ، ناوائی شہر کے میئر ارگاشیف دلمراد بیکمرادوچ، اُچقدوق ضلع کے میئر الموراتوف اُچکن فیض اللہ ایوچ، جے ایس سی ’’ناوائی ازوت‘‘ کے ڈپٹی چیئرمین برائے سرمایہ کاری جورائیف نذیرجون حمیدووچ، ’’ناوائی‘‘ فری اکنامک زون کے سربراہ بوٹیروف میخروج پُلاتووچ، ناوائی ریجن کے سینئر حکام، جبکہ سندھ کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ صوبائی حکام بھی شریک تھے۔وزیراعلیٰ کی معاونت وزیر آبپاشی و منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، قائم مقام چیف سیکریٹری و کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری لائیو اسٹاک کاظم جتوئی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری صنعت شادیہ جعفر، چیف ایگزیکٹو آفیسر دھابیجی اسپیشل اکنامک زون عظیم عقیلی نے کی۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ ازبکستان کے ساتھ خاص طور پر دونوں ممالک کی قیادت کے حالیہ روابط اور تجارت و اقتصادی تعاون کے مشترکہ ورکنگ گروپ (2026-30) کے تحت اختیار کردہ روڈ میپ کے تناظر میں تعلقات کے فروغ کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اجلاس میں سندھ اور ناوائی ریجن کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں حکومت سے حکومت روابط، وفود کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں اشتراک شامل ہے۔

*سرمایہ کاری اور صنعت پر توجہ*

مراد علی شاہ نے سندھ کی صنعتی اور سرمایہ کاری صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے بالخصوص دھابیجی اسپیشل اکنامک زون، انڈسٹریل پارکس، کیمیکلز، ٹیکسٹائل، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ازبک سرمایہ کاروں کو سندھ میں شراکت داری تلاش کرنے کی دعوت دی۔دونوں جانب سندھ کے صنعتی شعبے اور ناوائی فری اکنامک زون کے درمیان تعاون، مشترکہ منصوبوں، بزنس ٹو بزنس روابط اور تجارتی فروغ کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

*زراعت اور لائیو اسٹاک میں تعاون*

دونوں جانب زراعت میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا جن میں بیجوں کی ترقی، فصلوں پر تحقیق، زرعی تجارت، لائیو اسٹاک ترقی، حلال مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، پانی بچانے والی کاشتکاری اور ایگرو پروسیسنگ میں ازبکستان کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔لائیو اسٹاک، فشریز اور زرعی برآمدات میں تعاون بھی زیر بحث آیا، جس میں دونوں جانب ادارہ جاتی روابط اور نجی شعبے کے اشتراک کو فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔

*توانائی، معدنیات اور سیاحت*

سندھ کے وسائل اور ناوائی کی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس میں معدنیات، جیولوجی، توانائی اور مائننگ ڈویلپمنٹ میں تعاون، معلومات کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔سیاحت اور ثقافتی تعاون بھی نمایاں رہا، جس میں ورثہ سیاحت، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کے فروغ کی تجاویز زیر بحث آئیں، جو شاہراہ ریشم کے تاریخی روابط سے جڑی ہیں۔

*شہری اور علاقائی روابط*

وزیراعلیٰ نے سندھ کے اسٹریٹجک محل وقوع اور انفراسٹرکچر منصوبوں کو اجاگر کرتے ہوئے علاقائی روابط، لاجسٹکس اور تجارتی راہداریوں کی بہتری پر بات کی، جو پاکستان-ازبکستان تعاون کو مزید وسعت دے سکتی ہیں۔اجلاس میں شہری نظم و نسق، سرمایہ کاری سہولت کاری، ماحولیاتی تعاون اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔دونوں جانب تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک کی جانب پیش رفت اور متعلقہ محکموں و اداروں کے ذریعے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی پر اتفاق کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ سفارتی خیرسگالی کو عملی شراکت داری میں بدلنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت، سیاحت اور سرمایہ کاری میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور سندھ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔گورنر تورسنوف نے سندھ کے ساتھ براہ راست روابط استوار کرنے اور ادارہ جاتی روابط، کاروباری تعاون اور مہارت کے تبادلے کے ذریعے تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سندھ اور ازبکستان کے ناوائی ریجن کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور وسیع اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے صوبائی سطح پر مسلسل روابط کے روڈ میپ پر عملدرآمد پر اتفاق کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button