ہائیکورٹ بلوچستان کی ہدایت پر جوائنٹ روڈ کے مسائل کے حل کیلئے اہم اجلاس، سروے اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

ہائیکورٹ بلوچستان کی ہدایت پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت جوائنٹ روڈ پر دکانوں، ٹریفک کی روانی، تجاوزات اور دیگر شہری مسائل کے مستقل حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن زاہد خان، اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ، پاکستان ریلوے، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس، متعلقہ محکموں کے افسران اور سینئر وکلاء نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جوائنٹ روڈ پر درپیش مختلف مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کے مستقل حل کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ریلوے سوسائٹی کے رہائشیوں کی بنیادی ضروریات اور مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ یہ ٹیم جوائنٹ روڈ پر قائم دکانوں، کاروباری سرگرمیوں، پارکنگ، ٹریفک کی صورتحال اور دیگر امور کا تفصیلی سروے کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔اجلاس میں تجاوزات اور غیر قانونی ریڑھیوں کے خاتمے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹریفک پولیس کو مشترکہ کارروائی کی ہدایت جاری کی گئی۔اجلاس میں جوائنٹ روڈ پر قائم دکانوں کی مکمل تعداد اور ان کی قانونی حیثیت کے تعین کے لیے جامع سروے کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ یہ سروے میٹروپولیٹن کارپوریشن، تحصیل انتظامیہ، پاکستان ریلوے اور جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل کیا جائے گا تاکہ سرکاری ریکارڈ اور زمینی حقائق کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سروے اور متعلقہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں ہائیکورٹ بلوچستان کے احکامات کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا تاکہ جوائنٹ روڈ پر پیدا ہونے والے مسائل کا مستقل اور مؤثر حل یقینی بنایا جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ روڈ کے مسئلے کے حوالے سے ہائیکورٹ بلوچستان کے احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے جوائنٹ روڈ پر قائم دکانوں کے لیے عوامی سہولت کے پیش نظر باتھ رومز کی تعمیر کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے واضح کیا کہ جوائنٹ روڈ کو پہلے ہی نو کارٹ زون قرار دیا جا چکا ہے، لہٰذا سڑک پر کسی بھی قسم کی ریڑھی یا غیر قانونی کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہوٹلوں کے سامنے گاڑیوں میں خدمات فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ اسکے باعث ٹریفک جام اور رش کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔کمشنر نے کہا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت توسیعی منصوبوں میں روڈ پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے اور اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی زمینوں کو کمرشل ایریا میں تبدیل کرنے کے حوالے سے مختلف فریقین کے تحفظات موجود ہیں، لہٰذا اس مسئلے کے حل کے لیے ایسا قابلِ عمل اور متوازن طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جس سے تمام متعلقہ فریق مطمئن ہوں۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے جوائنٹ روڈ کے مسائل کے حل، ٹریفک کی روانی کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button