کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو کی مجموعی کارکردگی اور ویکسینیشن سے متعلق ڈویژنل ٹاسک فورس ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی کوآرڈینیٹر ای او سی انعام الحق، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈی ایچ اوز، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، ای پی آئی نیشنل پروگرام اور دیگر متعلقہ اداروں و پارٹنرز کے افسران موجود تھے۔جبکہ ڈپٹی کمشنر پشین،قلعہ عبداللہ اور چمن اور دیگر ضلعی افسران نے ان لائن اجلاس میں شرکت کی
۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو گزشتہ انسدادِ پولیو مہمات، ٹیموں کی کارکردگی، ویکسینیشن کی صورتحال ،درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ بلاک پولیو وائرس کی نقل و حرکت کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے۔ جنوری 2025 سے اب تک حاصل کیے گئے تقریباً 64 سیمپلز میں سے 31 مثبت پائے گئے، جبکہ وائرس کی منتقلی کی بڑی وجوہات میں آبادی کی نقل و حرکت شامل ہے۔ بتایا گیا کہ کوئٹہ بلاک میں پولیو وائرس سندھ اور افغانستان سے منتقل ہو رہا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گزشتہ مہمات کے دوران زیرو ڈوز بچوں کی کوریج میں بہتری آئی ہے، تاہم بعض یونین کونسلوں میں کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹیم کوریج اور مانیٹرنگ کے نظام میں بہتری کے باعث اہداف کے حصول میں پیش رفت ہوئی ہے،جبکہ آئندہ مہمات میں بھی مؤثر اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غیر حاضر اور ڈیفالٹر ویکسینیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت دی کہ غیر فعال مراکز صحت کو فوری طور پر فعال بنایا جائے اور انسدادِ پولیو مہم کے دوران مانیٹرنگ کے عمل کو مزید سخت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹنر ادارے بھی غیر حاضر ویکسینیٹرز کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پلان اور مانیٹرنگ پلان پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ زیرو ڈوز بچوں اور ڈیفالٹر کیسز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران اور دیگر پارٹنرز کو مراکز صحت کے مسلسل دورے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر فعال مراکز اور غیر حاضر عملے کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ روٹین ویکسینیشن کوریج کو بہتر بناتے ہوئے حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام اضلاع میں اگر ڈیفالٹر ویکسینیشن کے کیسز سامنے آئیں تو متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے تناظر میں بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ واپس بھجوانے والے افغان مہاجرین کو روانگی سے قبل لازمی طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں تاکہ وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیموں کی رسائی اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر مانیٹرنگ اور کوریج کو مؤثر بنائیں۔حساس یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور والدین کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے آمادہ کرنے کے اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ بلوچستان کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔



