کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت مٹن اور بیف ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللّٰہ بادینی، ڈائریکٹر انڈسٹریز محمد اقبال، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) کوئٹہ کلیم اللّٰہ، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کوئٹہ بہادر خان، صدر مٹن اینڈ بیف ایسوسی ایشن سرمد صدیق، نائب صدر نصیب اللّٰہ بریچ، محکمہ لائیو اسٹاک، میونسپل کارپوریشن اور قصاب یونین کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔

قصاب یونین کے نمائندوں نے کمشنر کو آگاہ کیا کہ بلوچستان سے مٹن کی بڑی مقدار پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو بھی جاتی ہے جبکہ گزشتہ تین سال سے افغانستان سے زندہ جانوروں کی درآمد بند ہے جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن متاثر ہوا ہے اور گوشت مہنگا ہونے کے باعث مقررہ نرخوں پر فروخت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں ڈیمانڈ بڑھنے اور سپلائی کم ہونے کی صورتحال کے باوجود قیمتوں کو غیر ضروری طور پر بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوشت کی مقررہ نرخ سے زائد پر فروخت کسی صورت قبول نہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کیے گئے قصابوں کو فوری رہا کیا جا رہا ہے تاہم آئندہ زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قصاب یونین پر زور دیا گیا کہ وہ مقررہ نرخ پر گوشت کی فروخت کو یقینی بنائیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ قصاب یونین کے دیگر جائز مسائل کے حل کے لیے عیدالفطر کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ لائیو اسٹاک، میونسپل کارپوریشن اور یونین کے نمائندے شامل ہوں گے یہ کمیٹی مارکیٹ ڈیٹا کا جائزہ لے کر کم از کم چھ ماہ کے وقفے سے پرائس اسسمنٹ کرے گی تاکہ مستقبل میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔





