*صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 21ویں اجلاس میں خیبر پختونخوا کے لیے 56 ارب سے زائد کے 41 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری*

*وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کا صوبے کی یکساں ترقی کا عزم، حکومت خیبرپختونخوا پائیدار ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت عوامی مفاد عامہ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔*وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبے کے بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور کُشادگی کے منصوبوں کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ نئی بلیک ٹاپ سڑکوں کی تعمیر سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، کُشادگی اور جدید معیار کے مطابق تعمیر کی جانے والی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر ہو گی جبکہ مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت میسر ہو گی۔ منصوبے کے تحت شارٹ روٹس اور متبادل راستے بھی بنائے جائیں گے جس سے سفر کا دورانیہ کم ہو گا اور گھنٹوں پر محیط سفر کم وقت میں طے کیا جا سکے گا۔ یہ منصوبے بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز کے دور دراز علاقوں کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔*

پشاور: صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا 21واں اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جناب اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں تیز تر ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے 41 ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی منظوری دی گئی۔منظور شدہ منصوبوں میں صحت، تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت، کھیل اور گورننس کے اہم منصوبے شامل ہیں۔ پاپولیشن ویلفیئر میں 10 نوعمر و رپروڈکریو صحت مراکز کا قیام ،صحت کے شعبے میں ڈی آئی خان میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا قیام، صحت کی خدمات کی فراہمی کے منصوبے جس میں ایم این سی ایچ، ایل ایچ ڈبلیو پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،سعودی فنڈ برائے ترقی کے تحت ضلع سوات کبل میں پیڈز ہسپتال کا قیام، ڈی ٹاک اور انسولین فار لائف کی توسیع، ضم شدہ اضلاع میں موجودہ بنیادی مراکز صحت کی ایس بی اے سروسز کی فراہمی اور تزئین و آرائش، ضم شدہ اضلاع کی صحت کی سہولیات کے لیے 100 ماہرین، ڈاکٹروں، ای ایم اوز، نرسوں اور پیرامیڈکس کی تعیناتی، محکمہ صحت میں انڈیپیڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کا قیام اور جسمانی معذور افراد کے لیے بحالی کی خدمات کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔آبپاشی کے شعبے میں صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت خیبر پختونخوا کے وسطی و جنوبی اضلاع میں سیلاب سے تحفظ کے منصوبے، آبپاشی کے منصوبے، چیک ڈیم اور کینال پٹرول سڑکوں اور ضلع کوہاٹ میں سماری پایان ڈیم کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔ بنوں، ہزارہ، ملاکنڈ اور مردان ڈویژنز کے علاوہ ضلع کرم اپر، کرم لوئر اورکزئی میں بلیک ٹاپ سڑکوں کی کُشادگی، بحالی اور بہتری کے منصوبے بھی منظور ہوئے۔ اس کے علاوہ حویلیاں سجیکوٹ روڈ،، مانسہرہ لسن نواب روڈ، شدمن روڈ سے زروار خان کوٹ غواخہ لمن، جنوبی وزیرستان میں انظر گوری خیل سے لدھا روڈ ، ضلع ٹانک میں آر سی پلوں کی تعمیر اور بنوں شہر سے ککی روڈ کی فزیبلٹی سٹڈیز، ڈیزائن اور تعمیر بھی منظور کی گئی۔توانائی کے شعبے میں بینک آف خیبر کے تعاون سے خیبر پختونخوا گھروں کی شمسی توانائی سے بجلی فراہمی کا منصوبہ فیز اول اور دوم، جنوبی وزیرستان لوئر میں مائیکرو ہائیڈل پاور پلانٹس کی تعمیر اور کرم شلوزان میں 500 کلو واٹ منی ہائیڈرو پاور اسٹیشن وغیرہ منصوبے منظور کیے گئے۔زراعت سے متعلق سوات میں زرعی یونیورسٹی کا قیام، کھیل سے متعلق منصوبوں میں پشاور حیات آباد سپورٹس کمپلیکس اور قیوم اسٹیڈیم پشاور کے فٹبال گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔ زراعت اور لائیو اسٹاک کے لیے خیبر پختونخوا میں پائیدار ماہی گیری اور آبی زراعت کا اقدام اور بے روزگار ویٹرنری گریجویٹس کو موٹر سائیکلیں فراہم کر کے ویٹرنری صحت کی خدمات کی توسیع منظور ہوئی۔سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق خیبر پختونخوا کے لیے ڈیجیٹل گورننس منصوبہ، ضلع ملاکنڈ جبن درگئی عوامی پارک کا قیام اور جانی خیل ٹی ایس ڈی وزیر کے لیے مربوط ترقیاتی پیکج کی بھی منظوری دی گئی۔

جواب دیں

Back to top button