وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان نے تورمک کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے تورمک کو باضابطہ طور پر آفات زدہ علاقہ (Calamity-hit Area) قرار دینے، تمام رابطہ سڑکوں کو پختہ (میٹل) بنانے اور بجلی، پینے کے پانی و آبپاشی کے نظام کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا اعلان کیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے متاثرین اور مقامی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”یہ خطہ قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے اور ہمیں ان چیلنجز کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ تاہم، حکومت اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام مسائل کے حل کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔”انہوں نے ہدایت کی کہ بحالی کے کاموں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ صرف اصل حقداروں کو ہی ان کا حق مل سکے۔ سڑکوں اور بجلی کی بحالی: شاہراہوں اور بجلی کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ بھاری مشینری اور ایکسیویٹرز (Excavators) موقع پر متحرک ہیں تاکہ تمام منقطع سڑکیں اور پل جلد از جلد بحال کیے جا سکیں۔رہائش اور آبادکاری: تقریباً 80 متاثرہ افراد کی آبادکاری کی جا رہی ہے، جبکہ 15 ایسے گھرانے جن کے مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں، انہیں متبادل رہائش فراہم کی جائے گی۔ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے منقطع ہونے والے علاقوں میں خوراک، ایندھن (Fuel) اور میڈیکل ٹیموں کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ مویشیوں کے علاج اور تحفظ کے لیے اینمل ہسبنڈری (Animal Husbandry) کی ٹیمیں بھی متحرک کر دی گئی ہیں۔ زرعی زمینوں کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے گا اور آبپاشی کی نہروں کی بحالی کے لیے پہلے ہی احکامات (Standing Orders) جاری کیے جا چکے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا ”تمام سرکاری وسائل کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ یہ میرا پہلا دورہ ہے لیکن آخری نہیں؛ جب تک تمام مسائل حل نہیں ہوتے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔”انہوں نے انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور عوامی بحالی کے لیے مقامی کمیونٹی کے رضاکاروں سے بھی انتظامیہ کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر مقامی رہنماؤں (جن میں نجف علی و دیگر شامل تھے) نے وزیرِ اعلیٰ کے اس ہنگامی دورے اور بروقت اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے حکومت کی کاوشوں کو سراہا۔وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے جگلوٹ-سکردو روڈ (شاہراہِ بلتستان) سمیت خطے بھر میں متاثرہ تمام شاہراہوں اور مواصلاتی رابطوں کی فوری بحالی کے سخت اور ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں۔ ان احکامات کی روشنی میں شاہراہِ بلتستان پر سسی حراموش، عنصر کیمپ اور دیگر متاثرہ مقامات کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ عنصر کیمپ اور سسی حراموش پُل کے مقام پر عارضی لوہے کا (بیلی) پُل نصب کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔ امکان ہے کہ آج بیلی پل کی تنصیب کا کام مکمل کر کے شاہراہ کو آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ بیلی پل کی تنصیب کے بعد ٹریفک کی منظم روانی کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے پولیس سمیت دیگر متعلقہ محکموں کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔اس مشکل، دشوار گزار اور خطرناک ماحول میں پاک فوج کے جوان، ایف ڈبلیو او (FWO) کے انجینئرز، مزدور، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، جی بی ڈی ایم اے (GBDMA) اور تمام متعلقہ اداروں کے اہلکار دن رات انتھک محنت کر رہے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ اور عوام نے پاک فوج، ایف ڈبلیو او، این ایچ اے، جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور شاہراہوں کی بحالی میں مصروف تمام محکموں کے اہلکاروں اور مزدوروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ راستے میں پھنسے ہوئے مسافروں کو خوراک، طبی امداد اور تمام دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔






