وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے 30 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی، فلاحی اور اصلاحاتی ایجنڈے کی منظوری دی، جس میں انفراسٹرکچر، صحت، طرز حکمرانی، تعلیم اور عوامی ریلیف کے لیے فنڈز، گرانٹس اور ادارہ جاتی اقدامات شامل ہیں۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ انتظامی سیکریٹریز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے ساتھ مہنگائی اور معاشی دباؤ سے متاثرہ طبقات کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیک وقت انفراسٹرکچر کی بہتری، سماجی تحفظ، صحت کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی مضبوطی پر توجہ دے رہی ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔
ماہی گیر برادری کے لیے فیول سبسڈی
کابینہ کی منظوری سے وزیر اعلیٰ نے کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین میں ماہی گیر برادری کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے 515 ملین روپے کے فیول سبسڈی پیکج کی منظوری دی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک مرتبہ دی جانے والی ادائیگی ہوگی جو دو ماہ کے ایندھن کے اخراجات کو پورا کرے گی، کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مچھلی کی پیداوار میں 20 فیصد کمی آئی ہے اور ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔اس اسکیم کے تحت 9,634 رجسٹرڈ کشتیوں کو ہدفی معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں چھوٹے پیمانے اور ساحلی آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
18 سے 24 فٹ لمبی 2,331 چھوٹی کشتیوں (20 ہارس پاور آؤٹ بورڈ انجن) کو فی کشتی 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے جس کے لیے مجموعی طور پر 466.2 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔10 سے 15 فٹ کی 488 کشتیوں (5 تا 10 ہارس پاور انجن) کو فی کشتی ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے جس کی مجموعی لاگت 28.8 ملین روپے ہوگی۔وزیر ماہی گیری محمد علی ملکانی نے بتایا کہ شفافیت اور آڈٹ کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے سبسڈی ڈیجیٹل طریقے سے ادا کی جائے گی۔ ماہی گیر ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میرین یا کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی (کے ایف ایچ اے) کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کریں گے، جس کے بعد تصدیق ہونے پر رقم براہِ راست کشتی مالکان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس عمل کی نگرانی محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز کی مشترکہ کمیٹی کرے گی۔مقامی حکومت کے منصوبے
وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پیش کیں، جنہیں کابینہ نے منظور کر لیا۔
دریائے سندھ پل:
کابینہ نے حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان دریائے سندھ پر 1.12 کلومیٹر طویل ہائی وے پل کے انجینئرنگ ڈیزائن کے لیے 147.2 ملین روپے کی کنسلٹنسی گرانٹ کی منظوری دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پل اندرون ملک آنے جانے والی ہلکی اور بھاری ٹریفک کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا۔کابینہ نے حیدرآباد میں قبرستان کی تعمیر کے لیے 252.206 ملین روپے، قاسم آباد میں نئی پانی کی لائنوں کی تنصیب کے لیے 800 ملین روپے اور خانپوٹہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (6 ایم جی ڈی) کے لیے نہر سے پانی کی نئی لائن بچھانے کی منظوری دی۔
قاسم آباد حیدرآباد چوک پر انڈر پاس اور لنک روڈ کی تعمیر کے لیے 800 ملین روپے، جبکہ لطیف آباد میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے 500 ملین روپے منظور کیے گئے۔
شیخ ایاز روڈ کی توسیع (سندھ میوزیم تا علی پیلس پمپنگ اسٹیشن) اور نکاسی آب کے نظام کے لیے 1.2 ارب روپے جبکہ گڈو چوک سے یا علی کالونی تک ڈرینج چینل کی تعمیر کے لیے 900 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔
کراچی کی سڑکیں اور ایس 3 منصوبہ
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو شہر کی 24 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز (ٹی ایم سیز) میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے بطور گرانٹ اِن ایڈ دیے گئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت شہر کے سڑک انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور محکمہ خزانہ کو فوری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ کام کا آغاز کیا جا سکے۔کابینہ نے ایس منصوبے کے تحت ہارون آباد میں ایس ٹی پی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے 2 ارب روپ ے کی منظوری دی۔
ڈرینج اور پانی
کابینہ نے لاڑکانہ شہر کے ڈرینج نظام کی بہتری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔
قانونی اور عدالتی اصلاحات
عدالتی نظام کی جدیدکاری اور سہولیات کے فروغ کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے ضلعی عدالتوں میں مقدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور الیکٹرانک سرٹیفائیڈ نقول کے اجرا کے لیے 48.9 ملین روپے کی منظوری دی۔
مورو میں چار عدالتوں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے منظور کیے گئے۔پیر الٰہی بخش لا کالج دادو کے لیے 25 ملین روپے بطور ایک مرتبہ گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی گئی۔
سکھر ٹراما سینٹر
غلام محمد میڈیکل کالج اسپتال سکھر میں 50 بستروں پر مشتمل ٹراما اینڈ ایمرجنسی رسپانس سینٹر کے لیے مشینری اور آلات کی خریداری کی مد میں 635.48 ملین روپے کی منظوری دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ اسے جون 2026 تک فعال کیا جائے۔
یتیم خانہ
عمرکوٹ میں یتیم خانے کے قیام کے لیے 80 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔تعلیم: کابینہ کمیٹی کی سفارش پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کراچی میں ابتدائی بچپن کی تعلیم و نگہداشت (ای سی سی ای) عمارت کی تعمیر کے لیے 90 ملین روپے کی منظوری دی۔
سندھ جاب پورٹل: مراد علی شاہ نے سندھ جاب پورٹل (ایس جے پی) کے دوسرے سال کے لیے تکنیکی معاونت اور آپریشنز کی مد میں 86.535 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔ صوبے میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے "انڈس اے آئی ویک 2026” کے انعقاد کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے۔
انتظامی فیصلے
کابینہ نے سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی اے) کے بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے 615.7 ملین روپے کی منظوری دی، جسے سخت ری اسٹرکچرنگ پلان سے مشروط کیا گیا ہے۔ اس پلان میں نئی بھرتیوں پر پابندی اور 421 اضافی ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کرنا شامل ہے۔ مزید برآں، شدت پسندی کے تدارک کے مرکز برائے امتیاز (سی وی ای) کو فعال بنانے کے لیے 42.86 ملین روپے مختص کیے گئے۔
انسداد تجاوزات ٹریبونل
سندھ پبلک پراپرٹی (ریموول آف انکروچمنٹ) ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ کے لیے کابینہ نے شہید بینظیر آباد ڈویژن میں انسداد تجاوزات ٹریبونل کے قیام کی منظوری دی۔
کراچی میں میگا قبرستان کے لیے زمین
صوبائی دارالحکومت میں تدفین کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ نے ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں 500 ایکڑ اراضی میگا قبرستان کے لیے مختص کرنے کی منظوری دی جو محکمہ بلدیات کے نام الاٹ کی جائے گی۔
انفراسٹرکچر سیس تصفیہ اور مقدمات
کابینہ نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفراسٹرکچر سیس (ایس ڈی ایم آئی سی) ایکٹ 2026 میں ترمیم کی منظوری دی تاکہ طویل عرصے سے جاری قانونی تنازعات حل کیے جا سکیں۔
اپریل 2026 کے آخر تک 132 درخواست گزار تصفیہ معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔ کابینہ نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو مقدمات واپس لینے اور تصفیہ معاہدوں پر عملدرآمد کی آخری تاریخ 23 اگست 2026 تک بڑھانے کی اجازت دی۔واجبات کی ادائیگی اقساط میں کی جائے گی، جس کے تحت 15 فیصد 15 جولائی 2026 تک، مزید 15 فیصد 15 اکتوبر 2026 تک، اور 15 فیصد 15 جولائی 2027 تک ادا کیا جائے گا، جبکہ باقی رقم 2028 سے شروع ہونے والی 48 مساوی سہ ماہی اقساط میں ادا کی جائے گی۔جو افراد 15 جولائی 2026 تک مکمل ادائیگی کریں گے یا مقدمات میں شامل نہیں ہیں، انہیں 0.80 فیصد کی رعایتی شرح (تین سال بعد 0.85 فیصد) کی پیشکش کی گئی ہے۔موٹر سائیکل فیول سبسڈی
کابینہ نے موٹر سائیکل مالکان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیپلز فیول سبسڈی پروگرام میں توسیع کی منظوری دی۔ یہ پروگرام 31 مئی 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ زیر التوا درخواستوں پر کارروائی مکمل کی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو مئی کے لیے 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت دی تاکہ ادائیگیاں بلا تعطل جاری رہیں۔اب تک 548,085 درخواست گزاروں کو ادائیگیاں تصدیق کی جا چکی ہیں، جنہیں فی شناختی کارڈ 2,000 روپے کے حساب سے تقریباً 1.096 ارب روپے ادا کیے گئے ہیں۔
موٹر سائیکل کیب سروسز کے لیے ٹیکس ریلیف
کم آمدنی والے ڈرائیورز کے روزگار کے تحفظ اور رائیڈ کینسلیشن کم کرنے کے لیے کابینہ نے موٹر سائیکل مسافر خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس (ایس ایس ٹی) کم کرنے کی منظوری دی۔کیب ایگریگیٹرز (جیسے بائیکیا) کے ذریعے حاصل ہونے والے کرایوں پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے سالانہ تقریباً 120 ملین روپے کا مالی اثر متوقع ہے۔
قانونی ترامیم
نئے قانونی فریم ورک کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) معاہدوں میں توسیع کی اجازت دی گئی ہے بشرطیکہ توسیع اصل مدت کے 50 فیصد سے زیادہ نہ ہو اور غیر معمولی کارکردگی کی بنیاد پر ہو۔پی پی پی پالیسی بورڈ کو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) منصوبوں کے لیے معیاری طریقہ کار اور رہنما اصولوں کی منظوری کا اختیار دے دیا گیا ہے۔پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فیسلٹی (پی ڈی ایف) اور وائیبیلٹی گیپ فنڈ (وی جی ایف) کے دائرہ کار کو بڑھا کر منصوبوں کی پائیداری سے متعلق اضافی مطالعات اور اخراجات شامل کر دیے گئے ہیں۔
ترمیم کے تحت فریقین کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر طے شدہ مدت میں ثالثی مکمل نہ ہو تو براہِ راست ثالثی (آربیٹریشن) کا سہارا لیا جا سکے۔ نجی فریقین کو اب آپریشن کے دوران سالانہ بنیاد پر پرفارمنس بانڈ فراہم کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال بدین
کابینہ کی منظوری کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال بدین منصوبے کے لیے عبوری توسیع دی گئی تاکہ نئی ترامیم کے نفاذ تک خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔
ڈی ایچ کیو اسپتال بدین کنٹریکٹ توسیع
کابینہ نے ڈی ایچ کیو اسپتال بدین کے منصوبے میں 12 ماہ کی توسیع کی منظوری دی، جو مارچ 2016 سے انڈس اسپتال کے زیر انتظام ہے۔ یہ توسیع 16 مارچ 2026 سے 15 مارچ 2027 تک کے لیے دی گئی ہے تاکہ خدمات کا تسلسل برقرار رہے۔سندھ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل
محکمہ صحت نے سندھ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2025 پیش کیا، جس کا مقصد طبی ماہرین اور اداروں کی صوبائی سطح پر نگرانی قائم کرنا ہے۔ اس میں رجسٹریشن، تعلیمی اسناد کی منظوری، اداروں کی ایکریڈیٹیشن، تعلیم و تربیت کا ضابطہ، لائسنسنگ، پیشہ ورانہ معیار و اخلاقیات، تادیبی کارروائی اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (سی پی ڈی) شامل ہیں۔یہ کونسل صوبے میں طبی ماہرین کی رجسٹریشن، ادارہ جاتی منظوری اور پیشہ ورانہ معیار کی نگرانی کرے گی۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد محکمہ صحت کے مطابق صوبوں کے لیے وفاقی نگرانی کے ساتھ ساتھ آزاد ریگولیشن ضروری ہے۔ کابینہ نے اس ایکٹ کی منظوری دیتے ہوئے اسے اسمبلی کو ارسال کر دیا۔
منیجمنٹ کی منتقلی
ہیلتھ منسٹر ڈاکٹر عذرا فضل کی جانب سے پیش کی گئی تجویز منظور کرلی گئی، جس کے تحت ضلع ٹھٹھہ میں 40 بستروں پر مشتمل ٹی ایچ کیو ہسپتال گھوڑاباری کی آپریشنل مینجمنٹ پانچ سال کے لیے پاکستان نیشنل فورم آن ویمنز ہیلتھ کے حوالے کی جائے گی۔ وزیر ورکس حاجی علی حسن زرداری نے کابینہ کو بتایا کہ ہسپتال کی عمارت مکمل کرلی گئی ہے۔ پانچ سالہ مینجمنٹ بجٹ کا تخمینہ 951.744 ملین روپے لگایا گیا ہے۔کاربن پرائس مینڈیٹ پراجیکٹ ( پاک فلو)
کابینہ نے ورلڈ بینک کے پاک فلو پراجیکٹ کے سندھ جزو کے مالیاتی فریم ورک کی توثیق کردی۔ اس اقدام کا مقصد جام چاکرو لینڈ فل سائٹ پر میتھین کے اخراج میں کمی لا کر کاربن کریڈٹس پیدا کرنا ہے۔یہ منصوبہ ٹرانسفارمیٹو کاربن ایسیٹ فیسلٹی (ٹی سی ای ایف) سے نتائج پر مبنی ادائیگیوں کی مد میں 40 ملین امریکی ڈالر تک متحرک کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ ویری فائیڈ ایمیشن ریڈکشنز (وی ای آرز) کی قیمت 20 سے 27 امریکی ڈالر فی ٹی سی او ٹو ای جبکہ انٹرنیشنل ٹرانسفرڈ میٹیگیشن آؤٹ کمز( آئی ٹی ایم اوز) کی قیمت 23 سے 31 امریکی ڈالر فی ٹی سی او ٹو ای مقرر کی گئی ہے۔کابینہ نے متعلقہ محکموں کو بالائی حد کی قیمتوں (ویری فائیڈ ایمیشن ریڈکشنز کے لیے 27 امریکی ڈالر اور انٹرنیشنللی ٹرانسفرڈ مٹیگیشن آؤٹ کمز کے لیے 31 امریکی ڈالر) پر مذاکرات کی اجازت دے دی، جبکہ ہدایت دی کہ مارکیٹ صورتحال کے مطابق انٹرنیشنللی ٹرانسفرڈ مٹیگیشن آؤٹ کمز کے لیے 40 امریکی ڈالر یا اس سے زائد قیمت کے حصول کی کوشش بھی کی جائے۔لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور انوائرنمنٹ، کلائمیٹ چینج اینڈ کوسٹل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اس فریم ورک کے نفاذ کی نگرانی کریں گے، اور سخت پیمائش و رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔
انسانی حقوق اصلاحات
کابینہ نے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے کر اسے اسمبلی کو بھیج دیا۔ اس ترمیم کے ذریعے "بزنس اینڈ ہیومن رائٹس” کو قانونی فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے، جو اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق کارپوریٹ سطح پر ہونے والی زیادتیوں سے نمٹنے کے لیے ہے۔
ترمیم کے تحت چیئرمین اور اراکین کی مدت چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ہے، جبکہ فیڈرل آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سابق ججز کو بطور چیئرمین خدمات انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔کابینہ نے “بینظیر انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ، نواب شاہ ایکٹ 2025” کے قیام کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد خطے میں خصوصی ٹرانسپلانٹ سہولیات کو فروغ دینا ہے۔صدر زرداری کا دورہ چین
علیحدہ بریفنگ میں محکمہ سرمایہ کاری نے کابینہ کو صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ چین سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں سندھ کے لیے کئی اہم معاہدے طے پائے جن میں کراچی میں ڈی سیلینیشن پلانٹ اور فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز ویکسین پروڈکشن سہولت کا قیام شامل ہے۔ان سفارتی کامیابیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے کابینہ نے محکمہ سرمایہ کاری میں ایک خصوصی چائنا ڈیسک کے قیام کی منظوری دی، جو سرمایہ کاروں کی سہولت اور مفاہمتی یادداشتوں کو صوبائی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گا۔
نظرثانی شدہ وائس چانسلر تقرری فریم ورک
کابینہ نے وائس چانسلرز کی تقرری کے عمل کو جدید بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ امیدواروں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکے اور تجربہ کار قیادت کو راغب کیا جا سکے۔ ترمیم کے تحت امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ عمر 62 سے بڑھا کر 65 سال کردی گئی ہے۔ضروری تجربہ 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کردیا گیا ہے جبکہ کم از کم 10 ایچ ای سی تسلیم شدہ اشاعتیں لازمی قرار دی گئی ہیں۔تعلیمی بورڈز کے لیے بھرتی قواعد
کابینہ نے سندھ کے ساتوں بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے ڈرافٹ ریکروٹمنٹ رولز اینڈ سروس ریگولیشنز 2026 کی منظوری دے دی۔چیئرمین، سیکریٹری، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز اور آڈٹ آفیسر جیسے عہدوں پر تقرری اب ایک معیاری سرچ اینڈ سلیکشن کمیٹی کے ذریعے ہوگی تاکہ میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔نئے قواعد کے تحت چیئرمین (بی پی ایس-19/20) کے لیے عمر کی حد 40 سے 55 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ ماسٹرز ڈگری (فرسٹ ڈویژن) اور 15 سالہ سینئر مینجمنٹ تجربہ لازمی ہوگا۔ اس اقدام سے ماضی کی بے ضابطگیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے بھرتی کے عمل کو حکومتی منظوری کے تحت لایا گیا ہے۔
سیپرا کے لیے ممبر (فنانس اینڈ پالیسی)
کابینہ نے سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے مسٹر فیصل ملک کی بطور ممبر (فنانس اینڈ پالیسی) تقرری کی منظوری دے دی۔






