مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس،ستھرا پنجاب کی40 ہزار گاڑیاں اور1لاکھ 76 ہزار ورکرزکی اے آئی مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ

ستھرا پنجاب کی 40 ہزار گاڑیاں اور 1 لاکھ 76 ہزار ورکرزکی اے آئی مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس بتایا گیا کہ عیدالاضحی کے موقع پرسمارٹ صفائی کا آغاز کیا جائے گا۔اس موقع پر غفلت برتنے والوں کو آن سپاٹ جرمانہ،اے آئی کیمروں سے لیس بائیکس فیلڈ اورگھوسٹ ملازمین کو فارغ کرنے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں کوڑے کی نشاندہی کے لئے اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس بائیکس متعارف کرائی جائیں گی۔ اے آئی سے لیس ستھرا پنجاب کی موٹر بائیکس میں اے آئی بیسڈ خود کار کیمرے سے کوڑے کی نشاندہی کر لی جائیگی۔ اے آئی سے لیس ستھرا پنجاب کی موٹر بائیک لائیو امیج کیپچرنگ اور رئیل ٹائم فیلڈ وزیبیلٹی دیکھا سکے گی۔ مسلسل مانیٹرنگ کے لئے اے آئی کو ستھرا پنجاب کی موٹر بائیکس پر سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے عید الاضحی سے پہلے ہی ستھرا پنجاب کو الرٹ کال دے دی۔پنجاب بھر میں آلائشیں اٹھانے کے لئے بیگز فراہم کیے جائیں گے۔ ویراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں عید الاضحی کے موقع پر ویسٹ کولیکشن سینٹر کی تعداد بڑھانے کی ہدایت کی۔ ویسٹ کولیکشن سینٹر کے علاوہ کسی بھی جگہ پر آلائشیں یا کوڑا کرکٹ پھینکنے پر آن سپاٹ جرمانہ ہوگا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ستھرا پنجاب میں ڈیجیٹل میپنگ اور بیٹ سسٹم لانچ متعارف کرایا جارہا ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام میں پہلی بار اے ائی بیسڈ کمپلینٹ سیل بھی قائم کیا جائے گا۔ ستھرا پنجاب کے 70 فیصد ملازمین کی فیزیکل ویری فیکیشن مکمل کر لی گئی جبکہ اگلے ہفتے تک 100 فیصد مکمل کر لی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے میں ستھرا پنجاب کے اہلکاروں و افسران کی اے آئی کی مدد سے فیلڈ مانیٹرنگ کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ستھراپنجاب سے متعلق طویل اجلاس منعقد ہوا جس میں ستھرا پنجاب سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سسٹم ایمپرومنٹس، اے آئی بیسڈ آپریشنز،مالی معاملات اور ویسٹ ٹو ویلیو پر رپورٹس پیش کی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گھوسٹ ملازمین،غیر حاضر اور حاضری لگا کر رفوچکر ہونے والے ستھرا پنجاب کے ملازمین کیخلاف کارروائی کا حکم دیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دن کے 24 گھنٹے متحرک رکھنے کے لئے ستھرا پنجاب کی ہیلپ لائن 1139 سنٹرلائزڈ کر دی گئی۔ ڈیپ کلینگ سے 10365 پوائنٹس کلیئرکیے گئے۔ ستھرا پنجاب کے ملازمین کیلئے مزید 2029 حاضری پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ستھرا پنجاب اہلکاروں کے لئے حاضری کے لئے نئی ایپ تیارکر لی گئی۔فیلڈ مانیٹرنگ افسران ہر یونین کونسل میں موبائل ایپ کی ذریعے فیزیکل ویری فیکشن پر مامورکر دیئے گئے۔ ستھرا پنجاب کو مزید موثر بنانے کے لئے منیجنگ ڈائرکٹرز کی روزانہ کی میٹنگ لازم قرار دی گئی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حاضری لگا کر غائب ہونے والوں کی تنخواہ میں سے کٹوتی ہوگی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کے اہلکاروں کے لیے یونیفارم اور گاڑیوں کی صفائی لازم قرار دے دی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستھرا پنجاب کے ڈیلی فیلڈ وزٹ اور سرپرائز وزٹ سے حاضری چیک کی جاتی ہے۔ ستھرا پنجاب کی ڈور ٹو ڈور صفائی مہم کے کی پرفارمنس انڈکس کو فیزکل ویری فیکشن سے منسلک کر دیا گیا۔ کنٹینر کلیئرنس کوتصویری ثبوت کے ساتھ لازم قرار دیا گیا ہے۔ ستھرا پنجاب کے اربن اور رورل ایریاز کے لئے یکساں اے آئی بیسڈ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کے ویسٹ ٹو ویلیو پراجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب سے زیادہ میرے دل کے قریب کوئی اور منصوبہ نہیں۔صفائی نصف ایمان ہے صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا عکاس ہونا چاہیے۔اگر کوئی گھر گندا ہو تو مکینوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ایک صاف ستھرا صوبہ اپنے شہریوں کی شعوری سطح اور ذمہ داری کا پتہ دیتا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ستھرا پنجاب محض صفائی کا منصوبہ نہیں یہ ایک سماجی تبدیلی ہے۔ چیز ریکارڈ پر، شفاف اور KPIs کے مطابق ہونی چاہیے۔ستھرا پنجاب صرف ایک پروجیکٹ نہیں یہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک اعتماد (Trust) ہے۔جو بھی شکایت آئے، اسے فوری حل کیا جائے مانیٹرنگ کا نظام فول پروف ہونا چاہیے۔میرا خواب ہے کہ پنجاب کا کوئی علاقہ چاہے شہری ہو یا دیہی صفائی کی سہولیات سے محروم نہ رہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ ہر گاؤں میں وہی معیار ہونا چاہیے جو شہر میں ہے۔کل سے پورے پنجاب میں ستھرا پنجاب کی واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے یہ صرف ہدف نہیں بلکہ ہمارا عزم ہے۔ستھرا پنجاب سے شعور دینا چاہتے ہیں کہ صفائی صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ستھرا پنجاب منصوبہ دراصل گورننس کا انسانی چہرہ ہے جو ہر گھر، ہر گلی، ہر محلے اور ہر شہری تک پہنچ چکا ہے۔آپ جہاں جہاں صفائی کریں گے، وہاں آپ کی اور حکومت کی ساکھ بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ موٹر ویز اور بڑی سڑکیں صاف ہوں لیکن اگر گلیاں گندی ہوں تو مجموعی تاثر خراب ہو جاتا ہے۔آج دیگر صوبوں سے آواز آ رہی ہے کہ پنجاب زیادہ صاف ہے یہ ہماری محنت کا نتیجہ ہے اسے برقرار رکھنا ہے۔ستھرا پنجاب ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔میں ستھرا پنجاب منصوبے کو کبھی بھی کرپشن یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونے دوں گی۔ایم ڈیز ستھرا پنجاب کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت صرف افسر نہیں بلکہ ستھرا پنجاب کے فرنٹ لائن لیڈرز ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ میرے لئے ایم ڈیز ستھرا پنجاب کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی مانند ہیں۔ایم ڈیز ستھرا پنجاب میری آنکھیں، کان اور ہاتھ ہیں آپ سے بڑھ کر کوئی نگرانی نہیں کر سکتا۔ہمیشہ نوجوانوں پر اعتماد کیا اور موقع دیے ہیں،اسی لیے گریڈ 18 کے افسران کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں کیونکہ ان میں توانائی اور جذبہ موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو افسر بہترین کارکردگی دکھائے گا، اسے بہتر مواقع اور پوسٹنگ دی جائے گی۔ جو ذمہ داری پوری نہیں کرے گا، اس کے لیے اس سسٹم میں جگہ نہیں ہوگی۔ستھرا پنجاب اب ایک بڑے پیمانے کا منصوبہ بن چکا ہے جس میں لاکھوں ملازمین، اربوں روپے اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔جب ہمارے پاس اتنے وسائل، افرادی قوت اور ٹیکنالوجی موجود ہیں تو 100 فیصد نتائج نہ دینا ناقابلِ قبول ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہم جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک کو دیکھتے ہیں جہاں صفائی 24/7 برقرار رہتی ہے۔دفتر میں بیٹھ کر سب کچھ ٹھیک لگتا ہے ستھرا پنجاب کوئی ڈیسک جاب نہیں، یہ مکمل طور پر فیلڈ ورک ہے۔100 گھنٹے دفتر میں

گزارنے سے بہتر ہے کہ ایک گھنٹہ فیلڈ میں گزارا جائے۔آپ جتنا زیادہ سڑکوں پر ہوں گے،اتنی ہی بہتر نگرانی اور کارکردگی ہوگی۔ جدید ٹیکنالوجی ڈرو نز، سیف سٹیز سب اپنی جگہ اہم ہیں،لیکن فزیکل وزٹ لازمی ہے۔صفائی کرنے والے ہمارے ہیرو ہیں۔جو لوگ آپ کا گند صاف کرتے ہیں، انہیں عزت دیں، ان کا احترام کریں۔مزدور کی تنخواہ وقت پر ادا ہونی چاہیے کیونکہ مزدور کی اجرت اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ادا ہونی چاہیے۔ستھرا پنجاب والوں کا یونیفارم صاف اور معیاری ہونی چاہیے، گاڑیاں اور ویسٹ کلیکشن پوائنٹس بھی صاف اور منظم ہونے چاہئیں۔میں واضح کر دینا چاہتی ہوں ستھرا پنجاب منصوبے میں کرپشن یا سیاسی سفارش کی کوئی گنجائش نہیں۔ستھرا پنجاب میں کوئی غیر دستاویزی کام برداشت نہیں ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button