پشاور میں ٹریفک مسائل کے حل کیلئے کمشنر ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں پشاور ڈویژن میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، حادثات میں کمی لانے اور مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں چیف ٹریفک پولیس آفیسر پشاور زاہد اللہ ، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاور ابرار احمد وزیر، ڈائریکٹر جنرل کیپٹل میٹرو پولیٹن گورنمنٹ پشاور قادر نصیر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں پشاور سمیت ڈویژن کے دیگر اضلاع میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کے مؤثر حل کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز ایک ہفتے کے اندر اپنے اپنے اضلاع کے لیے جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کریں گے، جس میں رش والے مقامات کی نشاندہی، حادثات کی روک تھام اور سکول زونز کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی۔ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا گیا، جس کے تحت کیمرہ بیسڈ انفورسمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز زیرِ غور آئی، تاکہ شفاف اور خودکار نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔چیف ٹریفک آفیسر پشاور نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ترجیحی بنیادوں پر اہم مقامات اور سکول زونز کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ فنڈز کے اجرا کے لیے کیس متعلقہ حکام کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ڈی سی چارسدہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے تحصیل سطح پر کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، جبکہ ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ جاری ہے۔اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ ٹریفک سے متعلق منصوبوں کے لیے "پشاور اپ لفٹ پروگرام فیز II” کے تحت فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔کمشنر پشاور نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹریفک منصوبوں کے لیے واضح اتھارٹی کا تعین کیا جائے اور فنڈز کی فراہمی کے عمل کو تیز بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مقررہ وقت کے اندر اپنی ذمہ داریاں مکمل کریں تاکہ شہریوں کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

جواب دیں

Back to top button