پشاور(بلدیات ٹائمز)ڈپٹی کمشنر پشاور و ایڈمنسٹریٹر کیپٹن(ر)ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کا ریونیو بڑھانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جبکہ شہریوں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔بروز جمعة المبارک ڈپٹی کمشنر پشاور / ایڈمنسٹریٹر کیپٹن(ر)ثنا اللہ خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ قدیر نصیر، ڈائریکٹر فنانس اعجاز سرور، ڈائریکٹر اسٹیٹ منیجمنٹ کامران امجد’ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی ہلال خان ‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمن خدائے نظر سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پر ‘ ڈائریکٹر اسٹیٹ منیجمنٹ کامران امجدنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ کیپٹل میٹروپولیٹن ایسٹ اینڈ ویسٹ زون پر قائم ہے جبکہ کیپٹل میٹروپولیٹن کے زیر انتظام چار اڈہ جات ہیں جس میں جنرل بس اسٹینڈ ‘ کوہاٹ بس سٹینڈ ‘ چارسدہ بس سٹینڈ اور کارخانوں بس سٹینڈ ہے جو مسافرں کو سہولیات فراہم کررہے ہیں جبکہ کیپٹل میٹروپولیٹن کے زیر انتظام تین تعلیمی درسگاہیں ہیں جس میں میونسپل انٹر کالج بوائز وزیر باغ’ میونسپل انٹر کالج گرلز شاہی باغ اور سٹی ڈسٹرکٹ ڈگری کالج فار ویمن ہے جوبچوںاو ر بچیوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں اسکے علاوہ پشاور میں چار ہزار سے زائد دکانیں ہے جبکہ پشاور کے پارکوں کے بارے میں بھی عوام کو دی جانے والے سہولیات فراہم کررہے ہیں’اجلاس کے دوران کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے انتظامی ڈھانچے، ریونیو، اخراجات اور دیگر امور کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر پشاور / ایڈمنسٹریٹر کیپٹن (ر) ثنا اللہ خان نے ہدایت کی کہ ریونیو بڑھانے کے تمام ممکنہ ذرائع کو فعال بنایا جائے، واجبات کی بروقت وصولی کو یقینی بنایا جائے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لا کر مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری املاک کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور تمام شعبوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ڈپٹی کمشنر پشاور / ایڈمنسٹریٹر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شفافیت، میرٹ اور بہتر گورننس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کی کارکردگی کو مزید موثر بنایا جائے گا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔






