پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 (پنجاب اسمبلی اور گورنر کی منظوری کے بعد) صوبے میں کم عمری کی شادی کے خلاف ایک تاریخی اور سخت قانون بن گیا، جو 18 سال سے کم عمر کی شادی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت کم عمر لڑکی سے شادی کو «چائلڈ ابیوز» (بچوں سے زیادتی) قرار دیا گیا ہے، جس کی خلاف ورزی پر 5 سے 7 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے اہم نکات:کم از کم عمر: نکاح کے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔سخت سزائیں: کم عمری کی شادی میں ملوث افراد (والدین، نکاح خواں، اور دولہا) کو 7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔چائلڈ ابیوز: شادی کے بعد کم عمر لڑکی کے ساتھ رہائش یا تعلقات کو چائلڈ ابیوز قرار دیا گیا ہے۔پرانے قانون کا خاتمہ: یہ قانون چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کی جگہ لے گا۔ یہ آرڈیننس فروری 2026 میں پیش کیا گیا اور مئی 2026 تک اس کی منظوری کے بعد اس کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ نکاح کے وقت دولہا اور دلہن کی عمریں ! نیا آرڈیننس منظور ، سخت سزائیں تجویز ‘پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026’ منظور کرلیا گیا ، جس کے تحت نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی۔چائلڈ میرج آرڈیننس، محفوظ مستقبل کی شروعات— گورنر پنجاب سلیم حیدر خان نے پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس دو ہزار چھبیس کی منظوری دے دی ہے۔ اس آرڈیننس کے مطابق نکاح کے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کی …کم عمری کی شادی زیادتی شمار ہوگی، 18 سال سے کم عمر … – اس کے علاوہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دے دی ہے اور بل منظوری کے بعد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 منسوخ سمجھا …جائے گا حکومت پنجاب نے گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے






