وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن اور شاہراہِ بھٹو کی تیز رفتار تکمیل کے احکامات جاری کر دیئے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز علی الصبح کراچی کے اہم ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (کے بی ٹی آر) ریڈ لائن کوریڈور، شاہراہِ بھٹو اور پہلوان گوٹھ روڈ پر کام کی رفتار تیز کی جائے، جبکہ تمام منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے دورے کے دوران اعلان کیا کہ شاہراہِ بھٹو کو عید سے قبل ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، جسے انہوں نے ’کراچی کے عوام کے لیے عید کا تحفہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ریڈ لائن کوریڈور کے ساتھ تمام مکسڈ ٹریفک لینز دو ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ وزیر بلدیات سید ناصر ھسین شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔ دورے کا آغاز پیپلز چورنگی سے صفورا چورنگی تک ریڈ لائن منصوبے کے معائنے سے کیا گیا، جس کے بعد وہ پہلوان گوٹھ پہنچے جہاں مرکزی شاہراہ کی بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے عظیم پورہ فلائی اوور سے کاٹھوڑ تک شاہراہِ بھٹو کا دورہ کیا اور موقع پر ہی متعلقہ ٹیموں کو ہدایات جاری کیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہماری ترجیح ٹریفک کی روانی بحال کرنا اور کراچی کے عوام کو محفوظ اور قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہے۔ ریڈ لائن اور شاہراہِ بھٹو شہر کے لیے انتہائی اہم منصوبے ہیں، ان میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر یا معیار پر سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ریڈ لائن منصوبہ:

سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن اور ماس ٹرانس کراچی کے سی ای او زبیر چنا نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 29 اپریل کے دورے کے دوران دی گئی ہدایات پر عمل جاری ہے۔ مکسڈ ٹریفک لینز کی مرمت، پیچ ورک اور بحالی کا کام جاری ہے جبکہ نیو جرسی بیریئرز کو ایڈجسٹ کر کے سڑکوں کی چوڑائی میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔ نیپا کے مقام پر نکاسیٔ آب کی بہتری اور پانی کے رساؤ کے خاتمے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔

نیپا پر بار بار پانی جمع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے مستقل حل نکالنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقام پر بار بار پانی کھڑا ہونا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ حکام نے بتایا کہ مختلف مقامات پر اسفالٹ بچھانے کا کام رات کے اوقات میں کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم تکلیف ہو۔ نمائش تا موسمیات تک مختلف سیکشنز میں مشینری، افرادی قوت اور مواد فراہم کر دیا گیا ہے جبکہ موسمیات سے صفورا تک سروس روڈز کی مرمت مکمل ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ بھی بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے اسٹیل، آر سی سی پائپس، اسفالٹ پیورز اور ملنگ مشینز سمیت بھاری وسائل فراہم کیے گئے ہیں جبکہ مسلسل کام کے لیے اضافی اسفالٹ اسٹاک بھی موجود ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وسائل موجود ہیں، اب مجھے زمین پر نتائج نظر آنے چاہئیں۔ کام متعدد شفٹس میں جاری رکھا جائے تاکہ مقررہ وقت میں تکمیل ہو اور شہریوں کو جلد ریلیف ملے۔

موسمیات فلائی اوور:

وزیراعلیٰ سندھ نے موسمیات پر فلائی اوور کا کام نامکمل دیکھ کر فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی اور یقین دہانی کرائی کہ فنڈز اور وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلائی اوور یونیورسٹی روڈ سے صفورا چورنگی اور ماڈل کالونی تک ٹریفک کی روانی کے لیے اہم ہے۔

شاہراہِ بھٹو:

شاہراہِ بھٹو کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ جام صادق انٹرچینج سے ایم نائن کاٹھوڑ انٹرچینج تک 38 کلومیٹر طویل کوریڈور کا 93 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، تمام پل تیار ہیں جبکہ اسفالٹ کا کام آخری مراحل میں ہے۔ ایکسپینشن جوائنٹس کا کام آئندہ 10 دن میں مکمل ہو جائے گا جبکہ باقی ماندہ حصے دو ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ کام چوبیس گھنٹے جاری رکھا جائے، خاص طور پر آر ڈی-36 لنک روڈ پر، اور تعمیر کے دوران مؤثر ٹریفک مینجمنٹ اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو شہر کے اندر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرے گی اور ایم نائن اور این فائیو شاہراہوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوجائے گا۔ بھاری ٹریفک شہر سے باہر منتقل ہو جائے گی جس سے کراچی کے شہریوں کو بڑا ریلیف ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ بھٹو منصوبہ کراچی کی معیشت کے لیے شہ رگ ثابت ہوگا۔

عظیم پورہ فلائی اوور:

وزیراعلیٰ سندھ نے شاہ فیصل کالونی میں زیر تعمیر عظیم پورہ فلائی اوور کا بھی معائنہ کیا اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو 90 دن میں منصوبہ مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ یہ فلائی اوور جناح ٹرمینل اور ملحقہ علاقوں تک بغیر سگنل ٹریفک کی روانی کے لیے بنایا جا رہا ہے۔

پہلوان گوٹھ روڈ:

وزیراعلیٰ سندھ کو پہلوان گوٹھ روڈ کی بحالی کے منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے میئر کراچی نے بتایا کہ 1.59 ارب روپے کی لاگت سے 4.26 کلومیٹر طویل ڈبل کیرج وے، نکاسیٔ آب، سیوریج اور جدید ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس نصب کی جا رہی ہیں۔

منور چورنگی انڈر پاس:

وزیراعلیٰ سندھ نے منور چورنگی انڈر پاس کا بھی معائنہ کیا، جو کامران چورنگی سے گلستانِ جوہر کی جانب ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کام کی رفتار تیز کرنے اور بروقت تکمیل کی ہدایت دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس منصوبے سے ملیر، صفوراں گوٹھ اور اطراف کے علاقوں کے رہائشیوں کو نمایاں فائدہ ہوگا اور ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام محکموں اور ٹھیکیداروں کو باہمی رابطے سے کام کرنے، نکاسیٔ آب اور یوٹیلیٹی کے مسائل فوری حل کرنے اور متبادل ٹریفک پلان پر عملدرآمد کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ اور بہتر سفری سہولت فراہم کرنا پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہم شہر کراچی کے انفراسٹرکچر کو جدید بنا رہے ہیں اور ہر محکمہ اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ منصوبے بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہوں۔

جواب دیں

Back to top button