*سانحہ گل پلازہ کے 200 متاثرین میں 511.7 ملین روپے معاوضے کے چیک تقسیم*

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سندھ نے گل پلازہ سانحہ متاثرین کے لیے 7 ارب روپے کے جامع مالیاتی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس میں سے 5.657 ارب روپے حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ 200 تصدیق شدہ متاثرین میں 511.7 ملین روپے کے معاوضے کے چیکس تقسیم کیے گئے ہیں۔ حکومت نے ان کی مکمل بحالی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے گل پلازہ سانحے کو ایک المناک واقعہ قرار دیا، جس سے کئی خاندانوں اور تاجر برادری کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔تقریب میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، ضیا الحسن لنجار، جام اکرام اللہ دھاریجو، مکیش کمار چاولہ، سعید غنی، وزیراعلیٰ کے مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان بشمول زبیر موتی والا، اور متاثرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی رہنمائی میں سندھ حکومت پہلے دن سے متاثرین کو فوری اور طویل المدتی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں جاں بحق 72 افراد کے خاندانوں کے لیے فی خاندان ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا تھا۔ 64 کیسز میں ادائیگیاں مکمل ہوچکی ہیں، جبکہ چار تصدیق کے مرحلے میں ہیں اور چار قانونی ورثا سے متعلق مسائل کے باعث زیر التوا ہیں۔دوسرے مرحلے میں 849 متاثرہ دکانداروں کو رمضان کے دوران فوری ریلیف کے طور پر فی کس پانچ لاکھ روپے فراہم کیے گئے تاکہ وہ اپنے کاروبار کی بحالی شروع کرسکیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کے لیے 7 ارب روپے کے جامع مالیاتی پیکیج کی منظوری دی، جس میں سے 5.657 ارب روپے اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر کے ذریعے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تشخیص کے مطابق تقسیم کے لیے حاصل کیے جاچکے ہیں۔ جاری مرحلے کے تحت 200 تصدیق شدہ متاثرین میں 511.7 ملین روپے مالیت کے چیکس تقسیم کیے گئے جبکہ باقی دعویداروں کو بھی کراچی چیمبر کی تصدیق کے بعد معاوضہ جاری کیا جائے گا۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تخمینے کے مطابق گل پلازہ میں 1,209 دکانیں تھیں، اور معاوضے کا عمل انوینٹری نقصانات کی بنیاد پر جاری ہے۔متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی معاوضہ نقصانات کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتا، تاہم حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مالی امداد اس درد اور نقصان کا مداوا نہیں کرسکتی، لیکن ہم آپ کی بحالی اور معاونت کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام زیر التوا ادائیگیاں مکمل کرنے اور متاثرہ تاجروں کی معاونت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہر تصدیق شدہ متاثرہ شخص کو معاوضہ ملے گا، کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔مراد علی شاہ نے متاثرہ خاندانوں اور تاجر برادری کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ان کی جرات قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔ ہم صرف بحالی ہی نہیں بلکہ ایسے واقعات کے اعادے کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات جاری رکھیں گے۔وزیراعلیٰ نے تشخیص اور تصدیق میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو سراہا اور کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے معاوضے کا عمل ممکن ہوا۔

*جوڈیشل کمیشن رپورٹ پر کارروائی*

وزیراعلیٰ مراد شاہ نے گل پلازہ سانحے پر جوڈیشل کمیشن رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس کی سفارشات پر عملدرآمد اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو آئندہ سندھ کابینہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق جوابدہی یقینی بنائی جائے گی۔ رپورٹ میں جنہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ان کے خلاف کارروائی ہوگی،‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ رپورٹ کے 90 فیصد سے زائد نکات انہی خدشات کی عکاسی کرتے ہیں جو حکومت پہلے دن سے اٹھا رہی تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے بھی یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا، جس کے بعد ایک چینی کمپنی دو مرتبہ کراچی کا دورہ کرچکی ہے اور ایمرجنسی رسپانس نظام مضبوط بنانے کے لیے جامع فائر فائٹنگ منصوبہ تیار کیا ہے۔مراد علی شاہ نے تسلیم کیا کہ ماضی میں ترقیاتی کاموں پر زیادہ توجہ دی گئی، تاہم اب ترقی اور سروس ڈیلیوری دونوں پر یکساں توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف رواں سال کراچی کے لیے 300 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے مختص کیے گئے ہیں، اگرچہ شہر کو اس سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ شہری مسائل کو کسی ایک حکومت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کئی ساختی مسائل موجودہ حکومت سے پہلے کے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کراچی میں جاری بڑے انفراسٹرکچر اور بحالی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عظیم پورہ فلائی اوور 90 روز میں مکمل ہو جائے گا، جبکہ پہلوان گوٹھ روڈ، نتھا خان گوٹھ روڈ، شارع فیصل تا جوہر لنک روڈ، نشتر روڈ، طوری بنگش روڈ، صہبا اختر روڈ، جہانگیر روڈ، لیاری میں مرزا آدم روڈ، قلندریہ روڈ، میٹروول روڈ، ایس آئی یو ٹی کے قریب مہر النساء روڈ، چاند بی بی روڈ، اصلاح الدین روڈ اور گل پلازہ اطراف سڑکوں پر کام جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سوشل میڈیا پر سڑکوں سے متعلق شکایات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فیلڈ ویری فکیشن سے معلوم ہوا بعض اعتراضات تعمیراتی نقائص کے بجائے انسداد تجاوزات کارروائی کے خلاف ردعمل تھے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی تاریخی مارکیٹوں کی بحالی بھی جاری ہے، جن میں ایمپریس مارکیٹ، لی مارکیٹ، مچھی میانی مارکیٹ، نرسری مارکیٹ اور سولجر بازار مارکیٹ شامل ہیں، جن میں بعض منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ شاہراہ بھٹو کا افتتاح مئی کے پہلے دس دن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے، جبکہ مرغی خانہ پل اور مسجد عائشہ سے شاہراہ بھٹو ملانے والی سڑک بھی جلد مکمل ہوگی۔وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں اور شاہراہ بھٹو پر امن و امان سے متعلق ’’گمراہ کن رپورٹنگ‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے متوازن کوریج پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا خامیوں کی نشاندہی کرے، مگر اچھے کام بھی اجاگر کرے تاکہ عوامی اعتماد مضبوط ہو۔مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے کے بعد حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ معاوضہ، جوابدہی، شہری حفاظتی اصلاحات اور انفراسٹرکچر ترقی ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گے تاکہ شہریوں اور تاجروں کا اعتماد بحال ہو۔

*تاجروں کا حکومتی تعاون پر اظہار تشکر*

بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور ممتاز تاجر رہنما زبیر موتی والا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا شکریہ ادا کیا اور اسے متاثرین کی معاونت کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختصر وقت میں تیزی اور مؤثر انداز میں کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت کم عرصے میں بہت زیادہ کام ہوا ہے، ہم وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے کاروباری برادری کے ساتھ کھڑے ہونے پر مشکور ہیں۔زبیر موتی والا نے کہا کہ معاوضے کا عمل تصدیق شدہ نقصانات کی بنیاد پر جاری ہے اور ہر حقدار کو اس کا حق ملے گا۔ جو بھی نقصان ہوا ہے، اس کی رقم اصل حقدار تک پہنچے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ماضی میں بولٹن مارکیٹ اور ٹمبر مارکیٹ جیسے سانحات میں بھی تاجروں کے ساتھ کھڑی رہی، اور موجودہ پیکیج کو گل پلازہ متاثرین کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا۔

*متاثرین نے معاوضے کو امید کی علامت قرار دیا*

متاثرین کے نمائندوں نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور سندھ حکومت کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ متاثرہ تاجر محمد اشرف نے کہا کہ آج کا دن امید کو حقیقت میں بدلنے والا دن ہے۔ یہ صرف معاوضے کا چیک نہیں، یہ امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مشکل وقت میں متاثرین کے ساتھ کھڑی رہی۔ایک اور متاثر سلطان نے کہا کہ سانحہ تباہ کن تھا مگر حکومت کے تعاون نے متاثرین کو احساس دلایا کہ وہ تنہا نہیں۔ متاثر الیاس شاہ نے کہا کہ 17 جنوری کی رات متاثرین کبھی نہیں بھول سکتے، تاہم انہوں نے مشکل وقت میں سندھ حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کو سراہا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاوضے کے علاوہ حکومت مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مضبوط حفاظتی نگرانی اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطہ یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے کسان، مزدور اور تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہم متاثرین کی مدد جاری رکھیں گے اور ایسے واقعات کے اعادے کی روک تھام کے لیے کام کریں گے۔مراد علی شاہ نے متاثرین کے حوصلے اور کراچی چیمبر کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششیں متاثرہ تاجروں کی مضبوط بحالی میں مدد دیں گی۔ متاثرین نے جس جرات کا مظاہرہ کیا وہ قابل تقلید ہے۔ ہم مل کر اس مشکل مرحلے سے نکلیں گے اور مزید مضبوط ہو کر ابھریں گے۔وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء نے متاثرین میں 129 چیکس تقسیم کیے اور یقین دہانی کرائی کہ دو سال کے اندر اتنی ہی دکانوں پر مشتمل نیا گل پلازہ تعمیر کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button