وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت پنجاب سپیشئل spatial پلاننگ اتھارٹی (پی ایس پی اے) کے دوسرے اجلاس میں اراضی کے استعمال کی مانیٹرنگ کا عمل بتدریج مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد، سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ، ایڈیشنل سیکرٹری قراۃ العین اور اتھارٹی کے دیگر ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل پی ایس پی اے عبداللہ نیئر نے اتھارٹی کے معاملات پر پریذینٹیشن دی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق اتھارٹی کو مکمل طور ڈیجیٹائز بنایا جائے گا۔ پی ایس پی اے کا پلاننگ سپورٹ سسٹم (پی ایس ایس) پنجاب حکومت کے ای بِز پورٹل کے ساتھ منسلک ہے۔ اب رہائشی سکیموں کی منظوری کے لئے آن لائن اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اے آئی کا دور ہے اسی لئے پی ایس پی اے کی ساری خدمات بھی ڈیجیٹل ہیں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ سپیشئل پلاننگ اتھارٹی کیلئے اضلاع میں اضافی سٹاف بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اتھارٹی کی پالیسیوں کا نفاذ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل عملے کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایس کے ذریعے خلاف ورزی کی نشاندہی کی جا سکے گی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) نے صرف دو سال میں پنجاب کے تمام شہروں کی ماسٹر پلاننگ مکمل کی۔ الحمدللہ آج پنجاب کے شہروں کا مستند ڈیٹابیس تیار ہوچکا ہے۔ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر اراضی کے کمرشل استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز صوبے میں نئے معیارات کا عملی نفاذ چاہتی ہیں۔ اسی لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے گرین ایریاز کی حفاظت کیلئے پی ایس پی اے تشکیل دی۔اجلاس کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب شکیل احمد میاں نے کہا کہ پی ایس پی اے ایکٹ کے تحت اتھارٹی کا مالیاتی انتظام تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ اتھارٹی کے معاملات میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔






