وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چین کی معروف کمپنیوں کو سندھ کی ڈیجیٹل معیشت، لاجسٹکس، صنعتی مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور برآمدات پر مبنی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی وسیع مواقع کے ساتھ ایک علاقائی تجارتی اور ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔وزیراعلیٰ یہ بات وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں آئی بی آئی (بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ) اور چینی کاروباری رہنماؤں کے 32 رکنی اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کہہ رہے تھے۔ وفد کی قیادت آئی بی آئی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چیان شیاو جون کر رہے تھے، جبکہ وفد میں ڈیجیٹل تجارت، لاجسٹکس، کیمیکلز، ٹیکسٹائل، تعمیراتی سامان، مشینری، توانائی اور صنعتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینئر عہدیدار شامل تھے۔پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی بھی وفد کا حصہ تھے۔ ملاقات میں صوبائی وزراء ناصر شاہ، جام اکرام دھاریجو، معاونین خصوصی سید قاسم نوید اور محمد علی راشد، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور متعلقہ صوبائی سیکریٹریز بھی شریک تھے۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ، بالخصوص کراچی، علاقائی توسیع کے خواہاں چینی سرمایہ کاروں کے لیے بے مثال رابطہ، صنعتی انفراسٹرکچر اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’کراچی پاکستان کی معیشت اور لاجسٹکس کا مرکزی دروازہ ہے اور سندھ ہر بڑے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم کراچی کو ڈیجیٹل تجارت، اسمارٹ لاجسٹکس، صنعتی جدت اور برآمدات پر مبنی ترقی کا علاقائی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پالیسی معاونت، انفراسٹرکچر کی ترقی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات کے ذریعے چینی کمپنیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعلیٰ نے خصوصی اقتصادی زونز، صنعتی ڈیجیٹلائزیشن، قابلِ تجدید توانائی، ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ، پیٹروکیمیکلز، ویئر ہاؤسنگ اور اسمارٹ سپلائی چین نظام میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی جدیدکاری اور سندھ کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی ہے۔ملاقات کے دوران آئی بی آئی اور اس سے وابستہ کمپنیوں کے عہدیداروں نے اپنے عالمی کاروباری آپریشنز پر بریفنگ دی اور سندھ میں شراکت داری اور سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔آئی بی آئی حکام نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ بیجنگ میں قائم کمپنی چین کی صفِ اول کی صنعتی انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سپلائی چین کمپنیوں میں شامل ہے جو 100 سے زائد صنعتی شعبوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ای کامرس، لاجسٹکس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز چلا رہی ہے۔وفد نے کراچی، بالخصوص بندرگاہ سے منسلک صنعتی زونز کے اطراف، ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارمز، اسمارٹ ویئر ہاؤسنگ نظام، لاجسٹکس پارکس اور برآمدی سہولت مراکز کے قیام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔آئی بی آئی اسمارٹ لاجسٹکس کے نمائندوں نے کراچی پورٹ اور صنعتی علاقوں سے منسلک جدید لاجسٹکس پارکس، کولڈ چین نظام اور اسمارٹ ویئر ہاؤسنگ انفراسٹرکچر کے مواقع کا جائزہ لیا۔کیمیکلز اور صنعتی مواد کے شعبے سے وابستہ چینی کمپنیوں نے سندھ کے صنعتی زونز میں پیٹروکیمیکل تعاون، خام مال کی سپلائی چینز اور مینوفیکچرنگ سہولیات میں ممکنہ سرمایہ کاری پر بھی بات چیت کی۔ٹیکسٹائل اور تجارتی کمپنیوں کے عہدیداروں نے گارمنٹس مینوفیکچرنگ، چین کو ٹیکسٹائل برآمدات اور چینی ٹیکسٹائل یونٹس کو سندھ منتقل کرنے کے لیے مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی۔مشینری، کیبلز، تعمیراتی سامان اور صنعتی آلات سے وابستہ کمپنیوں نے اسمبلنگ پلانٹس، انفراسٹرکچر سپورٹ انڈسٹریز اور سندھ بھر کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شرکت کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندوں نے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں، صنعتی پاور سسٹمز اور شمسی توانائی کے حل میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ سرمایہ کاری سندھ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ چینی وفد کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور فالو اپ ملاقاتوں، صنعتی دوروں اور منصوبوں کے فزیبلٹی مباحثوں میں سہولت فراہم کریں۔
انہوں نے محکمہ سرمایہ کاری کو یہ بھی ہدایت دی کہ صنعتی زونز اور اسپیشل اکنامک زونز میں ایسے موزوں مقامات کی نشاندہی کی جائے جہاں چینی کمپنیاں مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر منصوبے قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کے وسیع تر فریم ورک کے تحت چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے اور ایسی طویل المدتی صنعتی شراکت داریاں قائم کرنا چاہتی ہے جو دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔چینی وفد کے ارکان نے سندھ میں سرمایہ کاری کے امکانات کو سراہتے ہوئے کراچی کی علاقائی تجارتی اور لاجسٹکس مرکز کی حیثیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ سندھ اور چینی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کے مواقع پر مزید رابطے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کیا جس میں محکمہ سرمایہ کاری سندھ کے دو اور آئی بی آئی کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔ورکنگ گروپ کے قیام کے بعد کاروباری روابط، فزیبلٹی اسٹڈیز، لاجسٹکس تعاون اور ڈیجیٹل تجارت، ویئر ہاؤسنگ، صنعتی ڈیجیٹلائزیشن اور مینوفیکچرنگ سرمایہ کاری کے شعبوں میں مستقبل کی مفاہمتی یادداشتوں پر کام کیا جائے گا۔






