*خیبر پختونخوا،ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” میں نئی اصلاحات اور اہم اضافے متعارف*

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان نے محکمہ تعلیم کی جدید، مزید مؤثر اور اپ گریڈ شدہ “ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر محکمہ تعلیم کے سپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ، سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹر ای ایم آئی ایس کی جانب سے بتایا گیا کہ “ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” دراصل پہلے سے نافذ العمل ای-ٹرانسفر پالیسی کا ایک جدید، جامع اور مزید بہتر توسیعی ورژن ہے، جس میں وقت کے تقاضوں، انتظامی ضروریات اور شفافیت کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد نئی اصلاحات اور اہم اضافے شامل کئے گئے ہیں۔ نئی پالیسی میں ایسے کئی شعبوں اور معاملات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ماضی کی پالیسی میں واضح طور پر کور نہیں تھے۔صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ نئی پالیسی میں پہلی مرتبہ پرفارمنس کی بنیاد پر ای-ٹرانسفر سسٹم کو مزید مؤثر انداز میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سکول سربراہان، سیکنڈری سکول ٹیچرز، سبجیکٹ اسپیشلسٹس اور دیگر متعلقہ تدریسی عملے کی کارکردگی کو سکول بیس اسسمنٹ، میٹرک اور انٹر کے نتائج، طلبہ و اساتذہ کی حاضری اور دیگر تعلیمی اشاریوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار میں بہتری، احتساب کے نظام کے فروغ اور بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم مرحلہ وار تمام پوسٹنگز اور تبادلوں کو مکمل طور پر ای-ٹرانسفر پلس پالیسی کے تحت لانے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے تاکہ ہر قسم کی تعیناتی اور تبادلہ ایک مربوط، ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے انجام پائے۔سیکرٹری تعلیم خالد خان نے کہا کہ “ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026” میں متعدد نئے ماڈیولز، سہولیات اور حفاظتی اقدامات شامل کئے گئے ہیں جن سے تبادلوں کے نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں سپیشل پروویژن گراؤنڈ ماڈیول کو مزید وسعت دی گئی ہے، جس کے تحت بیوہ، طلاق یافتہ، معذور، میڈیکل، سکیورٹی خدشات اور زوجین پالیسی کے تحت تبادلوں کیلئے واضح طریقہ کار، آن لائن درخواست اور دستاویزی ثبوت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی میں پہلی مرتبہ اوور سائٹ کمیٹی اور پلیسمنٹ کمیٹی کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا گیا ہے تاکہ شکایات کے بروقت ازالے، ڈیٹا ویریفکیشن، نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح جعلی یا غلط دستاویزات جمع کرانے والوں کیلئے دو سالہ پابندی اور محکمانہ کارروائی کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔سیکرٹری تعلیم خالد خان نے کہا کہ نئی پالیسی میں انٹر ڈسٹرکٹ ای-ٹرانسفر کیلئے آن لائن نان آبجیکشن سرٹیفیکیٹ سسٹم، ڈیجیٹل ویریفکیشن، میرٹ بیسڈ اسکورنگ سسٹم اور واضح قواعد و ضوابط متعارف کروائے گئے ہیں، جبکہ میوچل ٹرانسفرز کو سال بھر فعال رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ اساتذہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی میں طلبہ و اساتذہ کے تناسب (STR) ، تعلیمی نتائج، سکول کی ضروریات، حاضری، ڈومیسائل، سروس ٹینیور اور اعلیٰ تعلیمی قابلیت جیسے عوامل کو باقاعدہ اسکورنگ سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے، جس سے تبادلوں کا عمل مزید منظم، متوازن اور میرٹ پر مبنی ہوگا۔صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری تعلیم خالد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اصلاحات اور میرٹ کے فروغ کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام کو مزید مؤثر، جوابدہ، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button