بلدیاتی ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور،کوئی ان کی تنخواہوں اور پنشن کے بارے میں غور کرنے کے لئے تیار نہیں،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا

پشاور(بلدیات ٹائمز) صوبہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی ادارے گزشتہ تیرہ سالوں سے سیاست کی بھینٹ چڑھا دئے گئے ہیں جب کہ بلدیاتی اداروں سے وابستہ ملازمین اور پنشنرز کے بچے مضبوط بیوروکریسی کے ہاتھوں فاکوں سے دوچار ہیں۔ان کا پرسان حال کوئی نہیں ھے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں کو وقتاً فوقتاً ان کے ریونیو کے ذرائع کو ختم کرکے ان اداروں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ کرونا وباء کے دوران بلدیاتی اداروں کے بڑے ذرائع آمدن لگ بھگ 120ٹیکسز کو ختم کرکے بلدیاتی اداروں کی مالی حالت کو بری طرح مفلوج کردیا اور منتقلی جائیداد ٹیکس کو قبل ازیں دو سال کے لئے ختم کرنے اور دو سال بعد بحال کر کے اس کی شرح 02 فیصد سے کم کر کے 01 فیصد کر کے رہی سہی کسر نکال دی ھے۔ان اداروں سے وابستہ ملازمین اور پنشنرز کے بچے فنڈز کی عدم دستیابی، تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بھوک و افلاس اور فاکوں کے شکار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ بلدیاتی اداروں کے ٹیکسز ختم کرتے وقت صوبائی حکومت نے سرے عام اعلان کیا تھا کہ ان ٹیکسز کے بدلے میں صوبائی حکومت متعلقہ بلدیاتی اداروں کو خاطر خواہ گرانٹ دے گی مگر ند دارد۔گذشتہ 4/5 سالوں کے دوران صوبائی حکومت بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے احتجاجی مراحل کے بعد ناکافی گرانٹ چار پانچ مہینوں بعد جاری کرتی ہے جس سے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کو فاکوں سے نجات ملنا تو دور کی بات ہے کئی کئی مہینوں تک فاکوں کے شکار رہنے والوں کا نہ تو حکومتی صوبائی کابینہ اور نہ ہی اراکین صوبائی اسمبلی ان کے لئے آواز بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی صوبہ کی بے لگام بیوروکریسی ان اداروں کے بھوکے پیاسے ملازمین، پنشنرز اور ان کے فاکوں کے شکار بچوں کے لئے کوئی کردار ادا کر رہی ہے جس کی ژندہ مثال رمضآن المبارک کا مہینہ اور عیدالفطر کی خوشیاں بغیر تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے بھوک و افلاس سے دوچار ہو گزار دیا یہی نہیں بلکہ عیسائی کمیونٹی سے وابستہ ملازمین اور پنشنرز کے بچوں نے بھی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اپنی ایسٹر کی خوشیاں بھی قربان کردی مگر رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور عیدالفطر کی خوشیاں بغیر تنخواہوں اور پنشن کے فاکوں میں گزار دیں اور اسی طرح عیسائیوں نے اپنے ایسٹر کے مقدس تہوار کو بغیر تنخواہوں اور پنشن کے گزار دیا۔خیبر پختونخوا کے بلدیاتی ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کرتے ہیں اور کوئی ان کی تنخواہوں اور پنشن کے بارے میں غور کرنے کے لئے تیار نہیں۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، مشیر خزانہ ، وزیر بلدیات و دیہی ترقی ، چیف سیکریٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، صوبائی حکومت کے محکمہ خزانہ ، محکمہ قانون ، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے اعلیٰ حکام ، سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ اور معزز ممبران صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلاتاخیر بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لئے فنڈز کی فراہمی اور تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی بزریعہ اکاونٹ فور یقینی بنانے کے لئے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کروائی جائے اور بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کیا جائے بصورت دیگر بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام پر عائد ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button