*وزیراعلیٰ سندھ کی معرکہ حق پر قرارداد صوبائی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں “معرکۂ حق” آپریشن کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک قرارداد پیش کی، جس میں قومی یکجہتی اور خودمختاری کے تحفظ میں کردار ادا کرنے پر شہداء، مسلح افواج، سیاسی قیادت، میڈیا، نوجوانوں اور عوامِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دورانِ تنازع فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سروسز چیفس کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایوان نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو بھی سراہا۔قرارداد میں بلاول بھٹو زرداری کی سفارتی کوششوں کو بھی تسلیم کیا گیا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ بحران کے دوران پاکستانی عوام، میڈیا، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے اتحاد اور ثابت قدمی کے کردار کو بھی سراہا گیا۔قرارداد پیش کرنے کے بعد اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اس دن کو “تاریخی” قرار دیا اور کہا کہ ایک سال قبل عوامِ پاکستان، مسلح افواج، سیاسی قیادت اور میڈیا نے بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کا مظاہرہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت 1947 سے پاکستان کے خلاف معاندانہ عزائم رکھتا آیا ہے اور 1965 اور 1971 سمیت مختلف جنگوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں ممتاز سائنسدانوں کا اجلاس بلا کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور دفاعی صلاحیت کو قومی ترجیح بنایا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھارت نے 1974 اور پھر 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے جس کے بعد پاکستان نے جواب دیتے ہوئے عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو کے شروع کردہ پروگرام کو بعد کی حکومتوں نے بھی جاری رکھا۔گزشتہ سال کی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام میں “فالس فلیگ آپریشن” کیا اور بغیر ثبوت فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تعاون کی پیشکش کی اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 29 اپریل کو حملے کی کوشش کی جسے پاکستان کی مسلح افواج نے ناکام بنایا، جس کے بعد 7 مئی کو شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملے کیے گئے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پاکستان فضائیہ نے 7 اور 8 مئی کی درمیانی شب فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے 25 منٹ کے اندر رافیل طیاروں سمیت بھارت کے آٹھ جنگی طیارے مار گرائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شاہینوں نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا اور مزید کہا کہ اگرچہ بھارت کے 74 طیارے فضا میں موجود تھے لیکن پاکستان نے صرف انہی طیاروں کو نشانہ بنایا جو حملوں میں شامل تھے۔مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج اور شہریوں نے بھارت کے 77 سے زائد ڈرون بھی مار گرائے جبکہ بھارتی میڈیا کراچی پورٹ اور دیگر شہروں پر مبینہ حملوں سے متعلق پروپیگنڈا کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام پوری صورتحال کے دوران مکمل طور پر تیار اور مربوط رہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 9 مئی کی رات مزید حملوں کے بعد پاکستان نے بھارت کے “آپریشن سندور” کے جواب میں “آپریشن بنیان المرصوص” شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سورت گڑھ، سرسا، نالیہ، بھٹنڈہ، اونتی پورہ، سرینگر، جموں، ادھم پور، آدم پور، امبالہ اور پٹھان کوٹ سمیت بھارت کی 26 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ جان بوجھ کر شہری اہداف سے گریز کیا گیا۔مراد علی شاہ نے پاکستان فضائیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جے ایف-17 طیاروں نے ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید طیاروں و آبدوزوں کے حصول میں کردار کو بھی اجاگر کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہونے کے باوجود اس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور جنگ بندی کو قبول کیا کیونکہ ملک خطے میں امن اور استحکام چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت پوری قوم نے تنازع کے دوران اتحاد کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور متحد قوم ہے۔قومی اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر قوم متحد رہے اور قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں پر کاربند رہے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت ملک کے دفاع، قومی خودمختاری، اتحاد اور سلامتی کے تحفظ میں ہمیشہ صفِ اول میں رہیں گے۔

جواب دیں

Back to top button