وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے 10 بڑے انفراسٹرکچر اور سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا، جو بلدیاتی حکومت کے محکمہ کے تحت کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ذریعے شہر میں ٹریفک کی روانی، رابطوں، نکاسی آب اور سڑکوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے جاری ہیں۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، تعمیراتی معیار برقرار رکھا جائے اور کراچی کے بڑھتے ہوئے ٹریفک اور انفراسٹرکچر مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی شہری منصوبہ بندی اپنائی جائے۔اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، چیف ایگزیکٹو واٹر بورڈ احمد صدیقی، ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے ٹریفک کے دباؤ میں کمی، رابطوں کی بہتری، تباہ شدہ سڑکوں کی بحالی اور کراچی کے شہری ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں کا جائزہ لیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے باعث مربوط منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کراچی کے شہریوں کو محفوظ، تیز رفتار اور جدید سڑکوں کا نظام فراہم کیا جائے، جس سے شہر بھر میں ٹریفک جام میں کمی آئے اور نقل و حرکت بہتر ہو۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ مضبوط بنائیں تاکہ منصوبے مقررہ مدت میں اور معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر مکمل کیے جاسکیں۔
*نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی فلائی اوور*
اجلاس میں نارتھ کراچی کی پاور ہاؤس چورنگی پر 2.5 ارب روپے کی لاگت سے مجوزہ فلائی اوور کی تعمیر کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر بلدیات ناصر شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ 636 میٹر طویل دوطرفہ فلائی اوور فور کے چورنگی جانے والی ٹریفک کو صبا سنیما اور خواجہ اجمیر نگری کی طرف مڑنے والی ٹریفک سے الگ کرے گا جس سے ضلع وسطی کے مصروف ترین چوراہوں میں سے ایک پر ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ تقریباً 80 فیصد براہ راست ٹریفک فلائی اوور استعمال کرے گی جبکہ مقامی ٹریفک زمینی سطح پر سروس روڈز استعمال کرے گی۔
*فور کے چورنگی فلائی اوور*
اجلاس میں 2.377 ارب روپے کی لاگت سے فور کے چورنگی فلائی اوور منصوبے پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد سرجانی ٹاؤن کی جانب بلا تعطل ٹریفک روانی کو یقینی بنانا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اس چورنگی پر تقریباً 70 فیصد ٹریفک سرجانی ٹاؤن کی جانب جاتی ہے جس کے باعث شدید ٹریفک جام اور تاخیر کا سامنا رہتا ہے۔ مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت کی کہ منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی جائے اور دونوں منصوبوں کو مستقبل کی ٹریفک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جائے۔
*کلفٹن میں سڑکوں کی بحالی*
اجلاس میں کلفٹن بلاکس ایک تا پانچ کو میریں ڈرائیو روڈ سے ملانے والی سڑکوں کی بحالی کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 60 کروڑ روپے کے اس منصوبے میں سڑکوں کی مرمت، نکاسی آب کی بہتری، کلورٹس کی تعمیر، بلاول چورنگی نالے کی بحالی اور ساحلی راہداری کے رابطوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سڑکوں کی بحالی کے ساتھ نکاسی آب کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے تاکہ مون سون بارشوں کے دوران شہری سیلاب اور سڑکوں کی تباہی سے بچا جاسکے۔
*ملیر کورٹ سے لانڈھی تک متبادل کوریڈور*
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ کو ملیر کورٹ/عظیم پورہ سے مرتضیٰ چورنگی لانڈھی تک متبادل کوریڈور کی تعمیر کے بارے میں بھی بریفنگ دی، جس کی لاگت 58 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ اس منصوبے سے ٹریفک کو شاہراہ بھٹو کی جانب منتقل کرکے رہائشی علاقوں پر دباؤ کم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے وزیر بلدیات کو ہدایت کی کہ منصوبہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے تاکہ فوری طور پر کام شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے علاقے میں ٹریفک مسائل کم ہوں گے۔
*مہر النساء اسپتال روڈ*
اجلاس میں کورنگی ڈھائی سے کورنگی کریک ایئربیس تک مہر النساء اسپتال روڈ کی 66 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر نو کا بھی جائزہ لیا گیا۔ میئر کراچی نے بتایا کہ اس منصوبے سے اسپتالوں، صنعتی علاقوں اور اہم تنصیبات تک رسائی بہتر ہوگی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اسپتالوں اور ہنگامی راستوں سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
*فٹبال اسٹیڈیم بلدیہ تا شاہراہ اورنگی*
اجلاس میں فٹبال اسٹیڈیم بلدیہ سے اردو چوک کے ذریعے شاہراہ اورنگی تک سڑک کی تعمیر و اپ گریڈیشن پر بھی غور کیا گیا۔ 2.2 ارب روپے کے اس منصوبے کا مقصد اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن اور حب ریور روڈ کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔ منصوبے میں دو رویہ سڑک کے ساتھ نکاسی آب اور سیوریج انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کے ڈی اے کو ہدایت دی کہ منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے۔
*مہران/پجیرو روڈ*
اجلاس میں گلزار ہجری کو ایم نائن موٹروے سے ملانے والی مہران/پجیرو روڈ کی بحالی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر بلدیات ناصر شاہ نے بتایا کہ اس منصوبے سے متبادل راستوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور اسکیم 33 اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو بہتر رابطہ میسر آئے گا۔
*شاہراہ فیصل کی خوبصورتی اور بحالی*
وزیراعلیٰ نے شاہراہ فیصل کی سروس روڈز پر بحالی اور خوبصورتی کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جن میں نکاسی آب کی درستگی، سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک کی بہتری کے اقدامات شامل ہیں تاکہ شہر کی مصروف ترین شاہراہ پر دباؤ کم کیا جاسکے۔انہوں نے چیف ایگزیکٹو واٹر بورڈ احمد صدیقی اور ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان کو ہدایت دی کہ وہ مل کر نکاسی آب کے نظام کی تعمیر نو اور بہتری پر کام کریں تاکہ خوبصورتی کے منصوبے شروع کیے جاسکیں۔
*حاجی کیمپ روڈ کی توسیع*
اجلاس میں مولوی تمیز الدین خان روڈ سے مائی کولاچی تک حاجی کیمپ روڈ کی توسیع اور بحالی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وزیر بلدیات اور میئر کراچی نے منصوبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اس سے مسافروں اور بندرگاہ سے متعلق ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور مائی کولاچی و ملحقہ تجارتی علاقوں تک رسائی آسان ہوگی۔
*دیگر سڑکیں*
اجلاس میں جناح ایونیو سے یار محمد گوٹھ گلزار ہجری تک رابطہ سڑک اور ناردرن بائی پاس کو سپر ہائی وے سے ملانے والی حاجی ابراہیم عیسیٰ روڈ کی بہتری کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد مال بردار ٹریفک اور شہری رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔مراد علی شاہ نے کے ڈی اے اور محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات فوری دور کی جائیں اور تمام منصوبوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے اور اس کے سڑکوں کے نظام اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہر منصوبہ شہریوں کے سفر کا وقت کم کرنے، تحفظ بہتر بنانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ہونا چاہیے۔وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ کے ایم سی، کے ڈی اے اور دیگر ذیلی ادارے وزیراعلیٰ سندھ کے وژن کے تحت کراچی میں جامع شہری ترقیاتی حکمت عملی پر عملدرآمد کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کراچی کے شہریوں کو درپیش دیرینہ ٹریفک اور انفراسٹرکچر مسائل کے حل کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ہم ان منصوبوں کو مؤثر اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی میں واضح بہتری محسوس کرسکیں۔”وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت صرف سڑکوں کی تعمیر پر نہیں بلکہ نکاسی آب، سیوریج، ٹریفک مینجمنٹ اور خوبصورتی کے منصوبوں پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ کراچی میں انفراسٹرکچر کی ترقی کو طویل المدتی بنیادوں پر پائیدار بنایا جاسکے۔






