بزرگوں سے بدسلوکی کی روک تھام کا عالمی دن،بزرگوں سے بدسلوکی کی شکایات کے فوری اندراج کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم کرنے اور موبائل ایپ تیار کرنے کا مطالبہ

دنیا بھر میں بزرگوں سے بدسلوکی کی روک تھام کا دن گزشتہ روز منایا گیا تاکہ عمر رسیدہ افراد کے حقوق، وقار، تحفظ اور فلاح کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔سماجی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ *بزرگ شہریوں کے لیے ایک خصوصی قومی ہیلپ لائن قائم کی جائے تاکہ متاثرہ افراد یا ان کے اہل خانہ آسانی اور رازداری کے ساتھ شکایات درج کرا سکیں۔ اس کے ساتھ ایک موبائل ایپ بھی متعارف کرائی جائے جس کے ذریعے بدسلوکی، نظراندازی، مالی استحصال یا دیگر شکایات فوری طور پر متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا سکیں اور متاثرین کو بروقت قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔*ماہرین کے مطابق بزرگوں کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ ضلعی سطح پر شکایات سیل قائم کیے جائیں، پولیس، ہسپتالوں اور سماجی بہبود کے اداروں کے عملے کو خصوصی تربیت دی جائے اور بزرگ شہریوں کے لیے قانونی معاونت تک رسائی آسان بنائی جائے۔* انہوں نے زور دیا کہ عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے نئی نسل میں بزرگوں کے احترام، خدمت اور خاندانی ذمہ داریوں کا شعور اجاگر کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق خاندانی نظام کی مضبوطی بزرگوں کے تحفظ کی پہلی ضمانت ہے، لہٰذا اہلِ خانہ بزرگوں کو وقت دیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور انہیں تنہائی یا احساسِ محرومی کا شکار نہ ہونے دیں۔سماجی ماہرین کے مطابق بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی صرف جسمانی تشدد تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں ذہنی اذیت، توہین آمیز رویہ، مسلسل ڈانٹ ڈپٹ، نظرانداز کرنا، تنہائی میں چھوڑ دینا، مناسب خوراک اور طبی سہولیات سے محروم رکھنا، مالی استحصال، جائیداد پر ناجائز قبضہ اور دیگر سماجی و معاشی زیادتیاں بھی شامل ہیں۔پاکستان میں وقتاً فوقتاً بزرگ شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیشتر واقعات خاندانی دباؤ، سماجی بدنامی کے خوف اور مؤثر شکایتی نظام کی عدم موجودگی کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہو تے۔ اس کے نتیجے میں متعدد متاثرہ بزرگ خاموشی سے مشکلات، تنہائی اور اذیت کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں بزرگوں کے تحفظ کے لیے ہیلپ لائنز، آن لائن شکایتی نظام، سماجی معاونت کے مراکز اور قانونی تحفظ کے مؤثر انتظامات موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے ذریعے بزرگ شہریوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بزرگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ، تجربے کا خزانہ اور خاندانی روایات کے امین ہوتے ہیں۔ ان کا احترام، تحفظ اور باوقار زندگی کو یقینی بنانا صرف ریاست ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ہر خاندان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ محفوظ اور باوقار بڑھاپا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور بزرگوں کی عزت و تکریم ایک مہذب معاشرے کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button