الحمدللہ رمضان المبارک کی طاق رات میں مرکز ابراہیم ٹاؤن شپ نمازِ تراویح کے دوران تکمیل قرآن مجید کی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا حافظ محمد خالد عزیزی اور انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی گئی ۔اس موقع پر ملک پاکستان کے نامور عالم دین سرمایہ اہلحدیث ۔مفکر اسلام حافظ قرآن حضرت عبدالروف المناوی نے قرآن مجید کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن مجید پر عمل کرنا ہو گا ۔قران میں اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ہمیں قرآن کو سمجھنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کیا پیغام دے رہے ہیں ۔ قرآن مجید کی برکات سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو ہماری زندگی کا ساتھی بنائے ۔وقت عیش کا ساتھی ۔وقت طیش کا ساتھی ۔قرآن مجید کو ہمارے لیے شفاعت کرنے والا بنائے ۔یہ سب کچھ ممکن ہے جب تک ہم قرآن مجید کو سمجھ نہیں لیتے۔دنیا کے تمام مسائل کے حل کے لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ۔انسانوں کو اللہ کی طاقتوں کا اندازہ نہیں ہیے۔ اب عہد کریں برائی کے ارادے چھوڑ دو۔اپنے بلند رب کی تسبیح بیان کرتے رہیں۔ہمارا مذہب اسلام کتنا پیارا ہے کہ ایک لفظ خلوص کے ساتھ سبحان اللہ کہنے والے کے نام سے جنت میں درخت لگ جاتا ہے ۔
عمل کے لیے اخلاص کا ہونا ضروری ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے ۔عمل وہی قابل قبول ہے جس میں اخلاص ہو۔جب ریاکاری ہو گی عبادت میں تو وہ عبادت قبول نہ ہو گی۔قرآن سے جڑو کامیابیوں سے نوازے جائیں گے ۔اللہ تعالیٰ نے مکہ شہر کی قسم کھائی ۔اللہ نے ان جگہوں کو اہمیت دی ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔نبی جن شہروں میں رہے اللہ نے ان کو عزت دی۔جن لوگوں نے نبی کریم سے محبت کی اللہ نے انکو عزت دی۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارنی ہے اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں ۔جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے لیے جنت میں جانا آسان فرما دیتے ہیں ۔دینے کی صفت پیدا کریں ۔اللہ کے ساتھ جڑ جاؤ کامیابیوں سے نوازے جاؤ گے ۔اپنے وقت کو قیمتی بناہیں۔نا ختم ہونے والا اجر دیا جائے گا ۔ قرآن مجید کا حسن ہے کہ دنیا بھر میں سب سے بڑی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ہم امتی ہیں ۔جن کا رسول سے تعلق مضبوط ہے وہی کامیاب ہیں۔جو ہمارے پاس نعمتیں ہیں انکی قدر کریں ۔ اور شکر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں کو اور زیادہ عطا فرماتے ہیں ۔جو بندہ رب سے مقابلہ کرتا ہے اور سودکھاتا ہے جھوٹ بولتا ہے وہ کامیاب نہیں ۔یتیم اور مسکین سے محبت کرنا انکا حق نہ کھانا ۔جو قرآن پر عمل کرے گا اس کو حوض کوثر سے پانی ملے گا۔۔حافظ طارق محمود صارم نے تقویٰ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کا حکم صادر فرماتے ہیں ۔اللہ سے ڈرو تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو جائے ۔ہم نیکی کے کام کرنے کے باوجود گناہوں سے باز نہیں آتے کیونکہ تقویٰ پیدا نہیں ہوا ہے ۔اگر آج حکمران تقویٰ پیدا کر لیں تو آسمانوں اور زمین کے دروازے کھل جائیں ۔دلوں کے اندر ریاکاری ۔بغض ہے حسد کی بو ہے ۔اس لیے ہمیں دلوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر تقویٰ ہمارے اندر پیدا ہو جائے تو کامیابیوں کے دروازے کھل جائیں گے مشکلات ختم ہو جائیں گی۔آج اگر اللہ نے کسی کو گھر دیا ہے اولاد دی کاروبار دیاتو حاسدین لوگ حسد کرتے ہیں ۔اور اگر تقویٰ ہو گا تو حسد نہیں ہو گا ۔کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے جبکہ اصل میں اللہ تعالیٰ کی آنکھ دیکھ رہی ہے۔ہدایت متقین کے لیے ہے ۔جنت متقین کے لیے ہے۔جب تقویٰ پیدا ہو گا تو کوئی برائی پیدا نہیں ہو گی ۔آج تقویٰ کی ضرورت ہے ۔

کیا رمضان المبارک میں ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہوا۔اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اور ہماری اولادوں اور حکمرانوں کے اندر تقویٰ پیدا فرمائے ۔ سرمایہ اہل حدیث مفکر اسلام علامہ حافظ عبدالروف المناوی نے اجتماعی دعا کروائی امت مسلمہ کے لئے خصوصی دعا کی گئی اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والا بنائے ۔آخر میں مرکز ابراہیم کی انتظامیہ محترم اے ڈی شیخ ۔عمر بن اے ڈی شیخ ۔شبیر بھٹی ۔ندیم بھٹی ۔بابر جان ۔محمد امجد نے اس پروقار تقریب میں آنے والوں کو پٹھورے ۔چنے ۔زردہ اور چاہے سے تواضع کی گئی ۔اس موقع پر معتکفین نے نماز شکرانہ کی جماعت کاروائی ۔مرکز ابراہیم ٹاؤن شپ میں ایک سو مرد و خواتین اس بار اعتکاف پر بیٹھے ہیں جنکی افطار و سحر کا انتظام ہمیشہ کی طرح انتظامیہ کرتی ہے ۔






