وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) کے تحت پانچ شہروں میں آر سی سی پائپ پلانٹس کی تنصیب شروع ہوگئی ہے۔ محکمہ بلدیات کی زیرنگرانی شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے 51 شہروں میں 13 ارب کی بچت کی گئی۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں سپیشل سیکرٹری (ڈویلپمنٹ) آسیہ گُل اور پراجیکٹ ڈائریکٹر احمر سہیل کیفی نے بریفنگ دی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلٰی مریم نواز کی ہدایت پر پی ڈی پی کی تمام سکیموں صرف لائننگ والے پائپ استعمال کئے جائیں گے جن کی عمر ایک سو سال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ پلانٹس وزیرآباد، ساہیوال/ سرگودھا، کمالیہ، لودھراں اور فیروزوالہ میں لگائے جا رہے ہیں تاہم سپلائی لائن برقرار رکھنے کے لئے مزید پلانٹس بھی لگائے جائیں گے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام مریم نواز حکومت کا بہت بڑا منصوبہ ہے۔ اتنے زیادہ شہروں میں بیک وقت پہلے کبھی ایسے منصوبے نہیں شروع ہوئے۔ وزیراعلیٰ باقاعدگی کے ساتھ پی ڈی پی پر اپ ڈیٹ حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 32 روڈ سائیڈ سٹوریج ٹینکس بنائے جا رہے ہیں۔ مزید 292 زیر زمین واٹر ٹینکس کیلئے کھدائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں کُل 324 سٹوریج ٹینکس بننے سے اربن فلڈنگ پر کنٹرول ممکن ہو سکے گا۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر کو حضرو، بوریوالہ، بھیرہ، سلانوالی، علی پور چٹھہ، نارووال، سانگلہ ہل، حاصلپور، پھالیہ، وزیرآباد، میاں چنوں کی سکیموں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اِن شہروں سمیت چیچہ وطنی، مریدکے، ٹی ٹی سنگھ، ساہیوال، پنڈی بھٹیاں، سمبڑیال اور ڈسکہ کے انڈر گرائونڈ ٹینکس کی تعمیر آخری مراحل میں داخل ہو رہی ہے اور ڈبل شفٹ بھی لگائی گئی ہے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ کھدائی والی سائٹس پر سیفٹی کے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کنٹریکٹرز مون سُون سے پہلے کام مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی میں صرف برساتی پانی کے نکاس کی بجائے اسے ذخیرہ کرنے کی پلاننگ کی گئی ہے جس سے پنجاب میں پانی سٹور کرنے کا ایک نیا کلچر جنم لے گا۔ آنے والے دنوں میں دیگر سکیموں پر بھی کام ہوتا نظر آئے گا۔






