وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی تعمیر و ترقی، عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم، معدنیات، زراعت، لائیوسٹاک، روزگار اور انتظامی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی،عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری، بالخصوص پسماندہ علاقوں کی ترقی اور سماجی شعبے میں محروم طبقات، خواتین اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ہیلتھ انڈومنٹ پالیسی پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور صوبے کے نادار مریضوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے۔صوبے کے تمام پبلک سکولوں کے لیے صوبائی حکومت تقریباً تین ارب روپے کی گرانٹ فراہم کر رہی ہے۔ پبلک سکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے اور گرانٹس کی فراہمی کو سکولوں کی کارکردگی اور نتائج سے مشروط کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پبلک سکولوں کی مالی خودکفالت اور پائیدار نظام کے قیام کے لیے بھی پالیسی تیار کی جائے تاکہ انہیں سرکاری گرانٹس پر انحصار نہ کرنا پڑے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لیے معدنیات کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ معدنی وسائل کے تحفظ اور متعلقہ ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے محکمہ معدنیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کیے جا رہے ہیں، تاکہ بے ضابطگیوں کی روک تھام اور خلاف ورزیوں کے خلاف سمری ٹرائل کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔وزیراعلیٰ نے یکم مارچ 2026 کو پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی تخمینہ لگانے کی ہدایت کی، تاکہ متاثرہ افراد کو ممکنہ مالی معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔
زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبوں کا فروغ، بالخصوص دیہی علاقوں میں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ دیہی آبادی کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش لائیوسٹاک سے وابستہ ہے، اس لیے صوبائی حکومت ان شعبوں کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ لائیوسٹاک کے شعبے میں جانوروں کی صحت کے تحفظ اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے پہلی مرتبہ قانون سازی کی جا رہی ہے۔نوجوانوں اور خواتین کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومت پُرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے اخوت کے ذریعے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی شرائط پر نظرثانی کی جائے گی، تاکہ نوجوانوں اور خواتین کے لیے قرضوں کے حصول کا عمل آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔صحت کے شعبے کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ دیامر اور بلتستان کے عوام کو ایم آر آئی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ فورمز کی منظوری کے بغیر منصوبوں پر کام شروع کرنے اور مالی واجبات پیدا کرنے کے معاملات کا سختی سے نوٹس لیا۔مالی امور میں کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کسی بھی منصوبے پر کام شروع کرنے سے قبل متعلقہ فورم سے منظوری حاصل کی جائے اور انتظامی منظوری کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے منصوبے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیڈٹ کالج سکردو کے لیے 220 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح محکمہ معدنیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کرنے اور یکم مارچ 2026 کو سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضوں کی مد میں 271.1 ملین روپے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں تالی داس کے سیلاب متاثرین کو متبادل اراضی کی ملکیت دینے کی منظوری دی گئی، جبکہ گلگت بلتستان حیوانات بل 2026 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔ ترمیم شدہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2025 اور سیپ، بیسک اور این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کو مستقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔کابینہ نے گلگت نپوہ بسین کو خواتین اساتذہ کے لیے ہارڈ ایریا قرار دینے اور ضلع شگر میں نجی شعبے کے تعاون سے 10 سرکاری سکول چلانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (لیٹر آف انڈرسٹینڈنگ) کی منظوری بھی دی۔واٹر یوزر ایسوسی ایشن رولز 2026 اور گلگت بلتستان فلڈ ریگولیشن رولز کا مزید جائزہ لینے کے لیے انہیں کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ضلع استور کے گینی داس اور گوریکوٹ آبپاشی چینلز کی بحالی کے لیے رقم کی ادائیگی کی بھی منظوری دی گئی۔صوبائی کابینہ نے اسٹیبلشمنٹ آف پالیسی بورڈ کے قیام اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ ایکٹ اور رسک مینجمنٹ یونٹ ایکٹ میں ضروری ترامیم کے بعد انہیں نوٹیفائی کرنے کی منظوری دی۔ گلگت بلتستان ریونیو اتھارٹی ایکٹ 2026 میں ترمیم کے بعد ایڈوائزری کونسل کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں گلگت بلتستان پاپولیشن پالیسی 2026-36 کی منظوری دی گئی، جبکہ محکمہ سماجی بہبود اور کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا کے مابین مفاہمتی یادداشت (ایل او سی) کی بھی منظوری دی گئی۔ڈاکٹروں کی مستقلی سے متعلق ایکٹ میں ایک سال کی توسیع کی سفارش کرتے ہوئے معاملہ گلگت بلتستان اسمبلی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح گلگت بلتستان لوکل کونسل ڈی لمیٹیشن 2026 میں ضروری ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔وزیراعلیٰ نے اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے ذریعے بلاسود قرضوں کی فراہمی کے معاہدے پر نظرثانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔ اجلاس میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کو اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔اجلاس میں وفات پانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے وزیراعلیٰ اسسٹنٹ پیکیج ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی، تاہم کابینہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پیکیج جاری رکھنے کی ہدایت کی۔صوبائی کابینہ نے دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ اینڈ ڈویژنل ڈویلپمنٹ ریویو کمیٹی کے قیام کی منظوری دی، جبکہ گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ کار کو مضافاتی علاقوں تک وسعت دینے کی بھی منظوری دی گئی۔






