میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا محکمہ انسدادِ تجاوزات کو 15 روز کی مہلت دینے کا فیصلہ

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو 15 روز کی سخت مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ شہر بھر کی اہم شاہراہوں، گلیوں، فٹ پاتھوں اور عوامی مقامات سے تجاوزات کے مؤثر اور واضح خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت میں ٹھوس نتائج سامنے نہ آنے کی صورت میں متعلقہ افسران اور عملے کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی، جس میں ملازمت سے برطرفی اور مروجہ کارکردگی و تادیبی قواعد (ای اینڈ ڈی رولز) کے تحت کارروائی بھی شامل ہے۔ شہریوں کی جانب سے تجاوزات اور عوامی مقامات کی بندش سے متعلق بڑھتی ہوئی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے میئر کراچی نے محکمہ انسدادِ تجاوزات کے افسران اور عملے کے ساتھ ہنگامی اجلاس کی صدارت کی ۔ انہوں نے محکمے کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ غفلت، عدم کارروائی اور عوامی شکایات کے ازالے میں ناکامی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ میئر کراچی نے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو شہر بھر میں جامع کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی، جس میں بالخصوص اہم شاہراہوں، تجارتی علاقوں، مصروف سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے افسران کو واضح لائحہ عمل تیار کرنے، قانون پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے اور 15 روز کے اندر نتائج پیش کرنے کی ہدایت کی. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں اور بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں کی بہتری پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اگر سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی مقامات پر تجاوزات برقرار رہیں تو ان سرمایہ کاریوں کے ثمرات شہریوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور بہتری پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن تجاوزات اور عوامی مقامات پر غیر قانونی قبضوں کے باعث ان ترقیاتی کاموں کے اثرات کو زائل نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ سڑکیں، گلیاں اور فٹ پاتھ شہریوں کی ملکیت ہیں۔ یہ عوام کی آمدورفت اور سہولت کے لیے بنائے گئے ہیں، نہ کہ انہیں تجارتی سرگرمیوں یا ذاتی کاروباری مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ میئر کراچی نے کہا کہ انتظامیہ شہریوں کو درپیش مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ ایک جانب شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب شہریوں کو بند فٹ پاتھوں، ٹریفک کی بھیڑ اور تجاوزات سے بھرے عوامی مقامات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. انہوں نے کہا کہ وہ کراچی کے عوام کو ان مسائل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ شہریوں کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو بلا رکاوٹ استعمال کریں۔ جب حکومت شہر کی بہتری پر بھاری وسائل خرچ کر رہی ہے تو یہ ناقابلِ قبول ہے کہ تجاوزات اور انتظامی غفلت کے باعث عوام بدستور مشکلات برداشت کریں۔ محکمہ انسدادِ تجاوزات کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کے دوروں کے دوران خود سڑکوں، گلیوں اور تجارتی مراکز کی صورتحال کا مشاہدہ کیا ہے۔ زمینی حقائق اس محکمے کی کارکردگی کی عکاسی نہیں کرتے جس کی بنیادی ذمہ داری تجاوزات کا خاتمہ اور عوامی راستوں کو کھلا رکھنا ہے۔ مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ خود شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہیں طویل وضاحتیں، زبانی یقین دہانیاں یا محض حکام کو مطمئن کرنے کے لیے تیار کردہ رپورٹیں نہیں چاہییں، بلکہ عملی، واضح اور دیرپا اقدامات درکار ہیں۔ نتائج سڑکوں پر نظر آنے چاہییں، نہ کہ صرف فائلوں اور اجلاسوں تک محدود رہیں۔ میئر کراچی نے افسران کو یاد دلایا کہ کے ایم سی اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں ہر ماہ لاکھوں روپے ادا کرتی ہے اور عوام کو یہ جائز توقع ہے کہ ہر محکمہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر افسران، عملے اور وسائل کی موجودگی کے باوجود شہریوں کو وہی مسائل درپیش رہیں تو محکمے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ عوام کے پیسے سے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں اور شہریوں کو نتائج حاصل کرنے کا حق ہے۔ اگر محکمہ اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا تو اس کی کارکردگی اور اس کے مسلسل فعال رہنے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ وہ ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے، لیکن نااہلی اور غفلت کو جاری رہنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے یا تو نتائج دیں یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ میئر کراچی نے واضح ڈیڈ لائن دیتے ہوئے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو ہدایت کی کہ نشاندہی کردہ سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں سے 15 روز کے اندر تجاوزات ختم کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حتمی مہلت ہے اور مزید تاخیر، بہانے یا بار بار یقین دہانیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کارروائی کے دوران جن علاقوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، انہیں دوبارہ تجاوزات سے محفوظ رکھا جائے۔ اگر کسی علاقے میں دوبارہ تجاوزات قائم کی جائیں تو متعلقہ ادارے قانون کے مطابق مزید کارروائی کریں، جس میں قانونی جواز موجود ہونے اور مجاز محکموں کے ساتھ رابطے کی صورت میں دکانوں کو سیل کرنا بھی شامل ہے۔ میئر کراچی نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی بلاامتیاز ہونی چاہیے اور اس میں کسی قسم کی جانبداری، اقربا پروری یا ناجائز دباؤ کو قبول نہ کیا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ خلاف ورزی کرنے والے ہر فرد اور کاروبار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ترجیحی سلوک نہیں دیا جانا چاہیے۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔ ایک مرتبہ کسی علاقے سے تجاوزات ختم کر دی جائیں تو وہاں دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔ مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو کے ایم سی کے متعلقہ محکموں اور دیگر اداروں کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ کارروائی مؤثر انداز میں مکمل ہو اور تجاوزات سے پاک کیے گئے مقامات عوام کے لیے قابلِ استعمال رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کارروائی صرف عارضی طور پر تجاوزات ہٹانے تک محدود نہ ہو بلکہ ایسا مستقل نظام قائم کیا جائے جو دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی روک تھام کر سکے. میئر کراچی نے خبردار کیا کہ 15 روز کی مہلت پوری نہ کرنے یا فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضروری ہوا، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کی خدمات مروجہ قواعد کے مطابق ختم کی جا سکتی ہیں، جبکہ سنگین نااہلی یا بدعنوان طرزِ عمل کے معاملات مزید کارروائی کی سفارش کے ساتھ مجاز حکام کو بھجوائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ انہیں قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی دی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شخص قانونی کارروائی میں مداخلت کرنے یا ناجائز دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے تو ایسی مداخلت کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ قانون کی پیروی کریں، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور عوامی مفاد کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اجلاس کے دوران میئر کراچی کو متعلقہ افسران نے شہر کے مختلف اضلاع میں تجاوزات کی صورتحال، جاری کارروائیوں اور شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ میئر کراچی نے ضلع وار صورتحال کا جائزہ لیا اور افسران کو ہدایت کی کہ ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کے لیے مقامات کی نشاندہی کی جائے، آپریشن تیز کیا جائے اور ہر شکایت کا مؤثر اقدامات کے ذریعے ازالہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو نگرانی کا نظام بہتر بنانے، جواب دہی کو مؤثر کرنے اور افسران کی کارکردگی کا جائزہ محض کاغذی کارروائی یا روایتی رپورٹوں کے بجائے عملی نتائج کی بنیاد پر لینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، مالیاتی مشیر گلزار ابڑو اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

جواب دیں

Back to top button