وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے ایک جائزہ اجلاس کے دوران پی ڈی پی پر 25 اکتوبر سے کام کے آغاز کی منظوری دی گئی ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ، مینجنگ ڈائریکٹر پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی سید زاہد عزیز اور ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے پی ڈی پی میں اب تک ہونے والی پیشرفت اور اہداف پر بریفنگ دی۔ 
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پہلے فیز میں باون میں سے اکیاون شہروں کے پی سی ون کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ایک پی سی ون صوبائی ورکنگ پارٹی کے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز نے پی ڈی پی کیلئے 304 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پہلا مرحلہ اٹھارہ سے چوبیس ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے۔ اجلاس میں پی ڈی پی کے لئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا میکانزم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ہر اسسٹنٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ایم او آئی سکیمز کی نگرانی کرے گا۔ ہر وزٹ کی اپنے موبائل فون سے فوٹو ڈیش بورڈ پر لازمی اپ لوڈ کرنا پڑے گی۔ صوبائی وزیر نے زور دیا کہ کہ شفافیت کے لئے پورا پروگرام ڈیجیٹائز ہونا چاہیئے کیونکہ منصوبوں میں شفافیت مریم نواز حکومت کا طرہ امتیاز ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ستھرا پنجاب پروگرام میرٹ اور شفافیت کی واضح مثال ہے۔ صوبائی وزیر نے سب انجینئرز کی کمی دور کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہر شہر میں جامع سیوریج سسٹم اور انڈرگرائونڈ واٹر ٹینک بنایا جائے گا۔ اندرونی سڑکوں، گلیوں کی مرمت ہوگی جبکہ پارکس بھی بنائے جائیں گے۔ ڈسپوزل سٹیشنز اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی سولرائزیشن ہوگی۔ اجلاس کے دوران گجرات اور وزیرآباد میں برساتی نالوں سے نقصانات کے تدارک پر بھی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ٹینڈرنگ کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔





