وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 18 مارچ کی شب کراچی میں آنے والے شدید آندھی اور موسلادھار بارش کے بعد انتظامی ردعمل کا جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ امدادی اور بحالی کے کاموں کی مکمل تکمیل تک فیلڈ میں موجود رہیں۔وزیراعلیٰ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کمشنر کراچی حسن نقوی اور ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے ریسکیو سرگرمیوں، سڑکوں کی بحالی اور شہر بھر میں ٹریفک کی روانی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔کمشنر کی رپورٹ کے مطابق بارش اور آندھی کا سلسلہ شام 7 بجے سے رات 12 بجے تک جاری رہا، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 2 ملی میٹر سے 25 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ طوفان کے باعث درخت گرنے، سائن بورڈز گرنے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے متعدد واقعات پیش آئے۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ بارش سے متعلق حادثات میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوئے، جبکہ ضلع کیماڑی کے علاقے بلدیہ میں سب سے زیادہ 13 اموات رپورٹ ہوئیں۔وزیراعلیٰ کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور ہنگامی سروسز نے فوری طور پر شہر بھر میں ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔اہم شاہراہوں اور سڑکوں سے گرے ہوئے درخت، سائن بورڈز اور دیگر رکاوٹیں ہٹا کر بیشتر علاقوں میں ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی جبکہ حکام کے مطابق بارش کے بعد کہیں بھی بڑے پیمانے پر پانی جمع ہونے یا طویل ٹریفک جام کی صورتحال رپورٹ نہیں ہوئی۔مراد علی شاہ نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حکام کو صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت دی اور کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تمام ادارے مکمل بحالی تک الرٹ رہیں۔وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ٹی ایم سیز، ٹریفک پولیس کراچی، ضلعی انتظامیہ اور کے الیکٹرک سمیت مختلف اداروں نے مشترکہ طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کام کیا۔ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ٹریفک پولیس کی موبائل مکینیکل ورکشاپس شہر بھر میں تعینات کی گئیں تاکہ پھنسے ہوئے شہریوں کی مدد کی جا سکے اور خراب گاڑیوں کو ہٹایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے تمام اداروں کی مربوط کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت اور مؤثر اقدامات سے ٹریفک کی بحالی اور شہریوں کو فوری سہولت فراہم کی گئی۔
حکام نے وزیراعلیٰ کو مختلف اہم شاہراہوں پر کیے گئے کلیئرنس آپریشن سے بھی آگاہ کیا۔ کلب روڈ پر جِمخانہ کے قریب باؤنڈری وال گرنے اور درخت گرنے سے سڑک بند ہوگئی تھی، جسے ہیوی مشینری کے ذریعے صاف کرکے ٹریفک بحال کیا گیا۔کلفٹن کے قریب ہاؤسنگ کراسنگ پر ایک بڑا درخت دونوں لینز پر گرنے سے ٹریفک معطل ہوگئی تھی، جسے ٹریفک پولیس اور بلدیاتی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی سے ہٹا دیا۔راشد منہاس روڈ پر امتیاز اسٹور، سی او ڈی اور ملینیم کے علاقوں میں بجلی کے کھمبے جھک جانے اور تاریں لٹکنے سے خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی تھی، جسے ٹریفک پولیس، کے الیکٹرک اور بلدیاتی اداروں نے مل کر ختم کیا۔
ایم ٹی خان روڈ پر امریکی قونصلیٹ کے قریب درخت گرنے سے مرکزی شاہراہ بند ہوگئی تھی، جسے مختصر وقت میں کھول دیا گیا۔دیگر علاقوں میں بھی شاہراہ فیصل، کورٹ روڈ، نیشنل ہائی وے اور سہراب گوٹھ شامل ہیں جہاں گرے ہوئے درخت اور ملبہ ہٹا کر ٹریفک بحال کیا گیا۔حکام کے مطابق نکاسی آب، صفائی اور بحالی کے کام رات بھر جاری رہے، جبکہ ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ بیشتر اہم شاہراہیں کم وقت میں کھول دی گئیں تاہم بعض مقامات پر معمولی ملبہ موجود ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے تمام اداروں کو ہدایت دی کہ مکمل بحالی تک فیلڈ میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں اور کہا کہ حکومت ہر صورتحال میں شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے، اس لیے تمام متاثرہ علاقوں کی مکمل صفائی اور معمولات زندگی کی بحالی تک کام جاری رکھا جائے۔انہوں نے مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے مستقبل میں موسمی شدت سے نمٹنے کے لیے تیاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔






