سرکاری و بلدیاتی اداروں کے ملازمین کی نجکاری کمپنیز کو حوالگی،بنیادی، آئینی و انسانی حقوق کی پامالی اور استحصال

نجکاری ایک ایسا آئینی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے کوئی بھی فیڈریشن، تنظیم یا یونین چاہے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ 2014ء میں سب سے پہلے صوبہ خیبرپختونخوا میں محکمہ بلدیات و دیہی ترقی نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں میٹروپولیٹن گورنمنٹ سے ملازمین کی خدمات مستعار حاصل کر کے نجکاری کمپنی واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنی اتھارٹی قائم کر کے بلدیاتی اداروں کے عملہ صفائی اور واٹر سپلائی کو نجی کمپنی "واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنی اتھارٹی” کے حوالے کیا گیا جب کہ سال 2016 اور سال 2017 میں صوبہ کے دیگر ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز میں بھی اسی طرح کی واسا کمپنیز معرض وجود میں لا کر متعلقہ TMAs کے عملہ صفائی و عملہ ترسیل آب کی خدمات مستعار لیکر کمپنیز کو متحرک کیا گیا ہے جو ایک فرسودہ نظام کی کڑی ہے۔

یہ ایک کھلا تضاد ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پشاور کے اندر 4 ہزار ملازمین ہیں جن میں سے تقریباً 2 ہزار نجکاری ملازمین ہیں مگر افسوس کہ ان ملازمین کے مسائل پر کبھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی صوبائی حکومت یا صوبائی انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینے کی توفیق ہوئی۔یہی حال دیگر ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز کی واسا کمپنیز کے ملازمین ک بھی ہے۔خیبرپختونخوا کی صوبائی محکموں کی ملازمین ایسوسی ایشنز، فیڈریشنز ، یونینز و تنظیموں بشمول اگیگا کے حالیہ پوسٹروں ڑاور بیانات سے بھی یہ حقیقت عیاں ہے کہ ڈبلیو ایس ایس سیز یا دیگر اداروں کی نجکاری کے بجائے صرف محکمہ ایجوکیشن کے سکولز، کالجز اور ایم ٹی آئی ھسپتالوں کے آؤٹ سورس اور نجکاری پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ اس رویے سے واضح ہے کہ اصل مفاد صرف اور صرف سرکاری ملازمین کا ہی ہے جب کہ نجکاری ملازمین کی مشکلات محض سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ملک کی بڑی بڑی انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی یہی حال ہے انہیں بھی خیبرپختونخوا کے واسا کمپنیز کے پسے ہوئے طبقے کے حقوق کا خیال نہیں یے۔

گزشتہ دس سالوں می بار بار احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں مگر نجکاری برقرار رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ کسی بھی ادارے کو نجکاری میں لا سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں جس کے ذریعہ بلدیاتی ملازمین کا استحصال بند کیا جا سکے اور ان ملازمین کو مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔پہلے تو اس۔ نجکاری کو ختم کیا جائے اگر نجکاری کو ختم کرنا ممکن نہیں تو اس کے اندر ہونے والے ملازمین کے استحصال کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ نجکاری ملازمین کو مستقل کر کے دیگر سرکاری و مستقل بلدیاتی ملازمین کی طرح ڈیپوٹیشن پر حوالہ کریں۔یہ کہ صرف WSSC پشاور کے ملازمین کو صرف ایمپلائز اولڈ ایج بییفٹ (EOBI) اور ای ایس ایس آئی (ESSI) جیسے کمزور اداروں سے منسلک کرنا کھلی حق تلفی ہے۔ ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز کے واسا کمپنیز نجکاری ملازمین کسی بھی طرح کی ایسی سہولیات سے تاحال محروم چلے آ رہے ہیں۔سال 2014 سے لیکر اج تک نہ صوبائی حکومت اور نہ کسی عوامی نمائندہ بشمول سینیٹرز، قومی، صوبائی، بلدیاتی اداروں کے سٹی مئیرز ، ممبران لوکل کونسلز کو انسانی حقوق کے اداروں کو نجکاری پر بات کرنے کا خیال آیا اور نہ ہی کسی کو ان غریب ۔مہنگائی کے پسے ہوئے طبقے کے حقوق کی آواز اٹھانے کی جرآت ہوئی کہ یہ غریب طبقہ کس مشکلات سے گزر رہے ہیں اور ان کے بچے کس طرح کی سختیوں سے گزر رہے ہیں۔ واضع کیا جاتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام نجکاری ملازمین کو مستقل کر کے دیگر سرکاری ملازمین کے مساوی مراعات و حقوق دیے جائیں۔جس طرح گزشتہ دس سالوں سے مستقل ملازمین کمپنیز میں ڈیپوٹیشن پر نجکاری کے تحت کام کر کے سرکاری تنخواہیں اور 20 فیصد ڈیپوٹیشن الاونس اور دیگر مراعات وغیرہ وصول کر رہے ہیں، اسی طرح تمام نجکاری ملازمین کو بھی مستقل ملازمین کے برابر مراعات دیکر ان کی دادرسی کی جا کی سکتی ہے۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 9، 18، 25 اور 27 کی روشنی میں نجکاری کے اندر ہونے والی ناانصافیوں کا سدباب کیا جائے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر کم سے کم ماہانہ اجرت 80 ہزار روپے مقرر کی جائے تاکہ فیکٹریوں، کارخانوں اور نجی کمپنیز کے مزدور بھی باعزت زندگی گزار سکیں اور ان کے بچے سکھ کا سانس لے سکیں۔اگر حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ صرف نجکاری مزدوروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہوگا کیوں کہ یہ مزدور بھی آئینی ، انسانی اور بنیادی حقوق رکھتے ہیں۔ اس موقع پر لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنی اتھارٹیز کا قیام صوبائی حکومت کا غیر دانشمندانہ اقدام اور سالانہ اربوں روپے کے ضیاع کے مترادف ہے اور فیڈریشن عہدیداران نے صوبہ بھر کے بلدیاتی اداروں سے وابستہ ملازمین بشمول واسا کمپنیز کے مسفقل و نجکاری ملازمین کے بنیادی آئینی و انسانی حقوق کی پامالی اور استحصال کی سخت الفاظ مین مذمت کرتے ہوئے بلدیاتی ملازمین کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے عالمی ادارہ محنت کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ، وزیر اعظم پاکستان ، وفاقی وزیر محنت پاکستان، وفاقی سیکریٹری محنت پاکستان، حکومت پاکستان ،حکومت خیبرپختونخوا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ، صوبائی وزیر محنت ، مشیر خزانہ برائے وزیر اعلی، سیکریٹری مالیات خیبرپختونخوا ، سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا ، سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا ، تمام چییرمینز و چیف ایگزیکٹیو آفیسرز واٹر اینڈ سینیٹیشن کمپنی اتھارٹیز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین بشمول واسا کمپنیز کے ملازمین کے بنیادی آئینی اور انسانی حقوق کی پامالی ختم کی جائے ان کو دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مساوی حقوق دینےاور واسا کمپنی کے نجکاری ملازمین کو لوکل کونسل بورڈ کے سال 2016 کے سرکلر کے مطابق مستقل کرنے کے احکام صادر کرکے بلدیاتی ملازمین کا استحصال ختم کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button