*کراچی میں بارش کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا ہنگامی دورہ،میڈیا ٹاک*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشیں مقامی نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا تسلسل ہیں، جن کے اثرات دنیا بھر کی طرح پاکستان اور کراچی پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں کے باوجود انتظامیہ نے فوری نکاسیٔ آب یقینی بنائی اور شہر رات گئے کلیئر کر دیا گیا۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے، مگر شہریوں، نجی اداروں اور میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ عوام کو بارش کے دوران مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کراچی میں جاری بارش کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن اور سعید غنی کے ہمراہ شہر کے ہنگامی دورے پر روانہ ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے دورے کا آغاز شاہراہ فیصل سے کیا جہاں انہوں نے برساتی پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہری اداروں اور انتظامیہ کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ نکاسیٔ آب اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فریئر ہال پہنچے جہاں انہیں میئر کراچی نے برساتی صورتحال اور شہر میں جاری کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے نرسری نالے کا معائنہ بھی کیا اور نکاسیٔ آب کے بہاؤ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میئر کراچی نے وزیراعلیٰ کو نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی نکاسی کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی وزراء، بلدیاتی ادارے اور تمام متعلقہ محکمے فیلڈ میں متحرک رہیں اور شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے بھرپور اقدامات یقینی بنائیں۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں تاکہ ٹریفک اور دیگر مسائل میں کمی لائی جا سکے۔

میڈیا ٹاک: کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران نے انھوں نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کا سلسلہ جو کل سے جاری ہے، یہ محض ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمٹ چینج کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ حال ہی میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ایک بڑا سانحہ پیش آیا جہاں چار سو سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ چند مہینوں میں چین، نیویارک، ہیوسٹن اور دیگر ممالک میں بھی غیرمعمولی بارشوں اور سیلابی صورتحال نے لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی ان موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں ہے، راولپنڈی اور لاہور میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں شدید نقصان ہوا، پورا لاہور ڈوب گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا یہ سب موسمیاتی تبدیلی کی واضح مثال ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ کراچی میں گزشتہ روز شدید بارش ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کل کراچی میں صرف 3 سے 4 گھنٹوں میں تقریباً 160 سے 170 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ 12 گھنٹوں کے دوران بارش کی مجموعی مقدار 185 سے 200 ملی میٹر تک رہی۔ اس قدر بارش جب بھی ہوتی ہے تو فلڈنگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسی دوران بھارت کے شہر ممبئی میں بھی شدید بارش ہوئی جہاں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا یہ بات بھی اہم ہے کہ ممبئی کی اوسط برسات کراچی سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے اور اس وقت ممبئی بھی بارش کے باعث ڈوبا ہوا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غیر معمولی بارشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف ایک شہر یا ملک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں بارشوں اور اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور جدید نظامِ نکاسی آب ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کو بارش کے دوران مشکلات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں شدید بارش کے باوجود شہر میں پانی کی نکاسی رات گئے مکمل طور پر کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور عوام کی جانب سے یہ کہا گیا کہ انتظامیہ تیار نہیں تھی، لیکن میں نے خود رات کو بارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں دیکھا کہ وہ سڑکیں جہاں بارش کے فوراً بعد پانی کھڑا تھا، صبح تک کلیئر ہو چکی تھیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ نالے صاف تھے اور نکاسی کا نظام فعال رہا۔ انہوں نے کہا اگر نالے بند ہوتے تو پانی دنوں تک کھڑا رہتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کراچی ایک گنجان آباد شہر ہے، اس لیے چند گھنٹے کی شدید بارش کے بعد وقتی طور پر پانی جمع ہونا فطری بات ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2020 میں بھی ایسی ہی بارش کے دوران صورتحال کہیں زیادہ خراب تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا اس وقت بارش کے کئی گھنٹے بعد بھی سڑکیں بند رہیں اور 24 گھنٹے تک پانی چھتوں تک کھڑا رہا۔ اس کے مقابلے میں اس بار کی نکاسی زیادہ تیز اور مؤثر رہی ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت تنقید کو برا نہیں مانتی۔ انہوں نے کہا یہ ہمارا کام ہے کہ شہریوں کے مسائل حل کریں۔ تنقید ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام ہم سے توقع رکھتے ہیں، اور ہم اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارش کے دوران انتظامیہ مسلسل سڑکوں پر موجود رہی اور نکاسیٔ آب کے عمل کو تیز کرنے کے لیے دن رات کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود رات کو بارہ بجے تک مختلف علاقوں میں موجود رہا اور انتظامیہ کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیتا رہا۔ کل بھی اور آج بھی اہلکار موقع پر موجود ہیں۔ اگر انتظامیہ موجود نہ ہوتی تو پانی کئی دنوں تک کھڑا رہتا، لیکن چار پانچ گھنٹوں میں سڑکیں کلیئر ہو گئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بعض اوقات میڈیا پر پرانے مناظر دکھا کر تاثر دیا جاتا ہے کہ شہر اب بھی ڈوبا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا مجھے حیرت ہے کہ بعض چینلز کل کا منظر آج دکھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو گمراہ کن تاثر ملتا ہے۔ میں خود شارع فیصل پر کھڑا ہوں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ انتظامیہ یہاں موجود ہے اور کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء اور دیگر ذمہ دار افسران بھی سڑکوں پر تھے۔ انہوں نے کہا شرجیل انعام میمن نے خود میڈیا پر کہا کہ وہ بارش کے دوران باہر موجود ہیں اور کام کی نگرانی کر رہے ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ انتظامیہ نظر نہیں آ رہی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت تنقید کو مثبت انداز میں لیتی ہے۔ انہوں نے کہا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ اسی لیے میں نے رات کو میٹنگ بلا کر اگلے دن کی ممکنہ تیز بارش کے لیے بھی پہلے سے تیاری کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور ممکنہ مزید تیز بارش کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے عام تعطیل کا فیصلہ عوام کے تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے اسکول بند کیے اور پھر عام تعطیل کا اعلان کیا تاکہ شہری غیر ضروری طور پر سڑکوں پر نہ نکلیں۔ مگر آج محض آدھے گھنٹے کی بارش کے بعد دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں گاڑیاں دفاتر سے نکل کر گھروں کو جا رہی ہیں۔ اگر بارش مزید تیز ہو جاتی تو یہ تمام لوگ سڑکوں پر پھنس جاتے اور پھر سارا الزام انتظامیہ پر آتا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بارش کا پانی منٹوں میں نہیں نکلتا اور ایسے میں شہریوں کا گھروں میں رہنا ہی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا ہماری ذمہ داری ہے کہ اقدامات کریں، لیکن ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے فیصلوں پر عمل کرے تاکہ مشکل حالات میں کسی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تنقید سے نہیں گھبراتی لیکن شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا جب حکومت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر شہری تعاون نہیں کریں گے تو صرف انتظامیہ پر بوجھ ڈالنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں صرف دو سے تین گھنٹے کی بارش کے دوران شہر میں پانی جمع ہو گیا، گاڑیاں بند ہوئیں اور متعدد شہریوں کو اپنی گاڑیاں سڑکوں پر چھوڑ کر پیدل جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ سب ایک ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔ ہم نے اس وقت میڈیا کے ذریعے عوام سے اپیل کی تھی کہ جو جہاں ہے وہ وہیں رک جائے، چاہے دفتر میں ہو یا بچے اسکول میں ہوں، چند گھنٹے رکنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ لوگ سڑکوں پر پھنس جائیں یا ان کی گاڑیاں خراب ہو جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا نے اس پیغام کو بھرپور انداز میں اجاگر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا میڈیا زیادہ تر اس وقت بارش کے مناظر دکھانے میں مصروف رہا کہ کہاں پانی کھڑا ہے، گاڑیاں ڈوب رہی ہیں۔ یہ بھی میڈیا کا کام ہے لیکن ساتھ ساتھ عوام کو گائیڈ کرنا بھی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتیاط کریں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے مگر شہریوں اور میڈیا دونوں کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہم سب کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ بارش کے دوران بے احتیاطی مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگر ہم سب تعاون کریں تو نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والی شدید بارش کے دوران صوبائی اور بلدیاتی ادارے، میئر کراچی، وزیر بلدیات، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز سب فیلڈ میں موجود تھے اور نکاسیٔ آب کے کام کی نگرانی کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ کوتاہیاں ضرور ہوئیں، لیکن یہ کہنا انتہائی نامناسب اور ناانصافی ہے کہ حکومت نے کچھ نہیں کیا اور بیٹھی رہی۔ اگر حکومت نے کچھ نہیں کیا ہوتا تو پانچ سے چھ گھنٹوں میں شارع فیصل اور دیگر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک بحال نہ ہو پاتی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بارہ انڈر پاسز پر پانی ضرور جمع ہوا تھا، لیکن رات گئے نکاسی کے بعد بیشتر کلیئر ہو گئے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جب ایک گھنٹے میں سو ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو تو دنیا کا کوئی شہر اپنے انڈر پاسز کو فوری طور پر کلیئر نہیں رکھ سکتا، خاص طور پر کراچی جیسے شہر میں جہاں اوسط بارش صرف دو سے تین ملی میٹر ہوتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ کراچی جیسے گنجان شہر میں اگر چند گھنٹوں میں 120 سے 130 ملی میٹر بارش ہو جائے تو اربن فلڈنگ فطری بات ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا شدید بارش کے باوجود انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور یہی وجہ ہے کہ شہری اگلے ہی روز مرکزی شاہراہوں پر بحال ٹریفک دیکھ سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ شدید بارش کے بعد انتظامیہ نے بھرپور کام کیا اور 14 میں سے 11 انڈر پاسز کو کلیئر کر دیا گیا ہے، صرف 2 سے 3 انڈر پاسز میں پانی موجود ہے جن پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب انتظامیہ کی کوششوں سے ممکن ہوا ہے۔ اگر نالے صاف نہ کیے گئے ہوتے تو پانی کیسے بہہ جاتا؟ یہ درست نہیں کہ کہا جائے نالے پہلے صاف نہیں تھے اور چند گھنٹوں میں معجزانہ طور پر صاف ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ نالے صاف کیے گئے تھے، اسی لیے بارش کے چند گھنٹوں بعد ہی پانی نکل گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیاسی مخالفین تنقید ضرور کریں لیکن حقائق کو تسلیم بھی کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا مخالفین یہ نہیں کہیں گے کہ لوکل گورنمنٹ نے کام کیا، بلکہ یہ کہیں گے کہ بارش زیادہ ہوئی اس لیے نکاسی متاثر ہوئی۔ ہم مانتے ہیں کہ کوتاہیاں ہوئیں اور ان پر ایکشن بھی لیا جا رہا ہے۔ کل بھی میں نے افسران کو سزا دی اور آج بھی اجلاس میں یہی جائزہ لیا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی ادارے اور لوکل گورنمنٹ کا عملہ بارش کے دوران فیلڈ میں موجود تھا اور ان کی محنت سے شہریوں کو فوری ریلیف ملا۔ انہوں نے کہا بارش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس پر ہمارا اختیار نہیں، لیکن انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور یہی وجہ ہے کہ آج شہر بڑی حد تک کلیئر ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کے دوران حکومت نے اپنی تیاریاں کیں اور انتظامیہ فیلڈ میں موجود رہی، مگر شہری اور نجی ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری کریں تو مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تیاریاں نہ کرے تو کہا جاتا ہے کہ حکومت بیٹھی رہی اور کچھ نہیں کیا، اور اگر تیاریاں کرے تو کہا جاتا ہے کہ سب ڈھیر ہو گیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کا کام کیا لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ شہری اور نجی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میڈیا کی بھی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو درست پیغام دے۔ میڈیا کو چاہیے تھا کہ بارش کے دوران یہ پیغام عام کرتا کہ لوگ گھروں اور دفاتر میں رکیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ اگر لوگ چند گھنٹے اپنے دفاتر میں رک جاتے تو وہ مناظر سامنے نہ آتے جن میں ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر پھنسی نظر آئیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے ہی اسکول بند کر دیے تھے اور عام تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا لیکن متعدد نجی اداروں نے دفاتر کھلے رکھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا جب بارش دوپہر دو بجے کے قریب شروع ہوئی تو اسی وقت ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر نکل آئیں اور ٹریفک جام ہوگیا۔ اگر دفاتر حکومتی ہدایات پر عمل کرتے تو شہریوں کو اس تکلیف سے بچایا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری تسلیم کرتی ہے اور اسے پورا بھی کر رہی ہے، مگر شہری اور ادارے بھی تعاون کریں۔ انہوں نے کہا یہ مسئلہ صرف حکومت کے اقدامات سے حل نہیں ہوگا، سب کو مل کر اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بارش کے دوران شہریوں کو درپیش مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ شہر کے نظام کو مؤثر حکمتِ عملی اور بااختیار اداروں کے ذریعے چلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ سڑکوں پر بیٹھ کر میں فوری طور پر تمام مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ایک مؤثر اتھارٹی ہونا ضروری ہے، مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہ اتھارٹی ہو کون؟ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے پہلے بھی شہری اداروں کو بااختیار بنایا ہے۔ انہوں نے کہا واٹر بورڈ پہلے صوبائی حکومت کے پاس تھا، ہم نے اسے میئر کے حوالے کر دیا ہے۔ اسی طرح باقی اداروں میں بھی میئر کو نمائندگی دی گئی ہے تاکہ وہ زیادہ بااختیار ہوں۔۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ادارے صرف فنڈز کے مطالبات پر زور دیتے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا اس وقت وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ پیسے کتنے دیے جائیں گے، جب میرے پاس آتے تو یہی کہتے کہ ہمیں چند سو ملین دے دیں۔ لیکن ہم نے صرف فنڈز دینے کے بجائے اداروں کو عملی طور پر زیادہ مضبوط اور بااختیار بنانے پر توجہ دی ہے۔ لیکن موجودہ میئر نے ایسا نہیں کیا، انہوں نے اپنے وسائل بڑھائے اور عملی طور پر شہر کے مسائل کے حل کے لیے کام کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ میئر کراچی نے فنڈز کے مطالبات کرنے کے بجائے اپنے وسائل بڑھا کر عملی اقدامات کیے ہیں، جو ایک مثبت اور قابلِ تعریف رویہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب کوئی عوامی نمائندہ یا ادارہ اپنی ذمہ داری سنجیدگی سے نبھاتا ہے تو حکومت کو بھی اس کی مدد کرنے میں دل سے خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا جب کوئی آدمی خود محنت کرے اور نتائج دکھائے تو پھر اس کی سپورٹ کرنے میں نہ صرف دل چاہتا ہے بلکہ اس سے مزید حوصلہ بھی ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور بلدیاتی نمائندے مل کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی شہری سہولت کے لیے اداروں کو مزید بااختیار بنانے کے اقدامات جاری رہیں گے۔

سوال و جواب :

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک نے 2020 میں کراچی کے لیے 1.6 ارب ڈالر کا پیکج منظور کیا تھا جس میں سے اب تک 100 ملین ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ ہمیں دو ارب روپے مل گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ بینک فنڈز مرحلہ وار فراہم کرتا ہے اور ہر مرحلے کے ساتھ واضح پلان اور کارکردگی دکھانا لازمی ہوتا ہے۔ یہ فنڈز یوں ہی نہیں مل جاتے کہ بس پیسے دے دیے جائیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک کے پہلے مرحلے میں 100 ملین ڈالر کی رقم استعمال ہوئی جس کے ذریعے واٹر بورڈ کی استعداد کار (capacity building) میں اضافہ کیا گیا، واٹر بورڈ کو توڑ کر نیا واٹر کارپوریشن بنایا گیا اور پرائیویٹ سیکٹر کے ماہرین شامل کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ اصلاحات مکمل ہوئیں تو اگلا مرحلہ شروع کیا گیا جس میں مزید 600 ملین ڈالر شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے بعض مبصرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہر کوئی ایکسپرٹ بننے لگتا ہے اور نمبرز غلط پیش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک 100 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 28 سے 30 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں، اور یہ اعداد و شمار وہی ہیں جو سرکاری اور درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت شفاف طریقے سے فنڈز استعمال کر رہی ہے اور شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مزید اقدامات جاری رکھے گی۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ کراچی میں مختلف جماعتوں کے چیئرمین اور ٹاؤن ایڈمنسٹریشن موجود ہیں، جن میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے تیرہ ٹاؤن چیئرمین بھی شامل ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے وہی لوگ حکومت پر الزام تراشی کر رہے ہیں کہ کراچی کو تباہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتا، لیکن یہ گزارش ضرور کروں گا کہ ہر ایک اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ میڈیا پر بیانات دینا آسان ہے مگر اصل امتحان میدان میں ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2020 اور 2022 کی شدید بارشوں میں ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی) ساؤتھ کی مشینری اور عملہ سڑکوں پر متحرک دکھائی دیتا تھا، مگر اس بار وہ نظر کم آیا۔ انہوں نے کہا کہ جب گزشتہ رات اور آج میٹنگز ہوئیں تو اس بات پر سوال اٹھایا گیا کہ ٹاؤنز کے قیام کے بعد انتظامی معاملات میں تقسیم کی وجہ سے کارکردگی متاثر کیوں ہوئی؟انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا سب کا حق ہے، مگر صرف تنقید سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے اور ہم تنقید سننے کے لیے تیار ہیں، مگر ساتھ ہی ہم سب کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داری قبول کریں اور عملی اقدامات کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے لیکن مقامی سطح پر نمائندوں اور اداروں کو بھی متحرک ہونا ہوگا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ بارش کے دوران حکومت سندھ کے وزراء سعید غنی، شرجیل انعام میمن اور ناصر حسین شاہ سمیت دیگر ذمہ داران سڑکوں پر موجود رہے اور صورتحال کی نگرانی کرتے رہے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی تعداد میں بلدیاتی نمائندے اور دیگر عملہ کہاں تھا؟ یہ بھی ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان موجود ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بارش کے اثرات مکمل طور پر ختم کرنا فوری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بیٹھ کر یہ کہنا آسان ہے کہ عملہ نظر نہیں آ رہا، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ میں خود دو گھنٹے شہر میں گھومتا رہا اور صورتحال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ اتنا بڑا شہر ہے، ہر جگہ بیک وقت ٹیمیں پہنچانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بارش کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عام طور پر اگست میں اوسط بارش 2 سے 3 ملی میٹر ہوتی ہے جبکہ 30 ملی میٹر کو بڑی بارش کہا جاتا ہے۔ لیکن جب 100 ملی میٹر فی گھنٹہ کی بارش ہو تو کوئی بھی شہر اسے فوری طور پر سنبھال نہیں سکتا۔ ایسا ڈیزائن کرنے کے لیے پورے شہر کو دوبارہ کھودنا پڑے گا، جس کے لیے اربوں ڈالر اور کئی سال درکار ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے ہر شہر میں ہوتا ہے کہ غیر معمولی بارش کی صورت میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ یہی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا اصول ہے کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ اتنی بڑی بارش میں پانی کھڑا ہوگا، اور اس کے بعد نکاسی کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ شدید بارش کے دوران گھروں سے غیر ضروری طور پر نہ نکلیں تاکہ ٹریفک جام اور دیگر مشکلات میں کمی ہو۔ ہم نے کل بھی کہا تھا کہ شہری ایک دن گھروں میں رہیں، مگر لوگ پھر بھی نکلے اور ٹریفک کے مسائل مزید بڑھ گئے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ کراچی میں سڑکوں کی کٹنگ کے معاملے پر مختلف اداروں کی اپنی اپنی اجازت دینے کی پالیسی نے شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے شہر کی سڑکیں بار بار کھنڈر کا منظر پیش کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز، کے ڈی اے، کاؤنٹس یا کے ایم سی سب اپنی اپنی اجازت جاری کرتے ہیں اور اس کا کوئی مربوط سسٹم موجود نہیں۔ ہم نے پہلے بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور آج ایک بار پھر اس پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے کہ اگر ہر ادارہ اپنی مرضی سے اجازت دیتا رہے گا تو شہر کے انفرااسٹرکچر کو نقصان ہی پہنچے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک مرکزی اتھارٹی قائم کی جائے جو روڈ کٹنگ کی اجازت دینے کے تمام معاملات کو یکجا کرے اور اس پر باقاعدہ نگرانی رکھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ جس ادارے کو روڈ کٹنگ کی اجازت دی جائے، اسی سے یہ کام معیاری طریقے سے مکمل کروایا جائے تاکہ عوام کو بار بار پریشانی نہ ہو۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ایسے مسائل ہیں جنہیں مستقل بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم نے روڈ کٹنگ اور دیگر بلدیاتی کاموں کو مربوط نہ کیا تو شہریوں کو ہمیشہ یہی مشکلات درپیش رہیں گی۔

جواب دیں

Back to top button