پاکستان کے نئے دارالحکومت کیلئے "اسلام آباد” کے نام کی منظوری 24 فروری 1960 کو دی گئی۔ یہ نام عارف والا کے سکول ٹیچر قاضی عبدالرحمن’ نے تجویز کیا تھا

پاکستان کے نئے دارالحکومت کیلئے "اسلام آباد” کے نام کی منظوری 24 فروری 1960 کو دی گئی۔ یہ نام عارف والا کے سکول ٹیچر قاضی عبدالرحمن’ نے تجویز کیا تھا۔ صدر پاکستان نے اُنہیں اسلام آباد میں ایک کنال کا پلاٹ انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا. اس اعلان پر عملدرآمد میں 63 سال لگے.

+

قاضی عبدالرحمٰن 1908 میں بھٹے وڈ (امرتسر) میں پیدا ہوئے۔انھوں نے گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر اور اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے تعلیم حاصل کی. قیام پاکستان کے بعد عارف والا (ساہیوال) چلے آئے اور ضلع ساہیوال کے مختلف سکولوں میں معلمی کے فرائض انجام دیے. سب سے طویل عرصہ ٹاؤن کمیٹی ہائی سکول عارف والا میں گزارا۔یہیں سے 1968 میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔

قاضی صاحب جن دنوں اسلامیہ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھے۔علامہ اقبال پنجاب لیجسلیٹو کونسل کا الیکشن لڑ رہے تھے۔قاضی صاحب ان کے انتخابی جلوسوں میں شریک ہوتے تھے۔ایک روز جلوس مسجدوزیرخان کے پاس سے گزرا تو مسجدسے اذان کی آواز آنے پروہیں صفیں باندھ لی گئی۔قاضی عبدالرحمٰن کو امامت کے لیے کہا گیا۔قاضی صاحب ساری زندگی اس بات پر نازاں رہے کہ علامہ اقبال نے ان کی امامت میں نماز پڑھی تھی۔اس واقعے کو انھوں نے اردو ڈائجسٹ میں”ایک یادگار واقعہ“ کے عنوان سے بڑی تفصیل سے بیان کیا ۔لاہور کی محفلوں میں انھیں ایم۔ڈی۔تاثیر، ،ظفر علی خان،طغرائی امرتسری اورصوفی تبسم جیسی شخصیات سے ملاقات کا موقع ملا۔

وہ ایک عمدہ نعت گو بھی تھے، ان کا نعتیہ شعری مجموعہ ”ہوائے طیبہ“کے نام سے 1981 میں شائع ہوا.ان کے صاحبزادے قاضی حبیب الرحمٰن بھی شاعر ہیں. قاضی عبدالرحمن کا انتقال 25اپریل 1990 کو ہوا (ڈاکٹر افتخار شفیع)

+

جب اسلام آباد بنایا گیا تو اس سارے علاقے میں گیدڑ بولتے تھے اور لوگ وہاں دن میں بھی جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔ کوئی بھی شخص ان جنگل بیابانوں میں رہنے کو تیار نہیں تھا۔ ہر طرف خود رو بھنگ اور جنگل اگے تھے۔ وہاں کی زمینیں اور پلاٹ بے حد سستے تھے جبکہ قریبی جڑواں شہر راولپنڈی میں پلاٹ اور گھر مہنگے تھے۔ ہمارے خاندان نے بھی انہی دنوں بہاولپور سے اس علاقے میں نقل مکانی کی ٹھانی تو اسلام آباد کی جگہ راولپنڈی میں رہائش گاہ بنانے کا فیصلہ کیا.

اسلام آباد تب تک بھی خالی خالی ہی تھا۔ اسلام آباد کی ویران سڑکوں پر بسیں خالی چلا کرتی تھیں۔ انہی دنوں اسلام آباد کے ایک سیکٹر کو رمنا کا نام دیا گیا تو جماعت اسلامی والوں نے اودھم مچا دیا کہ اس نام میں رام ہے۔

سرکاری ملازموں سے یہ شہر بسایا گیا۔ سی ڈی اے نے سرکاری رہائش گاہیں بنائیں۔ جو سرکاری ملازمین کو مفت یا سستے کرائے پر دی جاتی تھیں۔ مرکزی حکومت کے ملازم بے شمار بنگالی بھی کراچی سے وہاں منتقل ہوئے. شہر میں ہر طرف بنگالی نظر آنے لگے۔ اس زمانے میں شہر میں پلاٹ بہت سستے تھے۔

اسلام آباد میں صرف ایک فور سٹار ہوٹل ہوتا تھا جسکا نام شہرزاد تھا۔ بہت سارے ملکوں کی ایمبیسیاں بھی راولپنڈی ہی میں تھیں کیونکہ اسلام آباد میں اندھیرا ہوتے ہی الو بولنے لگتے۔ آب پارہ مارکیٹ شام کے چھ بجے بند ہو جاتی تھی (ناصر خاں ناصر)

جواب دیں

Back to top button