”اپنی چھت، اپنا گھرپراجیکٹ“ پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 6 ماہ میں ”اپنی چھت،اپنا گھر“ پراجیکٹ کا وعدہ پورا کردیا۔ ”اپنی چھت،اپنا گھر“پراجیکٹ کے تحت 50ہزار سے زائد لون جاری کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ایکسپو سنٹرمیں خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ ”اپنی چھت،اپنا گھر“ پراجیکٹ کی تقریب میں پنجاب بھر سے لون لینے والے ہزاروں خاندان شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی تقریب میں ”اپنی چھت،اپنا گھر“پراجیکٹ سے گھر بنانے والے خاندانوں سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے خواتین سے ہاتھ ملایا اور بچوں کو پیار کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے”اپنی چھت،اپنا گھر“پراجیکٹ سے گھر بنانے والے افراد کو مبارکباد پیش کی۔رکشہ ڈرائیور نے کہا کہ گھر بنانے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسیلہ بنا دیا۔ ایک خاتون نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز شریف نے میرے گھر کے خواب کو تعبیر دی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف ”اپنی چھت،اپنا گھر“پراجیکٹ سے گھر بنانے والوں میں بیٹھ گئیں۔ راولپنڈی کے غفور مسیح گھر کا خواب پورا ہونے کی داستان سناتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اورنواز شریف اور مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ سپیشل پرسن سید وحید نے اپنے تاثرات بیان کئے جس پر وزیراعلی مریم نواز شریف نے اپنی نشست سے اٹھ کران کا استقبال کیا۔ ”اپنی چھت،اپنا گھر“ سے مکان بنانے والی لبنیٰ شریف اورروبینہ عاشق نے بھی اپنے تاثرات اور تجربات بیان کئے۔ملتان کی خاتون اپنی داستان بتاتے ہوئے روپڑی کہ قرض کے لئے اپلائی کیا تھا مگر ملنے کی توقع نہیں تھی۔ پہلی قسط ملی تو خوشی کی انتہا نہ تھی۔ صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے ”اپنی چھت،اپنا گھر“ پراجیکٹ پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خاتون کی خواہش پر سیلفی بھی بنائیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 5 سے 10 مرلہ تک 74 ارب روپے سے زائد بلا سود لون جاری۔اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ کے پہلے فیز میں.9 99 فیصد قرض کی ریکوری ہوئی ہے۔ 37 ہزار سے زائد خاندانوں کو لون کی دونوں اقساط جاری کر دی گئی ہیں، 52 ہزار سے زائد گھر بن رہے ہیں۔ 5 سے 10 مرلہ تک گھر بنانے کے لئے 74 ارب روپے سے زائد لون جاری کیے جا چکے ہیں۔ تقریب میں صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری،اعلی افسروں نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے لئے 50ہزار سے زائد لون مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں اپنی زمین، اپنا گھر پروگرام لانچ کرنے کااعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے اپنی زمین، اپنا گھر سکیم کے تحت مفت پلاٹ دینے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنی زمین، اپنا گھر سکیم کے پہلے فیز میں 2ہزار پلاٹ دیئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے گھر بنانے والے خاندانوں کو مبارکباد پیش کی۔پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت مخلص ہے۔ آئی جی انتظار رکرتے رہے، احتجاج کے لئے کوئی نہیں آیا، لگتا ہے عقل آگئی۔ بے ہنگم شوراور گالم گلوچ والی سیاست کارکردگی کے بوجھ کے نیچے دفن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فساد پھیلانے والے کیا جانیں خدمت کا مزا کیا ہوتا ہے۔ پنجاب کا مقدر سازش نہیں خدمت کے ہاتھ میں ہے۔ ہر وعدہ پورا کریں گے اورقدم قدم پر خدمت کے نشان چھوڑ کر جائیں گے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف قوم کی زندگیوں میں بہتری لارہے ہیں۔محمد نواز شریف ہر میٹنگ میں بجلی سستی اور مہنگائی کم کرنے کا کہتے ہیں۔ نواز شریف مجھے ہر روز تلقین کرتے ہیں کہ مخلوق کی خدمت کے لئے نیت کو خالص کریں۔ پنجاب میں ترقی ہر سو نظر آنا شروع ہوگی ہے۔ پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر ابھرتے ہوئے سورج کی طرح طلوع ہورہا ہے۔ پاکستان کی اکنامک آؤٹ لک بہتری کے اعشارے دے رہی ہے۔ مثبت رجحانات ہرسو نظر آرہے ہیں پنجاب میں بہت سی نئی سکیمیں لارہے ہیں۔ ہر شہر میں بد ترین علاقوں میں مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ ساؤتھ پنجاب اور پوٹھوہار ریجن میں پینے کا صاف پانی مہیاکریں گے۔ 24ہزار دیہات کو ماڈل بنانا میرا عزم ہے۔ ہر گاؤں کی گلیاں، سڑکیں پکی،سکولوں اورہسپتالوں کی ری ویمپنگ اور سیوریج سسٹم وغیرہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجا ب میں ہر شہر کے لئے 1100ای بسیں آرہی ہیں۔

جہاں مرضی جائیں الیکٹرک بس کا کرایہ صرف 20روپے ہی ہوگا۔ لاہور میں جنوبی ایشیا کی پہلی ایس آر ٹی ٹرین لارہے ہیں۔ لاہور کی عوام کو 20روپے میں عزت کی سواری ملے گی۔پنجاب کے ہر شہر کے لئے ای بسیں آئیں گی کیونکہ ہر شہر اور ہر شہری برابر ہیں۔ جرائم پیشہ لوگ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر جرم نہ کرنے کا عہد کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو 13لاکھ راشن کارڈ دے رہے ہیں۔ پنجاب کے 19 شہروں میں بے زمین لوگوں کو پلاٹ اور گھر بنانے کے لئے قرض دیں گے۔حکومت پنجاب ہر روز نیا پراجیکٹ لانچ کررہی ہے۔ اپنی چھت، اپناگھر میرے دل کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی کرایہ نہ دینے پر گھر سے نہیں نکالا جاسکے گا۔بچوں کو گھرکاسکون دینا والدین کا خوب ہوتا ہے۔ میں گھر بنانے والے ہر شخص، ہر خاندان کی خوشی میں شریک ہوں۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کی کامیابی پر سرجھکا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ اپنی چھت، اپنا گھر سو فیصد بلاسود قرض ہے، 9 سال میں واپس کرنا ہے۔اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کی اصرار کرکے ماہانہ قسط15ہزار سے کم کروائی۔ اپنی چھت، اپنا گھرپراجیکٹ کے تحت ہر شخص باآسانی 15ہزار ماہانہ ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ٹیم کے ساتھ ملکر کر بہت محنت کے ساتھ اپنی چھت، اپنا گھر کا ماڈل تشکیل دیا۔ اکتوبر نومبر میں پراجیکٹ لانچ کیا، 45ہزار گھر بن رہے ہیں، 9 ہزار گھر مکمل ہوچکے ہیں۔میرا بس چلتا تو گھر بنانے والے ہر خاندان کو خود جا کر مبارکباد پیش کرتی۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ میں شفافیت کے لئے 60سے 70ہزار لوگوں کو کالیں کی گئی۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے بارے میں 95 فیصد لوگوں کی فیڈ بیک اطمینان بخش رہی۔ اپنی چھت، اپنا گھر اجیکٹ سے متعلق روزانہ کالیں سنتی ہوں۔ یہ 64ہزار گھر نہیں بلکہ ہزاروں کہانیاں اور داستانیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگست کے آخر تک قرضوں کا اجراء 64سے 75ہزار تک پہنچ جائے گا۔ ایک سال میں ایک لاکھ اور پانچ سال میں پانچ لاکھ گھر بنانے کا ہدف پورا کریں گے۔اپنی چھت،ا پنا گھر پراجیکٹ کے تحت تقریباً25 لاکھ لوگ مستفید ہوں گے۔ محمد نواز شریف اور محمد شہبازشریف نے بھی اپنے دور میں گھر بنائیں اور لوگوں کو دیئے۔ سرکاری طور پرفی گھر بنا کر دینے کا تخمینہ 40 لاکھ روپے تھا جو عام آدمی کے لئے مشکل تھا۔انہوں نے کہا کہ دل دہلا دینے والی داستانیں سن کر فرط جذبات سے آنسو آگئے۔ دنیا بھر میں اپنی چھت، اپنا پراجیکٹ کی مثال دی جائے گی۔ پبلک سیکٹر میں ہاؤسنگ کے کسی پراجیکٹ کی ایسی مثال نہیں ملتی۔ محمد نواشریف صاحب نے لوگوں کو خود چیک دیکر اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کا آغاز کیا۔اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے……پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔ حوصلہ افزائی کرنے پر قائد محمد نوازشریف کا شکرایہ ادا کرتی ہوں۔عوام گواہ ہے کسی کو قرض کے لئے سفارش یا رشوت کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی گھر رشوت یا سفارش سے نہیں بنا، آپ سر اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ میرا گھر ہے۔ اپنی چھت، اپناگھر پراجیکٹ کی ہر سٹوری پر میری نظر ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو دوسروں کے گھروں کی اینٹیں اٹھاتے تھے، آج اپنے گھرکی اینٹیں لگارہے ہیں اور چابیاں اٹھارہے ہیں۔ میں نے دیکھا میاں بیوی بچوں سمیت خود ملکر اپنے گھر کے لئے محنت کررہے ہیں۔ میں نے عوام کو اپنی چھت دینے کا وعدہ کیا، وعدہ نبھایا اور عوام نے بھی ہزار ملین روپے اقساط واپس کرکے عہد نبھایا۔ خوشی ہے کہ عوام کے کسی کام آسکی، لوگوں کی دعائیں میرا اثاثہ ہیں۔ ایک کروڑ گھر بنانے کا دعو یٰ فائلوں سے باہر نہ نکل سکا۔ اپنی چھت،اپنا گھر پراجیکٹ کے لئے 15 لاکھ رجسٹریشن اور 7 لاکھ درخواستیں آچکی ہے۔ اب لوگوں کو اعتبار ہے کہ میرٹ پر لون ملے گا۔حیران ہوں ایک دن قرضہ ملا اور تین ہفتے بعد گھر بن رہا ہوتا ہے۔ ہم نے بغیر دعویٰ کیے ہزاروں گھر بنا دیئے۔ ریاست کو ماں کا قرار ادا کرنا چاہیے۔میرے لیے گورننس کا ماڈل یہ ہے کہ لوگوں کے گھروں پر دستک دیکر سروسز مہیا کی جائیں۔میں نے آئی جی صاحب کو کہا ہے کہ لوگوں کی داد رسی کے لئے موبائل پولیس اسٹیشن لانچ کریں۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بند کی جانے والے فری ادویات اب دوبارہ ملی رہی ہیں۔ ہارٹ، کینسر،ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے مریضوں کو گھر کی دہلیز پر ادویات مل رہی ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس مریض بچوں کو بھی گھر کی دہلیز پر ادویات دے رہے ہیں۔ پنجاب بھر میں کلینک آن ویلز گھر کی دہلیزپر علاج کی سہولتیں فراہم کررہے ہیں۔ ریاست اور عوام درمیان اعتماد کی کمی کو پورا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔لوگوں نے زندگی بھر کمائی کرکے یا زیور بیچ کر پلاٹ لیے۔بلا سود قرضہ ملاتو گھر بنا لیا۔جن کے پاس زمین ہے نہ گھر ان کے لئے اپنی زمین، اپنا گھر سکیم لارہے ہیں۔پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اپلائی کرنے والے ہرفرد کو میرٹ پر قرضے ملے۔لاہور کو پنجاب سمجھنے کی بات غلط ہے ہر ضلع میں اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت مکان بن رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں مزید گھر بنانا چاہتی ہوں۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت سالانہ ڈیڑھ لاکھ گھر بنانا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اوروسائل دے تو سب عوام پر نچھاور کر دیں۔عوامی فیڈ بیک سے آگاہ کرنے پر امجد حفیظ اور ایس ایم یوکا شکریہ ادا کرتی ہوں۔






