پنجاب میں دریاؤں پر تمام ہاؤسنگ سکیمیں محکمہ ایریگیشن کے این او سی کے بغیر بنائی گئیں،کھادر ایریا غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ

لاہور(راجا محبوب صابر،بلدیات ٹائمز)پنجاب میں دریاؤں کے ساتھ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز بغیر محکمہ انہار کے این او سی کے بنائی گئی ہیں۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ،ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے ایکٹ اور ماسٹر پلان میں بھی کھادر ایریا میں ڈویلپمنٹ اور آبادی کاری کی اجازت نہیں۔محکمہ ایریگیشن کے 1983 کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں محکموں کو اس کا پابند کیا گیا ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ سکیم کی منظوری سے قبل فلڈ ایریا نہ ہونے کے حوالے سے محکمہ انہار سے این او سی لیا جائے گا۔لیکن پنجاب کے کسی بلدیاتی ادارے، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز یا روڈا وغیرہ نہ ہاؤسنگ سکیم منظور کرتے وقت محکمہ انہار سے این او سی نہیں لیا ہے۔جس کی وجہ سے منظورشدہ ہاؤسنگ سکیمیں بھی غیر قانونی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے محکمہ ایری گیشن کے نوٹیفکیشن کے برعکس دریائے راوی کے ساتھ ہاؤسنگ سکیموں، آباد کاری،ڈویلپمنٹ اور نیا لاہور بنانے کے حوالے سے آئیڈیل قرار دے دیا۔روڈا بننے سے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام تو ممکن نہ ہو سکی تاہم کرپشن اور لاقانونیت میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ بااثر ریٹائرڈ افسران کی فوج ظفر موج بھی ہے۔ماضی میں ایل ڈی اے اور بلدیہ عظمٰی لاہور، سٹی گورنمنٹ و ٹاؤنز میں بلڈنگ کنٹرول کے تنازعہ کی وجہ سے بھی دریا کے ساتھ ہاؤسنگ سکیموں،انڈسٹریل، کمرشل و رہائشی کا پھیلاؤ ہوا اور لینڈ مافیا نے متعلقہ اداروں میں تنازعہ اور کوآرڈینیشن کے فقدان کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔1910 میں صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سابق کمشنر لاہور خسرو پرویز نے کھادر ایریا کا باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کیا۔ڈی سی او سجاد بھٹہ نےتفصیلی سروے کے بعد خسرہ نمبروں کے ساتھ گزٹ نوٹیفکیشن کیا اور کھادر ایریا میں ہر قسم کی تعمیرات پر پابندی لگا دی گئی اس کے باوجود غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام ممکن نہ ہو سکی اور محکمہ انہار،محکمہ ہاؤسنگ، محکمہ بلدیات، محکمہ ماحولیات، ڈویژنل،ضلعی انتظامیہ سمیت کسی شہری ادارے نے اپنا کردار ادا نہ کیا۔کوآرڈینیشن کا فقدان بڑی وجہ ہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے برعکس ایل ڈی اے نے اپنی حدود کولاہور ڈویژن تک توسیع دے دی اور ہاؤسنگ سکیموں، لینڈ سب ڈویژن، کنورژن،کمرشلائزیشن ماسٹر پلان کے اختیارات سلب کر لئے لیکن لاہور کے دیگر اضلاع قصور ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ میں اپنے دفاتر فعال نہ کئے نہ ہی انفورسمنٹ کا کوئی ٹھوس نظام واضح کیا گیا۔لینڈ مافیا کو اس صورتحال میں کھل کے غیر قانونی سرگرمیوں کا موقع ملا۔دریاؤں کے رقبہ پر پہلے رہائشی تعمیرات شروع ہوئیں پھر کمرشل اب اب لاتعداد انڈسٹریل زونز بن چکے ہیں۔جن کو واسا،لیسکو،سوئی گیس سمیت دیگر اداروں نے کنکشنز بھی دیئے بلکہ سرکار اداروں نے ڈویلپمنٹ بھی کر کے دی ہے۔لاہور ڈویژن کا ماسٹر پلان ختم ہو چکا ہے۔ایل ڈی اے نے نیا ماسٹر پلان دیا نہ پرانے ماسٹر پلان پر عملدرآمد کروایا ہے۔غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف آپریشن بھی کئی سال سے زیر التواء ہے۔بلدیاتی اداروں کے لئے بھی ماسٹر پلانز تیار کرنے کی مدت ختم ہو چکی ہے۔جو صرف وزیر بلدیات اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کی میٹنگز تک محدود ہیں۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان سے کسی بھی ہاؤسنگ سکیم کی منظوری سے قبل این او سی نہیں لیا گیا۔یہ بات بھی اہم ہے کہ لاہور ڈویژن میں سینکڑوں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز بنیں لیکن لاکھوں لوگوں کو فراڈ سے بچانے کے لئے ایل ڈی اے نے آگاہی فراہم نہیں کی جس کی اشد ضرورت تھی۔روڈا نے ازخود نوٹیفکیشن کر کے بلدیہ عظمٰی لاہور اور ایل ڈی اے کے کنٹرولڈ ایریا پر قبضہ کر لیا۔روڈا کا منصوبہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف دور میں شروع ہوا تھا جنھوں نے سابق چیئرمین پی اینڈ ڈی عرفان الٰہی کو منصوبے کا تخمینہ لاگت تیار کرنے کا حکم دیا۔سابق وزیراعظم عمران خان نے اس منصوبے کو پروان چڑھایا جبکہ موجودہ حکومت نے بھی اس منصوبے پر کام جاری رکھا۔

جواب دیں

Back to top button