وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 51ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دریائے سندھ پر ایک نئے پل کی تعمیر کی منظوری دے دی، جو سکھر، روہڑی اور ملحقہ علاقوں کے درمیان نیا رابطہ فراہم کرے گا اور موجودہ راستوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرے گا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزراء؛ سید ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری ٹو سی ایم آغا واصف عباس، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو خالد حیدر شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری قانون اور دیگر حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے اہم انفراسٹرکچر منصوبوں اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کلیدی اصلاحات کی بھی منظوری دی۔
نیا سکھر–روہڑی پل:
صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سکھر اور روہڑی ایک مربوط شہری اور معاشی راہداری بن چکے ہیں، جہاں روہڑی، صالح پٹ اور پنو عاقل کے تقریباً 70 فیصد مکین روزگار، تعلیم، صحت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سکھر جاتے ہیں۔ فی الحال مرکزی گزرگاہ لینس ڈاؤن پل ہے، جبکہ سکھر بیراج بھی معاونت کرتا ہے۔ تاہم مرمت کے باعث سکھر بیراج کم از کم 2027ء تک عوامی آمدورفت کے لیے بند رہے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ 30 ہزار سے زائد گاڑیاں لینس ڈاؤن پل استعمال کرتی ہیں۔ اس کی تاریخی حیثیت اور پرانے ڈھانچے کی وجہ سے بھاری ٹریفک خصوصاً این فائیو اور ایم فائیو جیسی شاہراہوں کی طرف جانے والی کو اس پل پر جانے کی اجازت نہیں۔ اس صورتحال کے باعث رش کے اوقات میں شدید دباؤ اور ٹریفک جام رہتا ہے، جس سے ہنگامی طبی سہولیات اور فائر بریگیڈ جیسی خدمات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے نئے سکھر–روہڑی پل منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فیسلٹی (پی ڈی ایف) کی منظوری دی تاکہ ماہر مشیروں کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔ یہ منصوبہ سندھ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت پی پی پی ماڈل کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ یہ پل بکھر جزیرے کے شمال میں تقریباً 1.5 کلومیٹر طویل، کثیر لین (ملٹی لین) ہوگا، جس میں بھاری تجارتی گاڑیوں کے لیے گنجائش اور پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستے شامل ہوں گے۔
شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے میں پیش رفت:
پی پی پی بورڈ نے 39 کلومیٹر طویل شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے کا جائزہ لیا، جو اس وقت 88.2 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ اسے اپریل 2026 تک مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ اس کے علاوہ، سموں گوٹھ کے قریب 4.5 کلومیٹر بلند حصے پر شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور 25 سالہ دیکھ بھال کی منظوری بھی دی گئی، تاکہ سیکیورٹی اور محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔
کاٹھوڑ انٹرچینج:
پی پی پی بورڈ نے کاٹھوڑ انٹرچینج کے فزیبلٹی اسٹڈی اور تفصیلی ڈیزائن کے معاہدے کی منظوری دی، جس کا مقصد ایکسپریس وے کے اختتامی مقام پر بہتر رابطہ فراہم کرنا ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی میں اہم اصلاحات
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) نظام کو زیادہ شفاف اور قابلِ سرمایہ کاری بنانے کے لیے کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی۔پی پی پی بورڈ نے انفراسٹرکچر منصوبوں میں غیر معمولی بولیوں (abnormal bids) کی جانچ کے لیے نئے قواعد منظور کیے، جن کے تحت تخمینہ لاگت سے 15 فیصد زیادہ یا کم بولیوں کو مسترد کر دیا جائے گا تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔ اسی طرح، نجی شعبے کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبوں (unsolicited proposals) کے لیے بھی باقاعدہ طریقہ کار منظور کیا گیا۔ اس میں ’رائٹ آف فرسٹ ریفیوزل‘ (ROFR) کا نظام شامل ہے، جس کے تحت اگر ابتدائی تجویز دینے والا سب سے کم بولی دہندہ نہ بنے، مگر اس کی بولی جیتنے والی بولی سے 20 فیصد سے زیادہ نہ ہو، تو وہ یا تو جیتنے والی بولی کے برابر آ سکتا ہے یا منصوبے کی تیاری کے اخراجات کی واپسی حاصل کر سکتا ہے (زیادہ سے زیادہ 10 کروڑ روپے یا کل لاگت کا 1 فیصد جو کم ہو)۔ ان اقدامات کا مقصد شفافیت بڑھانا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور سندھ میں پائیدار انفراسٹرکچر ترقی کو یقینی بنانا ہے۔






