*سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں بلڈنگ کنٹرول ریگولیشز 2023 میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی*

چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی زیر صدارت سی ڈی اے بورڈ کا سال 2026 کا دسواں اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں ممبر ایڈمن، ممبر فنانس و ممبر پلاننگ، ممبر اسٹیٹ، ، ممبر بلڈنگ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد علی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ممبر بورڈ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں بلڈنگ کنٹرول ریگولیشز 2023 میں ترامیم کی منظوری دی گئی ۔اس ضمن میں اسلام آباد میں ہائی رائز کمرشل بلڈنگز کیلئے پارکنگ کی ضروریات کو معقول بنانا کا فیصلہ کیا گیا۔اس فیصلے کے تحت نئے طے شدہ معیار یعنی 1000 مربع فٹ پر ایک کار کی پارکنگ کی جگہ مختص کرنے کی اجازت ہوگی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔اس حوالے سے پاکستان کے دیگر شہروں میں قائم ریگولیٹری اتھارٹیوں کے فریم ورک کا جائزہ لینے کے بعد اس پارکنگ کی جگہ کے معیار کو ان کے برابر لایا گیا۔جبکہ اس سے قبل کمرشل بلڈنگز کی منظوری کیلئے 750 مربع فٹ پر ایک کار پارک کرنے کی جگہ فراہم کرنا لازمی تھا، بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس سلسلے میں بلڈرز اور ڈیویلپرز کو کمرشل بلڈنگز کی تعمیر کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔بعض صورتوں میں زیر زمین کھدائی تقریباً 6 بیسمنٹس تک کی تعمیر جبکہ زمین کی ساخت اور سیفٹی کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا تھا۔ پارکنگ کی جگہ مختص 1000 مربع فٹ کی تجویز اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، بزنس کمیونٹی ، بلڈرز، ڈیولپرز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے درپیش مشکلات کے حل کے حوالے سے بھی سی ڈی اے کو متعدد بار دی گئی ۔پارکنگ کی جگہ کو 1000 مربع فٹ تک بڑھانے کے فیصلہ کا اطلاق آج سے اور سی ڈی اے کی آئندہ اوپن آکشن جسکا انعقاد 4، 5 اور 6 اگست سمیت مستقبل میں ہونے والی اوپن آکشنز پر لاگو ہوگا۔اس فیصلے کے تحت یہ سہولت آمدہ اوپن آکشن میں نیلام ہونے والے تمام کمرشل پلاٹس کو حاصل ہوگی اور اس فیصلے کے مطابق آکشن کے شرائط و ضوابط میں بھی تبدیلی لائی جائیگی۔اس فیصلے سے اسلام آباد شہر میں بلڈنگز پلان کی منظوری میں آسانی اور کنسٹرکشن سے متعلق سرگرمیوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔سی ڈی اے شہر کی تعمیر و ترقی، بہتر منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کیلئے تمام سہولیات کو یقینی بنائیگا، چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف

جواب دیں

Back to top button