وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی حاجی پارک راج گڑھ آمد،لاہورڈویلپمنٹ پائلٹ پراجیکٹ کا جائزہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف حاجی پارک راج گڑھ پہنچ گئیں اور یونین کونسل 53میں لاہور ڈویلپمنٹ ماڈل کے پائلٹ پراجیکٹ کاجائزہ لیا۔لاہور ڈویلپمنٹ ماڈل کے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت کنکریٹ، کوبل سٹون، ٹف ٹائل اور کلرڈ فلور بنائے گئے۔ وزیراعلی مریم نوازشریف نے ماڈل گلیوں کا معائنہ کیا اور معیار کا جائزہ لیا۔

یوسی 53کی ماڈل سٹریٹ میں سٹریٹ لائٹس، گھرو ں کی نمبرنگ او رنام پلیٹ لگائی گئیں۔ماڈل سٹریٹ میں زیر زمین سیوریج کا نظام بھی ری ویمپ کیاگیا، ماڈل سٹریٹ کے مین ہول پرچوری سے بچانے کے لئے خصوصی طورپر پلاسٹک کے بنائے گئے ڈھکن لگائے گئے۔ڈپٹی کمشنر لاہور رافعہ حیدر نے لاہور ڈویلپمنٹ پائلٹ پراجیکٹ کے بار ے میں بریفنگ دی۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے ہدایت کی کہ بارش کے بعد نئی بننے والی ماڈل سٹریٹ میں دیر تک پانی نہیں کھڑا ہونا چاہیے اورمختلف ٹاؤنز کے لئے الگ کلر کی ٹائل لگانے کی تجویز پر اتفاق کیاگیا۔وزیراعلی مریم نوازشریف حفاظتی ٹینٹ کھلوا کر لوگوں کے گھروں کی طرف آ گئیں۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے چھتوں پر کھڑ ے بچوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور ان کے نعروں کاجواب دیا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے مختلف گھروں میں باری باری جا کر خواتین خانہ سے بات چیت کی او ر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ بعض بزرگ خواتین نے وزیراعلی کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا،وزیراعلی مریم نوازشریف کی مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ بچوں نے وزیراعلی مریم نوازشریف پر پھول نچھاور کئے۔ایک خاتون نے اپنے شوہرکیلئے گھرپرملنے والی ہارٹ کی میڈیسن کا پیکٹ دکھایا اور دعائیں دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے خواتین، بچوں اور کارکنوں کے ساتھ تصویریں اور سیلفیاں بنوائیں۔ بزرگ خاتون نے وزیراعلی مریم نوازشریف کو خوبصورت گلدستہ بھی پیش کیا۔خاتون خانہ نے وزیراعلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ا ٓپ بہت محنت کررہی ہیں،آپ کو دیکھنے کے لئے دیر سے منتظر کھڑے ہیں۔ایک شہری نے کہا کہ مریم نوازشریف نے پہلے 100دن میں ہی کمال کردکھایا۔

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے بتایا کہ سکیورٹی کو ہٹا کر اپنے لوگوں سے ملنے کے لئے آئی ہوں -سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق، ممبر صوبائی اسمبلی میاں مرغوب احمد، چیف سیکرٹری،سیکرٹری بلدیات، پرنسپل سیکرٹری ساجد ظفر ڈال، کمشنر لاہور دیگر افسران او ر اچانک جمع ہونے والے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

جواب دیں

Back to top button