کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے فارمرز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایف ڈی او) کے اشتراک اور فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کے واٹر ریسورس اکاؤنٹیبلٹی ان پاکستان – کیٹالٹک فنڈ (ڈبلیو آر اے پی-سی ایف) کی معاونت سے جمعرات کے روز اسلام آباد میں پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حل کیلئے ویٹ لینڈز کے قیام کے حوالے سے افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں، سی ڈی اے اور ایف ڈی او نے شہری پانی کے انتظام و صفائی کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق حل کے طور پر ویٹ لینڈز کو فروغ دینے میں شراکت داری کو رسمی شکل دینے کیلئے ایم او یو پر دستخط کئے۔ اس اقدام کے تحت دو ویٹ لینڈز قائم کیے جائیں گے، ایک ارتھ ماڈل جو نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کی جانب سے راول ٹاؤن میں ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ پانی کورنگ نالے میں پہنچنے سے پہلے گندے پانی کا ٹریٹمنٹ کیا جاسکے اور دوسرا ایک ہائبرڈ ویٹ لینڈ جو پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی جانب سے سیکٹر F-7 میں تیار کیا گیا ہے

تاکہ شہریوں کو گندے پانی کے انتظام کے حل کو عملی طور پر دکھایا جا سکے۔ایم او یو کی تقریب میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھوا، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حافظ، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، معروف ماہر ماحولیات رضوان محبوب، ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد واٹر سردار خان زمری، برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ سیم والڈاک، او پی ایم کے کنٹری ڈائریکٹر رؤف گنڈاپور اور کلائمیٹ اسپیشلسٹ بی ایچ سی اسلام آباد فاطمہ خالد نے شرکت کی جبکہ آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ (او پی ایم)، وفاقی وزارت برائے آبی وسائل، اور ایف ڈی او کے نمائندوں نے بھی تقریب میں حصہ لیا اور اس منصوبے کی نیشنل ایڈپڈیشن پلان (این اے پی) کے ساتھ ہم آہنگی اور پاکستان کے دیگر شہری مراکز میں بھی اس طرح کے اقدامات کو اپنانے کی صلاحیت کو سراہا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے اربن پلاننگ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے دیرپا طریقوں کو اپنانے کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ویٹ لینڈز ایک مؤثر اور عملی حل ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے سی ڈی اے کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات و منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں، انہوں نے خصوصی طور پر نشاندہی کی کہ سی ڈی اے زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کیلئے اسلام آباد بھر میں 100 ریچارج ایبل ویلز تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے 10 زیر زمین واٹر ٹینک بنائے جائیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے مجموعی طور پر شہر بھر میں 11 ویٹ لینڈز تیار کرے گذ تاکہ قدرتی نالوں سے آلودہ پانی کو سائنسی طریقے سے صاف کیا جاسکے، جس سے پانی کو صاف کرنے اور سیلابوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ سیم والڈاک نے اس طرح کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ویٹ لینڈز جیسے فطرت پر مبنی حل پاکستان کے موسمیاتی اور آبی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مرکزی اہمیت کے حامل ہیں اور انہوں نے اس میدان میں مشترکہ کارروائی کیلئے ایف سی ڈی او کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔واضح یہ منصوبہ”اسکیلنگ اپ ویٹ لینڈز ماڈلز ود گراؤنڈ واٹر ری چارج اینڈ رین واٹر ہارویسٹنگ فار واٹر سیکورٹی اینڈ اربن ریزیلینس ان اسلام آباد” کے عنوان سے ایف سی ڈی او کے تعاون سے چلنے والے ریپ پروگرام کے تحت شروع کیا جارہا ہے اور اسکا مقصد دارالحکومت اسلام آباد کے ماحولیاتی چیلنج کو حل کرنا ہے — گندا پانی جو قدرتی نالوں اور آبی ذخائر کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہ ویٹ لینڈز قابل توسیع، مؤثر اور فطرت پر مبنی حل ہیں جو پانی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں، زیر زمین پانی کی مقدار کو بھی بڑھا سکتے ہیں اور اسکے ساتھ شہری سیلاب کے اثرات کو کم کرسکتے ہیں۔اس منصوبے کیلئے 88.35 ملین روپے کی فنڈنگ مختص کی گئی ہے جو اگست 2025 سے مارچ 2026 تک جاری رہے گا جس سے راول ٹاؤن اور سیکٹر F-7 کے رہائشیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، جبکہ اسلام آباد کے روال ڈیم کی کیچمنٹ کو بالواسطہ طور پر بہتر بناہا جا سکے گا اور یہ منصوبہ پاکستان کے دیگر شہروں کیلئے بھی ایک بہترین ماڈل ثابت ہوگا۔






