وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا الیکٹروبس فیزٹوکی افتتاحی تقریب سے خطاب،اہم اعلانات، لاہورڈویژن کیلئے 500الیکٹروبسوں کا بھی اعلان

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے الیکٹروبس فیزٹوکی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا اوراہم اعلانات کیے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے لاہور میں دسمبر تک مزید 70الیکٹروبسیں لانے کااعلان کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے لاہورڈویژن کیلئے 500الیکٹروبسوں کا بھی اعلان کیا۔پنجاب بھر میں سیوریج اورڈرینج کا نیا نظام لانے اورگوجرانوالہ اورفیصل آباد میں نومبر تک میٹروبس پراجیکٹ شروع کرنے کے اعلانات بھی کیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے الیکٹروبس فیز ٹو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ننکانہ صاحب،قصور اورشیخوپورہ میں الیکٹروبس چلائی جائے گی۔لاہور میرا،نوازشریف اورشہبازشریف کا گھر ہے،خوبصورت اور تاریخی شہر سے تعلق باعث فخر ہے۔ لاہور کے چپے چپے پرنواز شریف اور شہباز شریف کی خدمت اور محنت کے نشان نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی میٹرو بنی تو لاہور میں بنی، پاکستان کی پہلی اورنج لائن بنی تو لاہور میں بنی۔ ٹرائل کے لیے پہلی الیکٹروبس اورآے آر ٹی بھی لاہور لے کر آئے۔ماضی میں تمام وسائل لاہور جیسے بڑے شہروں تک محدود رہتے تھے،ہم نے روایت توڑی۔میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ کہیں ترقی لاہور سے شروع ہوکر لاہورمیں ختم ہوجاتی ہے۔ہم الیکٹر وبس پنجاب کے کونے کونے تک پہنچا رہے ہیں۔پنجاب میں آنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ ہم دوسرے ملک میں آگئے۔

دوسرے صوبوں کے لوگ کہتے ہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ ہمیں دے دیں،میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔لاہور کے بعد آج الیکٹروبس میانوالی،وزیر آباد،سرگودھا اورساہیوال کی سڑکوں پر بھی رواں دواں ہیں۔میانوالی،وزیرآباد،سرگودھا اورساہیوال میں الیکٹروبسوں کے مسافروں کی تعداد ہماری توقع سے زیاد ہ ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ جب اپنے لئے برانڈ نیو اوراچھی ایئر کنڈیشنڈ گاڑی خریدتے ہیں تو عوام کیلئے کیوں نہیں۔میری گاڑی میں وائی فائی اورسی سی ٹی وی نہیں،عوام کی گاڑی میں وائی فائی اورسی سی ٹی وی مانیٹرنگ ہے۔میری گاڑی میں موبائل چارجنگ پورٹ نہیں،عوام کی گاڑی میں چارجنگ پورٹ بھی موجود ہے۔ سپیشل افراد کیلئے ریمپ الیکٹروبس میں خود کار طریقے سے کھل جاتا ہے اوروہیل چیئر آسانی سے اوپر آجاتی ہے۔ایک معذور اورنادار خاتون الیکٹروبس پر سوار ہونا چاہتی تھی،کنڈیکٹر نے مدد کی،انہیں وہیل چیئربھی مہیا کردی گئی۔معذورخاتون نے کہا کہ ”ریڑ ریڑ کے گوڈے زخمی ہوگئے،مریم نوازنے میرے واستے نوی ریڑھی پیج دتی“۔الیکٹروبس میں سواری کیلئے سپیشل افراد کو وہیل چیئروغیرہ بھی مہیاکریں گے۔ ہر ایک کے پاس سواری خریدنے کیلئے وسا ئل نہیں ہوتے،ان لوگوں کیلئے الیکٹروبس دے رہے ہیں۔بہت سارے شہروں میں سرکاری ٹرانسپورٹ کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا تھا،ہم انہیں بھی بسیں دے رہے ہیں۔ میانوالی میں ایک فرداقتدار کی سب سے بڑی کرسی تک پہنچا لیکن میانوالی ٹرانسپورٹ سسٹم سے محروم رہا۔میانوالی کے لوگ الیکٹروبس پر پھول پھینکتے اورڈرائیور کو مٹھائی کھلاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ مریم نوازکی بس آگئی۔الیکٹرک بس کا کرایہ 20روپے ہے،بزرگ خواتین،طلبااورسپیشل افراد کیلئے فری ہے۔ٹھوکر سے رائیونڈ تک کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں تھی اب بس رائیونڈ سے ٹھوکر کے راستے جلو موڑ تک جائے گی۔ میں پنجاب کو محفوظ بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہوں۔ پنجاب بھر میں بلا تفریق تمام اضلاع میں الحمدللہ 90 ہزار گھر بن رہے ہیں۔اپنی چھت اپنا گھر کے تحت نومبر سے پہلے ایک لاکھ گھر کا ہدف حاصل کرلیں گے اور چار سے پانچ لاکھ افراد کو مزید گھر ملیں گے۔لوگوں کو میلوں دور سے پانی لینے آنا پڑتا تھا،اب ہم پینے کا صاف پانی ان کے گھروں تک پہنچائیں گے۔بارش کے پانی کو سٹور کرنے کیلئے انڈرگراؤنڈواٹر ٹینک بنا رہے ہیں۔ستھرا پنجاب کے ڈیڑھ لاکھ ورکر پنجاب کے کونے کونے کوچمکا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سیلاب میں ستھرا پنجاب کے ورکروں نے دن رات محنت کی۔پنجاب میں 20ہزار کلو میٹر سڑکیں کی تعمیرومرمت مکمل ہوچکی ہیں،ہر گاؤں میں 25کلومیٹرتک سڑکیں بنارہے ہیں۔پنجاب میں ڈھائی ہزار گاؤں کوہم مثالی گاؤں بنانے جا رہے ہیں،زیادہ تعدادساؤتھ پنجاب کے دیہات کی ہے۔دیہات میں پارکس،صفائی،سیوریج اورپکی گلیاں بنائیں گے۔5سال ملے تو پنجاب کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کا بہترین صوبہ بنائیں گے۔ 2ملین مزدورں کو راشن کارڈ کے ذریعے 3ہزار روپے ماہانہ دے رہے ہیں۔لاہور میں سموگ سے بچاؤ کیلئے سموگ گن جگہ جگہ پانی کا چھڑکاؤ کررہی ہے۔نوازشریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں ہر پیچیدہ بیماری کے علاج کیلئے ہسپتال بنیں گے۔پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا تو تاریخ کی سب سے بڑی خدمت کی گئی۔سارے وزیر سیلاب متاثرین کے درمیان موجود تھے،ان کو کھانا کھلایا تو خود کھایا۔ڈرون امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو سیلاب متاثرہ علاقوں سے نکالاگیا۔پنجاب میں ساڑھے 11لاکھ سیلاب متاثرین کافوری علاج کیاگیا،انسولین پہنچائی گئی۔سیلاب زدہ علاقوں کے اندر تقریبا پونے دو سو لوگوں کو سانپ کے کاٹنے کی ویکسی نیشن لگائی۔سی سی ڈی نے پنجاب میں جرائم پیشہ افراد کی روح فنا کردی،26اضلاع میں کرائم زیرو ہوچکا ہے۔جرائم پیشہ افراد سے اب آہنی ہاتھ سے نمٹنیں گے،پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بنا نا چاہتے ہیں۔جب پنجاب میں آفت آئی تو ایک صوبوں کے لوگوں نے بلا مقصدتنقید کی۔پاکستان ہمار افخر،ہمارا مان اورہماری پگ ہے لیکن پنجاب کے عوام کے خلاف بات نہیں سنیں گے۔جب کسی صوبے کے عوام پر مشکل آئے تو اس پر الزام تراشی بہتر عمل نہیں۔خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ سے سینکڑوں اموات ہوئیں تو بیرون ملک سے وزیراعلیٰ گنڈا پور کو فون کر کے امداد کی پیشکش کی۔کے پی کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پنجاب کی طرف سے امداد کی پیشکش پر شکریہ ادا کیا۔زرداری میرے محترم بزرگ اوربلاول میرا چھوٹا بھائی ہے۔ پنجاب کے عوام پر دکھ کی گھڑی آئی تو تین تین پریس کانفرنس کر کے مذاق اڑیاگیا۔جب عوام کا پیسہ عوام کیلئے موجود ہے توکسی سے کیو ں مانگیں۔بی آئی ایس پی کی بات کر نے والے نہیں جانتے تو مجھے غریب لوگوں کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کا ڈیٹا چاہیے۔پنجاب نے اپنے پیسے سے نہرے نکالنی تھیں،سی سی آئی میٹنگ میں پنجاب کے عوام کامقدمہ لڑا۔لوگوں کو گمراہ کرکے پنجاب کے خلاف سڑکوں پر نکالاگیا۔پنجاب کی وزیراعلیٰ پنجاب کی بات نہیں کرے گی تو کون کرے گا۔عوام تکلیف میں ہواورکوئی تنقید کرے تو مریم نوازضرور بولے گی۔یہ تین تین پریس کانفرنس کرتے رہے میں مصلحتاچپ رہی،لیکن پنجاب کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔اب بات کریں گے تو زوردار جواب ملے گا۔پنجاب میں بسنے والے کسی بھی شخص سے زیادتی نہیں ہونے دوں گی۔واک آؤٹ کر کے کہتے ہے مریم نوازمعافی مانگے،معافی کبھی نہیں مانگوں گی۔قومیں عزت نفس سے جیتی ہے،ہمیں پنجاب کے ذرے ذرے سے پیار ہے۔عوام کی عزت نفس کی حفاظت میری ذمہ داری ہے،پنجاب کے عوام پر بات کرنے سے پہلے اب سو بار سوچنا۔

جواب دیں

Back to top button