*پنجاب میں پہلی مرتبہ سپیشل ایجوکیشن کے طلبہ کی ہیلتھ سکریننگ کا جامع پروگرام شروع،مریم نواز کو بریفنگ*

وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے سپیشل بچوں کے لئے سپیشل اقدامات کئے ہیں -پنجاب میں پہلی مرتبہ سپیشل ایجوکیشن کے طلبہ کی ہیلتھ سکریننگ کا جامع پروگرام شروع ہوچکاہے-وزیراعلی مریم نوازشریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں 35600 سے زائد سپیشل بچوں کی ہیلتھ سکریننگ کی گئی-صوبہ بھر کے سپیشل ایجوکیشن کے مراکز میں زیر تعلیم 34ہزار سے زائد طلبہ کا علاج معالجہ کیا گیا، آئی ٹیسٹنگ، دانتوں کا معائنہ اور دیگر امراض کا علاج کیاگیاہے-سپیشل ایجوکیشن سنٹرز میں 20ہزار طلبہ کا موقع پر ہی علاج معالجہ کیاگیا- مراکز صحت، تحصیل ہیڈ کوارٹر او رڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالو ں میں 9ہزارسے زائد طلبہ جبکہ بڑے شہرو ں کے ہسپتالوں میں 5ہزار سے زائد طلبہ کا علاج معالجہ کیاگیاہے-پنجاب بھر میں سپیشل طلبہ کے داخلوں کے لئے ڈور ٹو ڈور مہم کامیابی سے ہمکنار ہوچکی ہے،جس کے دوران 5ہزار سے زائد نئے داخلے ہوئے ہیں -سی ایم پنجاب خود مختار پروگرام کے تحت سپیشل ایجوکیشن مراکز میں 2خصوصی کورسز کا اجراء کیا گیا ہے- سپیشل ایجوکیشن مراکز میں ڈیزائن اینڈ یو ٹیوب،کانٹینٹ کری ایشن، سوشل میڈیا اور ای کامرس کے کورسزبھی کرائے جا رہے ہیں -سپیشل ایجوکیشن مراکز میں 10سٹیٹ آف دی آرٹ نئی کمپیوٹر لیبز کی منظوری دے دی گئی- سپیشل ایجوکیشن مراکزمیں 8موجودہ لیبز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے-سی ایم پنجاب خود مختارپروگرام کے تحت 18ماسٹر ٹرینرزاور1760طلبہ کی ٹریننگ جاری ہے-ٹریننگ کے دوران پہلی 50پوزیشنز حاصل کرنے والے سپیشل طلبہ کو لیپ ٹاپ دئیے جائیں گے-لاہور،گوجرانوالہ،ملتان اور ڈی جی خان ڈویژن کے 142سپیشل ایجوکیشن مراکز میں کیمرے لگیں گے-ملتان اورلاہور سمیت 4ڈویژن میں سپیشل ایجوکیشن مراکز میں 989کیمرے نصب ہو چکے ہیں -دوسرے فیز میں بہاولپور، فیصل آباد،راولپنڈی، سرگودھا اور ساہیوال کے 158سپیشل انسٹی ٹیوٹس میں اگلے مئی تک 4381کیمرے نصب ہوں گے-سپیشل ایجوکیشن مراکز میں خصوصی طلبہ کے تحفظ کے لئے نصب کیمروں کولاہور میں قائم سنٹرل سرویلنس روم سے منسلک کیا جائے گا- سپیشل ایجوکیشن مراکز میں کیمرہ ریکارڈنگ سے علاج اور بہتری کے لئے طلبہ کے رویوں کا تجزیہ بھی کیا جائے گا- پنجاب بھر کے سپیشل ایجوکیشن مراکز میں خصوصی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے نومبرتک3450کیمرے انسٹال کئے جائیں گے-

جواب دیں

Back to top button