وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کی ملاقات،طلباء اور طالبات کو لیپ ٹاپ کا تحفہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفدنے ملاقات کی۔ وفد میں بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات بھی شامل تھے۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے طلباء اور طالبات نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اہل پنجاب کی طرف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ کا تحفہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وفد میں شامل تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان بھی کیا۔اس موقع پر طلباء اور طالبات کی طرف سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو بلوچی چادرپہنائی گئی۔ طلباء و طالبات کے وفد نے دورہ لاہوراور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ملاقات کو یادگار لمحہ قرار دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بلوچ طلباء اور طالبات کے سوالات کے جواب بھی دیئے اور نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کی آمد پر خوشی کا اظہارکیا۔ طلباء کے وفد نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے عوام دوست پراجیکٹس کو تالیاں بجا کرخراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں محروم معیشت افراد کیلئے خصوصی ہیلپ لائن شروع کررہے ہیں تاکہ بیماری علاج وغیرہ کیلئے فوری مدد کی جاسکے۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کی آمد خوشی کا باعث ہے۔ طلباء پاکستان کے علمبردار ہیں اور مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے۔میرا پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننا پاکستان کی تمام بیٹیوں کا اعزاز ہے۔پنجاب میں دیگر صوبوں سے روزگار اور بہتر مواقع کی تلاش میں آتے ہیں، ہم نے سب کیلئے دل کے دروازے کھولے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہسپتالوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سب صوبوں کے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ پنجاب کے چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام سے دوسرے صوبوں سے آنے والے بچے بھی مستفید ہوئے۔ہزار بیڈ کا نواز شریف کینسر ہسپتال اس لیے بنایا تاکہ پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر کے لوگ مستفید ہوں۔کبھی سندھی، پنجابی یا کشمیری کا فرق نہیں رکھا، ہم سب پاکستانی ہیں۔

پنجاب اور دیگر صوبوں میں دیگر انفراسٹرکچر اور ترقی کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب کو زیادہ شیئر ملنے کا پروپیگنڈا غلط ہے، ہر صوبے کو شیئر مل رہا ہے۔ پنجاب کے پاس پیسے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں، طلباء کبھی اس بہکاوے میں نہ آئیں۔ پنجاب میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگایا جاتا ہے دوسرے صوبوں سے یہی فرق ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گڈگورننس سے بہتر کوئی سیاست نہیں ہوسکتی۔سیاست پروٹوکول لینے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور محنت کرنے کا کام ہے۔ پنجاب میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کر دیا، ماضی میں یہاں پیسے لیکر کام ہوتے تھے۔ حلفاً کہہ سکتی ہوں کوئی بھی افسر سفارش پرنہیں لگایا۔ وی سی، سیکرٹری، ڈی سی، کمشنر کے پینل انٹرویو کے بعد سلیکشن کی جاتی ہے۔ ماضی میں ہراسانی،ریپ اور قتل کے واقعات تواتر سے ہورہے تھے۔ پنجاب کے آئی جی محنتی اور پروفیشنل آفیسر ہیں،اب کئی شہروں میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پنجاب میں کرائم کی شرح اب 100 سے 30 فی صد پر آ چکی ہے۔ جرم ہو تو24گھنٹے میں ملزم پکڑے جاتے ہیں کرائم کنٹرول کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔اب سڑک پر کوئی ہیلمٹ پہنے بغیر نظر نہیں آتا، بغیر ہیلمٹ حادثے میں بہت نقصان ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے لاہور میں پہلا سیف سٹی بنایا،پورے پنجاب کو سیف سٹی بنا دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کرائم سین پر سب سے پہلے ڈرون پہنچ جاتا ہے، پینک بٹن دبانے پر پولیس فوراًپہنچ جاتی ہے، پنجاب میں اب مائیں بہنیں بیٹیاں محفوظ ہیں۔ پنجاب میں 100 فیصد تعیناتیاں میرٹ پر ہورہی ہیں۔ کیمرے کے ذریعے اب مجرم ہی ٹریک نہیں ہوتے بلکہ کوڑا کرکٹ کی نشاندہی ممکن ہے۔ 25ہزار گھر بنا دیئے پانچ سال میں پانچ لاکھ کا ہدف پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وسائل عطا کیے تاکہ عوام کے مسائل حل کر سکیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج، ٹیسٹ اور ادویات مفت دی جاتی ہیں۔ ماضی میں کینسر کے مریضوں کی ضروری ادویات اور فری میڈیسن بند کر دی گئی، اب پانچ لاکھ مریضوں کو گھر بیٹھے میڈیسن مل رہی ہیں۔ معمولی امراض کے لئے ہسپتال آنے کی ضرورت نہیں،ہزار کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال گاؤں گاؤں جارہے ہیں۔ مراکز صحت کو یورپی معیار کے مطابق مریم نواز ہیلتھ کلینک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔پورے پنجاب میں چند کارڈیالوجی سنٹر تھے، سرگودھا، ساہیوال،مری میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ اور 16اضلاع میں کیتھ لیب بنا دیں۔ لاہور میں ہونے والی صفائی خود بخود نہیں ہورہی بلکہ سال بھر کی محنت کا صلہ ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ فوربز نے بھی”ستھرا پنجاب“ کو سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام قرار دیا۔ڈیڑھ لاکھ ورکر پر مشتمل ستھرا پنجاب کی فورس شہر شہر گاؤں گاؤں صفائی کررہی ہے۔پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل میں پورا پورا ہسپتال مکمل طور پر دھویا جاتا ہے۔روایتی جھاڑوکی بجائے اب مشینوں سے صفائی کرائی جاتی ہے۔ گرین بس کا آغاز چھوٹے شہروں سے کیا،20روپے میں سفر کی بہترین سہولت میسر ہے۔ لاہورکے مختلف مقامات پر وائی فائی مفت میسر ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں درکار ضروری سہولیات فراہم کررہے ہیں، ہر تحصیل میں سنٹر آف ایکسی لینس بنارہے ہیں۔ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ لاہور میں قائم ارلی چائلڈ ہوڈ سنٹر جیسا ادارہ کہیں نہیں ہوگا۔ جنوبی پنجاب میں غذائی قلت کا شکار طلبہ کے لئے اربوں روپے کا سکول میل پروگرام شروع کیا جس سے 11لاکھ داخلے بڑھ گئے۔ بچوں کے لئے لائبریری آن ویل اور سکول آن ویل پراجیکٹ لارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں 15لاکھ مزدورں کو راشن کارڈ دیئے، 50لاکھ مزدوروں کو راشن کارڈ دیں گے۔ 20ہزار کلومیٹر سڑکیں بنادیں، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں میٹرو بس بن رہی ہے۔ جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں، واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ اور واٹر فلٹریشن پلانٹ لارہے ہیں۔ تمام اضلاع میں سیوریج اور ڈرینج کا کام ہورہے، ایک سال میں مسئلہ نہیں رہے گا۔ پنجاب ایئر ایمبولینس سروس شروع کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔ سٹروک پیشنٹ کے لئے سپیشل پروگرام شروع کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو فالج کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ہونہار سکالرشپ پروگرام شروع کیا، 80ہزار بچوں کی فیسیں اب حکومت ادا کررہی ہے۔بہت مضبوط ہوں لیکن سکالرشپ حاصل کرنے والے بچوں کی سٹوری سن کر رونا آجاتا ہے۔اس سال ایک لاکھ بچوں کو لیپ ٹاپ، سکالر شپ اور الیکٹرک بائیک دیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ 2016ء میں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا،2018میں کون لایا سب جانتے ہیں۔ جن کی سیاست کا محور دوسروں کو چور، ڈاکو قرار دینا ہووہ اکانومی کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ مانیٹرنگ اور چیک نہ ہو تو کوئی کام نہیں کرتا، جب تک پوری کوشش نہ کی جائے پراجیکٹ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر سڑک اور بجلی نہیں ہوگی تو لوگ انڈسٹری کیسے اور کیوں لگائیں گے؟ ماضی میں لون لیکر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی، انفراسٹرکچر بنے گا تو ترقی آئے گی۔قرض لیاپیسا اپنے اوپر لگایا یا عوام پر لگایا اسی سے فرق پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان فیصلہ کرے کہ کام کرکے چھوڑنا ہے تو کام ہوجاتے ہیں۔ پیسے نہیں ہیں ورنہ عوام کے لئے اور بہت کچھ کرنے چاہتی ہوں۔ عوام کیلئے پانچ کھرب بھی ہوتو کم لگتے ہیں، عوام کی خدمت کے پراجیکٹ جاری ہیں مگر یہ سب پراجیکٹ کافی نہیں لگتے۔ پنجاب میں بلوچستان کے طلبہ کو ہونہاسکالر شپ اور لیپ ٹاپ دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دانش سکولوں میں بلوچستان کے 260طلبہ پڑھ رہے ہیں جبکہ 1500پڑھ کر جاچکے ہیں۔ پنجاب کے پراجیکٹ میں بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کا حصہ الگ رکھ دیا۔جھوٹے بہکاوے میں نہ آئیں، آپ کا پیسا آپ پر ہی لگنا چاہیے۔ کسی صوبے کو زیادہ پیسے نہیں ملتے، اپنی حکومت سے تہذیب اور تمیز کے ساتھ سوال ضرور پوچھیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ ہم پہلے پاکستانی ہیں، سندھی، بلوچی اور پنجابی بعد میں ہیں، دعاہے جو قدم اٹھے ملک قوم کی فلاح اوربہتری کے لئے اٹھے۔نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد میں مکران سے تعلق رکھنے والی طالبہ نے کہا کہ لاہوراچھا لگا، وزیراعلیٰ مریم نوازشریف سے ملکر خوشی ہوئی۔ ایک طالبہ نے کہا کہ نواز شریف نے بلوچ طلبہ کو سکالر شپ دیئے بعد میں آنے والوں نے بند کر دیئے۔مریم نواز شریف خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کا دل بھی بہت زیادہ خوبصورت ہے۔لاہور کی مہمان نوازی اچھی لگی، یقین نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ سے ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔تربت کی طالبہ نے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ لاہور اتنا اچھا لگا کہ بیان کرنے کے لئے لفظ نہیں۔

جواب دیں

Back to top button