آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ اس نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے جو قرارداد منظور کر رکھی ہے اس پر عملدرآمد کروائے ۔ہم سب کو مل بیٹھ کر کشمیر کے حوالے سے اپنی سوچ کا تعین کرکے ایک ایسی پالیسی بنانی ہوگی جس میں تسلسل قائم رہے ۔وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیریوں کو ان کا حق ملے گا۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری اسٹڈیز میں فرینڈز آف کشمیر کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کی مناسبت سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔اس موقع پر چییرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون ،وزراء حکومت چوہدری رفیق نیر ، محترمہ نبیلہ ایوب ،ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی ،رہنماء مسلم لیگ ن بریگیڈئر (ر) ڈاکٹر محمد خان ،پیپلز پارٹی پختون خواہ کے رہنماء ڈاکٹر سویرا پرکاش اور سابق ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کے علاؤہ سیاسی و سماجی رہنماوں اور نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی
۔تقریب کے میزبان عبد الحمید لون تھے ۔وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آج کا دن ان وعدوں کی یاد دلاتا ہے جو اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے کیا،جبر اور ظلم کی کالی رات ختم نہیں ہو رہی ،ہمیں حقائق کی دنیا میں آنا ہوگا ،5 جنوری ہو یا 5 فروری، یہ وہ دن ہیں جو ہمارے احساس کو بیدار کرتی ہے خس میں ہم کشمیر کے حوالے سے خیالات کا اظہار کر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ جس تحریک میں لوگوں کا خون شامل۔ہو کبھی ناکام نہیں ہو سکتی ،شہیدوں کا خون رنگ لائے گا وہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گا ۔دنیا مضبوط فوج کے سامنے بے بس ہوجاتی ہے، ہماری پاک فوج کی قوت کی وجہ سے مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے ابھر کر سامنے آیا ۔آزاد کشمیر کا مقبوضہ کشمیر سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، مقبوضہ کشمیر کے کشمیری آج بھی ایک جیل میں رہتے ہیں،یہ جو بیس کیمپ کی حکومت ہے جسکا میں وزیر اعظم ہوں اسکا اسل مقصد تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھنا ہے،آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس دور کے تقاضے بہت مختکف ہیں، کشمیریوں پہ جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، غزہ میں جو ظلم ہوا یہ تاریخ کی بدترین مثالیں ہیں ،دنیا ہمیشہ طاقت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ،آپریشن بنیان المرصوص کے بعد کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر اجاگر ہوا .ہمیں پاکستان سے کشمیریوں کی محبت میں کوئی شبہ نہیں کشمیر کے حوالے سے جو پالیسی بننی چاہیے تھی اس میں کچھ کمی رہ گئی ،کشمیر کی ایک اپنی حیثیت ہے، وہ صوبہ نہیں ہے،آزاد کشمیر کا مقبوضہ کشمیر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ،بہادر پاک فوج کا قابض بھارتی فوج سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا،ہماری پاک افواج نے جیسے ہندوستان کو جواب دیا وہ قابل تعریف ہے .کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے کہا کہ آج کا دن حق خودارادیت کے حوالے سے بہت اہم ہے ،اس دور میں وزیراعظم نہرو اس ایشو کو لے کر اقوام متحدہ لے گئے ،پاکستان کے لیے کشمیر ایک نوبل۔کاز ہے،سفارتی فرنٹ پہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لیے اہم ہے ،کشمیریوں کا حق ہے کہ انہیں حق خودارادیت دیا جائے ،کشمیریوں کا حق ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں،پاکستان اور کشمیر یک جان دو قالب ہیں ،انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دل بھی پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں .آزادی کی تحریکوں میں اتار چڑھاو ہوتے رہتے ہیں ،سید علی گیلانی کا نعرہ تھا ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے،بانی پاکستان محمد علی جناح نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔مقررین نے حق خودارادیت پر روشنی ڈالی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے






